Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بڑھتے احتجاج کے دوران ایرانی حکومت کی حمایت میں ریلیاں اور مظاہرے

حکومت حامی مظاہرین نے فارسی میں ’مرگ بر اسرائیل، مردہ باد امریکہ‘ کے نعرے لگائے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
ایران میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف احتجاج کے دوران حکام متعدد بڑے شہروں میں اپنے حق میں ریلیاں نکالیں اور مظاہرے منعقد کرائے تاکہ ملک پر اپنا کنٹرول دکھایا جا سکے۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران میں حالیہ برسوں کا شدید ترین احتجاج دیکھا گیا جس پر حکومت کے سخت کریک ڈاؤن نے دنیا بھر کی توجہ تہران کی طرف مبذول کرا دی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن کی طرف سے مظاہروں پر کریک ڈاؤن کی وجہ سے فوجی مداخلت کی بار بار دھمکیوں کے بعد ایران جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ابتدائی طور پر معاشی مشکلات اور مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے گزشتہ دو ہفتوں سے زیادہ کے دوران حکومتی نظام کے لیے اب تک کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
موجودہ ایرانی حکومتی نظام سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد لایا گیا جب شاہ کو معزول کر دیا گیا تھا۔
حکام نے تین دن سے زائد عرصے تک انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کیا جس کے بارے میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کریک ڈاؤن میں ہونے والی ہلاکتوں کو چھپانا ہے۔
حکومت نے پیر کو اسلامی جمہوریہ کی حمایت میں ملک گیر ریلیوں کا اہتمام کیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔
سرکاری ٹی وی نے دکھایا کہ دارالحکومت تہران کے انقلاب سکوائر میں ہزاروں لوگوں نے اکھٹے ہو کر قومی پرچم لہرائے۔ اور اس دوران مظاہروں میں مرنے والے افراد کے لیے دعائیں کی گئیں۔ حکومت مخالف مظاہروں کو حکام نے ’فسادات‘ قرار دیا ہے۔
حامی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالباف نے کہا کہ ایران ’چار محاذوں پر جنگ‘ لڑ رہا ہے جس میں اقتصادی جنگ، نفسیاتی جنگ، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ’فوجی جنگ‘ ہے۔ اور حکومت مخالف مظاہرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آج دہشت گردوں کے خلاف جنگ‘ بھی اس فہرست میں شامل ہے۔
فارسی میں ’مرگ بر اسرائیل، مردہ باد امریکہ‘ کے نعروں کے شور میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو ایرانی فوج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’ایک ناقابل فراموش سبق‘ سکھائے گی۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران کی قیادت جو کہ 1989 سے اقتدار میں ہے اور اب 86 سال کی ہے، نے انہیں ’مذاکرات‘ کے لیے لکھا تھا۔
صدر ٹرمپ نے متعدد بار دھمکی دی کہ اگر تہران نے مظاہرین پر کریک ڈاؤن جاری رکھا تو فوجی مداخلت کی جائے گی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں غیرملکی سفیروں کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں لیکن جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی اس تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں لیکن یہ مذاکرات منصفانہ، برابری کے ساتھ اور باہمی احترام پر مبنی ہونے چاہییں۔

شیئر: