حائل سے ڈاکار تک: سعودی عرب میں کار ریسنگ کے 20 سال
حائل سے ڈاکار تک: سعودی عرب میں کار ریسنگ کے 20 سال
پیر 12 جنوری 2026 0:04
2006 میں حائل نے مملکت کی پہلی منظم کار ریلی کی میزبانی کی (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں کار ریلی اب روایتی کھیل سے اوپر اٹھ کر ایک بڑے ثقافتی منظر میں بدل چکی ہے جس کی جڑیں مملکت کی صحرائی شناخت میں پیوست ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ صرف گاڑیوں کی ریس نہیں بلکہ حوصلے کے ساتھ جم کے کھیلنے کے جذبے اور جزیرہ نمائے عرب کے کھلے میدانوں اور صحرا کی وسعتوں میں ریت کے ٹیلوں اور گاڑیوں کے درمیان ایک منفرد چیلنج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اس سفر کا آغاز حائل کے ریجن سے ہوا تھا جو سعودی عرب میں موٹر سپورٹس کا گہوارہ کہلاتا ہے۔
2006 میں حائل نے مملکت کی پہلی منظم کار ریلی کی میزبانی کی تھی جس نے پورے ملک میں اس کھیل کے جذبے کو مہمیز لگا دی تھی۔
2008 تک یہ ایونٹ بین الاقوامی حیثیت اختیار کر چکا تھا کیونکہ آٹوموبیل کی عالمی فیڈریشن (ایف آئی آے) نے اسے تسلیم کر لیا تھا، یوں گاڑیوں کی ریس کے عالمی نقشے پر حائل کی حیثیت مستحکم ہو گئی تھی۔
النفوذ کا عظیم صحرا، گاڑیوں کی ریس کا اصل میدان بن گیا ہے۔ (فوٹو: ایس پی اے)
اب 20 سال ہونے کو آئے ہیں کہ ’سعودی باھا چیمپئن شِپ‘ کے لیے النفوذ کا عظیم صحرا، گاڑیوں کی ریس کا اصل اور حتمی میدان بن گیا ہے۔
یہاں کے اونچے نیچے ناہموار زمینی ماحول نے موٹر سپورٹس کے ایک جامع ایکو سسٹم کو پروان چڑھا دیا ہے جسے دنیا کے بہترین (موٹر) انفرا سٹرکچر اور سعودی ڈرائیوروں کی ایک نئی نسل کا تعاون حاصل ہے جو اپنے اندر بھر پُور ٹیلنٹ رکھتی ہے۔
سعودی عرب کا موٹر سپورٹس کا سفر 2020 میں اس وقت نقطۂ کمال پر پہنچ گیا جب اس نے ڈاکار ریلی کی میزبانی کی جو دنیا میں انتہائی اعصاب شکن اور ڈرائیوروں کی قوتِ برادشت کے امتحان کی ریس کہلاتی ہے۔
ڈاکار ریلی دنیا میں انتہائی اعصاب شکن اور ڈرائیوروں کی قوتِ برادشت کے امتحان کی ریس کہلاتی ہے۔ (فوٹو: ایس پی اے)
ڈاکار ریلی کے تکنیکی اور تنظیمی تقاضوں کے پیشِ نظر، سعودی عرب کا متنوع لینڈ سکیپ اس ریس کے لیے مثالی میدان کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
اب جبکہ 2026 کی کار ریلیوں کا ایڈیشن منظرِ عام پر ہے، گاڑیوں کی یہ ریس اس کھیل کی انسانی جہت کو مزید نمایاں کر رہی ہے۔
حوصلے اور ثابت قدمی، ڈگمگانے اور لڑکھڑانے کے بعد پھر سے اٹھ جانے اور ڈرائیوروں، مشکلوں میں راستہ بنانے والوں اور سپورٹس کی ٹیموں کے درمیان باہمی تعاون کی ناقابلِ شکست کہانیاں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہیں۔