Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

محمد بن سلمان سے عالمی ماہرین اقتصاد کی ملاقاتیں ،20ارب ڈالر کا معاہدہ

ریاض.... ولی عہد ، نائب وزیراعظم و سربراہ اقتصادی و ترقیاتی کونسل و سربراہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ شہزادہ محمد بن سلمان سے عالمی مالیاتی فنڈ کی ڈائریکٹر جنرل کرسٹن لیگارڈ اٹلی کے وزیر خزانہ بیئر کارلو بدوان ، ورجن کمپنی کے سربراہ رچرڈ برنسو، انٹرنیشنل چائنہ بینک کے چیئرمین ٹونگ لی، ارسیلر کمپنی کے چیئرمین ایڈیٹن متھل نے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ سعودی پبلک انوسٹمنٹ فنڈ اور بلیکسٹن کمپنی نے بدھ کو 20ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی دستاویزات پر دستخط کئے۔ بلیکسٹن کمپنی نے توقع ظاہر کی کہ 40ارب ڈالر سے امریکہ میں بنیادی ڈھانچہ تیار ہو گا۔ اس میں 20ارب ڈالر پبلک انوسٹمنٹ فنڈ دے گا اور مزید 20ارب ڈالر سرمایہ کاروں سے حاصل کئے جائیں گے۔ کمپنی کے چیئرمین اسٹیون نے اس موقع پر اظہار خیال کیا کہ سعودی انوسٹمنٹ فنڈ کی سرمایہ کاری سے امریکہ کو اپنا انحطاط پذیر انتظامی ڈھانچہ بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ فنڈ کے نگراں یاسر الرمیان نے توقع ظاہر کی کہ پوری دنیا میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کا بڑا پروگرام ہو گا۔ اس کی بدولت امریکی کمپنی کے ساتھ ہماری شراکت مضبوط ہو گی۔ اس کی بدولت 15ملین امریکیوں کو روزگار ملے گا۔ اس سے قبل عالمی ماہرین اقتصاد و عہدیداروں نے شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران سعودی ویژن 2030ءکے مطابق سرمایہ کاری کے مواقع ، مملکت میں شراکت سمیت متعدد اقتصادی امور کا جائزہ لیا۔ عالمی مالیاتی فنڈ کی ڈائریکٹر جنرل نے اس موقع پر سعودی عرب اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان رابطے کے موضوعات اور باہمی دلچسپی کے متعدد مسائل پر بات چیت کی۔ کرسٹن لیگارڈ سعودی وژن 2030 کے تحت مملکت کے شمال مغرب میں قائم کئے جانے والے عظیم الشان منصوبے ”نیوم“ کے افتتاح اور سرمایہ کاری کے مستقبل سے متعلق ہونے والی تقریب میں شریک ہوئیں۔ انہوں نے اس موقع پر موسمی تبدیلی کے مسئلے سے پوری قوت سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اگر اس حوالے سے ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو دنیا جل جائیگی جبکہ اٹلی کے وزیر خزانہ بیئر کارلو بدوان نے ملاقات کی۔ انہوں نے سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں میں سعودی عرب اور اٹلی کے درمیان اہم اقتصادی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان بھی موجود تھے۔ 
 

شیئر: