Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اردو بتدریج مر رہی ہے ،شکیل عادل زادہ

 

شکیل عادل زادہ اردو ادب میں ایک معتبر نام ہے۔ ان کے پڑھنے ، چاہنے اور ان سے عشق کرنے والوں کی تعداد شمار نہیں کی جاسکتی۔ یہ مقبولیت اردو کے بہت کم ادیبوں کے حصے میں آئی ہے۔ 1970ء میں سب رنگ نکالا اور اسے بام عروج تک لے گئے۔" بازی گر" اور" انکا" جیسی سلسلہ وار کہانیاں لکھ کر ایک دنیا کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ سب رنگ میں ذاتی صفحہ کے عنوان سے نثرکے شاہکار بھی تخلیق کئے۔ سابق صدر ضیاء الحق بھی سب رنگ کے قاری تھے۔اس سے پہلے انشاء میں کرنل میڈاس بٹلرکی کتاب۔The confessions of the Thug کا آزاد ترجمہ" امجد علی ٹھگ کی سرگزشت" کے نام سے شروع کیا۔ اسے دلچسپی کے ساتھ پڑھنے والوں میں اس وقت کی مشہور ہیروئن مینا کماری شامل تھیں۔ شکیل عادل زادہ ، رئیس امروہی کی اہلیہ اور ان کی چھوٹی صاحبزادی کے ساتھ ’’نگراں مرد‘‘ کے طور پر ممبئی گئے تو کمال امروہوی کے گھر قیام کیا۔ مینا کماری ، کمال امر ہوی کی دوسری بیوی تھی اور اس شادی کے بڑے چرچے تھے ۔ عادل زادہ کو مینا کماری کے گھر قیام کے دن آج بھی یا دہیں۔ شکیل عادل زادہ کو علمی و ادبی ماحول گھر سے ملا ۔ان کے والد عادل ادیب شاعر اور صحافی تھے۔ ابا مشاعروں میں ساتھ لے جاتے تھے۔اس زمانے میں جگر مرادآبادی کو بھی دیکھا۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد زندگی میں ٹھوکریں کھائیں لیکن سیکھا بھی بہت کچھ۔والدین نے محمد شکیل نام رکھا اور شکیل عادل زادہ کا قلمی نام جون ایلیا نے دیا جو پہچان بن گیا۔ محمد شکیل سے شکیل عادل زادہ کا سفر.... اس کہانی کار کی خود بھی ایک کہانی ہے ۔ اردونیوز کے ساتھ طویل نشست میں انہوں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ کا جو احوال بیان کیا۔

خالد خورشید ۔جدہ

ادب سے تعلق خاندانی وراثت میں ملا؟

اگر یہ کہا جائے کہ صحافت اور ادب سے تعلق وراثت میں ملا تو غلط نہیں ہوگا۔ قصہ یہ ہے کہ 1940ء میں ابا نے اپنے دوست کوکب مرادآبادی کے ساتھ ملکر ماہنامہ رسا لہ مسافر نکالا۔ بعد میں امرو ہہ سے اپنے ایک اور دوست ر ئیس امروہوی کو بھی لے آئے۔ اس رسالے کا نام مسافر یوں رکھا گیا کہ خاندان کے مخیر حضرات نے شمالی ہند کا سب سے بڑا مسافر خانہ تعمیر کیا تھا۔ اس کا نام اسلا میہ مسافر خانہ تھا۔ ابا مسافر خانے کی تعمیر کے ذمہ دار بھی تھے اور وہیں سے رسالہ بھی نکالتے تھے۔ ابا کا نام پرنٹر و پبلشر اور رئیس امر وہوی کا نام مدیر مسئول کے طور پر آتا تھا۔ اس طرح ادبی اور علمی ماحول میں آنکھ کھولی ۔ میرے ابا شکیل ادیب ، رئیس امروہوی اور کوکب مرادآبادی دوستوں کی ایک مثلث کی طرح تھے جن کی زندگی ادب سے عبارت تھی۔ ابا اس وقت کے سند یافتہ عالم فاضل تھے حالانکہ ہمارا خاندان پیتل کے برتنوں کا کاروبار کرتا تھا لیکن ابا کی طبیعت اس طرف نہیں تھی۔ فی البد یہہ شعر گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران کاغذکی کمیابی کے باعث انہیں رسالہ بند کرنا پڑ ا ۔اس کا ابا کو بہت دکھ تھا۔ انہیں آنتوں کا مرض لاحق ہوا اور انتقال کرگئے۔ ان کے صدمے میں کوکب مراد آبادی تدفین کے وقت چیخیں مارتے رہے اور ذہنی توازن کھو بیٹھے ۔ میں اس وقت 6سال کا تھا معلوم نہیں تھا کہ کیا سانحہ گزر چکاہے ۔ نماز جنازہ کے وقت مسجد کے صحن میں کودتا پھلانگتاپھر رہا تھا ۔یتیمی کے دکھ کا احساس ہی نہیں تھا ۔

ابا کے انتقال کے بعد زندگی میں کیا اتار چڑھائو آئے؟

ابا کے انتقال کے بعد پرورش والدہ اور نانا محمد شریف نے کی ۔وہ ہماری چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا بھی خیال رکھتے تھے ۔ یہ 1944ء کی بات ہے۔ نانا کی خواہش تھی کہ قرآن مجید حفظ کروں۔ یوں جامعہ قاسمیہ مرادآباد میں داخل کرا دیا گیا تاہم میرا رجحان جدید تعلیم کی طرف زیادہ تھا۔ مدرسے کا کتب خانہ خاصا وسیع تھا اور وہ مجھے اپنی جانب کھینچتا تھا ۔بڑی مشکل سے حفظ کا سبق یاد کرتا۔ اکثر سبق یاد نہ کرنے پر پٹائی بھی خوب ہوتی تھی ۔مدرسے میں ناروا سلوک پر گھر میں احتجاج بھی کیا لیکن شنوائی نہیں ہوئی ۔صورتحال سے گھبرا کر گھر سے بھاگنے کا منصوبہ بنایا۔اس وقت میری عمر کوئی 10 برس ہو گی ۔ کسی کو بتائے بغیر مراد آباد سے دہلی جانے والی ٹرین میں سوار ہوگیا۔ جیب میں کل 3 آنے تھے ۔ دہلی تک کا سفر کسی خاص مشکل کے بغیرطے ہو گیا ۔ بغیر ٹکٹ پکڑے جانے کی ترکیب یہ نکالی کہ ٹکٹ چیکر کے آنے پر ادھر ادھر چھپ جاتا تھا ۔ دہلی اسٹیشن سے رات کو ممبئی جانے کے لئے ٹرین میں سوار ہو ا تاہم بڑودہ اسٹیشن پر ٹکٹ چیکر نے بغیر ٹکٹ سفر کرنے پر پکڑ لیا ۔اس پر یہ کہانی گھڑی کہ دہلی اسٹیشن پر اپنے ماموں سے بچھڑ گیا تھا ایک شخص بہلا پھسلا کر لایا ، اب پتہ نہیں کہاں چلا گیا ۔ ان دنوں بچوں کے اغوا کے واقعات عام تھے۔ یہ کہانی سن پر ٹرین کے مسافر میری مدد پر کمر بستہ ہوگئے ۔شاید یہ میرے ذہن کی پہلی تخلیقی کہانی تھی ۔خیر ممبئی آیا تو ٹکٹ چیکنگ سے بچنے کیلئے دادر اسٹیشن پر پلیٹ فارم کے مخالف کو دگیا۔ پٹریاں عبور کرتے ہوئے دادر پل تک پہنچ گیا۔ یہی دادر پل جس پر کرشن چندر نے اپنا مشہور ناول ـ"دادر پل کے بچے" لکھا ہے ۔مختصرا یہ کہ چلتے ہوئے بھوک سے نڈھال ہو کر گر پڑا ۔لوگوں نے اٹھایا اور بھنڈاری بازار میں رشتے داروں تک پہنچایا۔ وہاں سے اپنے رشتے کی دادی کے گھر گیا۔ انہوں نے مراد آباد اطلاع کی جہاں میری ڈھونڈ مچی ہوئی تھی ۔ اطلاع ملنے پر ماموں مجھے لینے آئے ۔اس شرط پر دوبارہ مدرسے گیا کہ پٹائی نہیں ہوگی اور جدید تعلیم بھی دلائی جا ئے گی ۔نا نا نے وعدے کے مطابق انگریزی ٹیچر ٹیوشن پڑھانے کے لئے مقرر کردیا۔ساڑھے 3برس میں قرآن مجید حفظ کیا۔ 3 برس تراویح تک بڑے اہتمام کے ساتھ سنایا بھی ۔ اپنے ذوق و شوق سے تعلیمی سلسلہ بھی جاری رہا۔

مراد آباد سے کراچی تک کا سفر کیسے طے کیا؟

1947ءکے بعد مسلمانوں کے لئے مرادآباد کے حالات ناگفتہ ہوگئے تھے۔ اس وقت ہندی میڈیم میں میٹرک کرچکا تھا۔ ہمارے ایک دور کے عزیز آصف انہی دنوں کراچی سے مراد آباد آئے۔ انہوں نے کراچی کی خوش کن منظر کشی کرکے مجھے اتنا اکسایا کہ پاکستان جانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ گھروالوں سے چھپ کر پاسپورٹ بنوایا ۔ اماں کی چمپاکلی ایک ہندوساہوکار کے پاس گروی رکھ کر 40روپے حاصل کئے اور یہ کل سرمایہ لیکر پاکستان آگیا۔ کراچی آنے کے بعد قریبی رشتے داروں کے گھر قیام کیا پھر اپنے ابا کے دوست رئیس امروہوی سے ملنے جنگ کے دفتر گیا جو اس وقت برنس روڈ اور عیدگاہ کے سنگم پر واقع تھا۔ کھارادر کے ڈیڑھ کمرے کے فلیٹ میں ان کی رہائش تھی۔ ساتھ والے فلیٹ میں سید محمد تقی رہتے تھے۔ جون ایلیا بھی امرو ہہ سے کراچی آچکے تھے۔ رئیس امروہوی کی بیگم اور ان کی 5بیٹیوں نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ رئیس امرو ہوی اپنے دوست کے بیٹے کو دیکھ کر خوش ہوئے۔ کراچی آنے کے بعد فیصلہ نہیں کرپا رہا تھا کہ کرنا کیا ہے۔ اسی دوران اماں کے جذباتی خطوط نے بے چین کررکھا تھا۔ یوں 3ماہ بعد مراد آباد واپس لوٹ گیا۔ مرادآباد میںنا نا اور ماموں کا کاروبارتھا ۔وہ کاروبار کے سلسلے میں ہند بھر کے دورے کرتے تھے۔ ایک مرتبہ پہلے بھی ان کے ساتھ جاچکا تھا۔ اب بھی انہیںایک مددگار کی ضرورت تھی سو ان کے ساتھ نئے نئے شہر دیکھے حیدرآباد، بنگلور، مدراس سمیت پورا جنوبی ہند دیکھ لیا۔ حیدرآباد دکن میں خاصا وقت گزارا اور خوب گھوما پھرا۔ بازی گر میں پاڑوں کا جو ماحول ہے وہ سب اس مشاہدے کی وجہ سے ہے ۔یہیں محبوب کی مہندی (بازار حسن ) کی جھلک بھی دیکھی ۔یہ وہ دور تھا جب پاکستان سے آنے والوں کو بے حد عزت کی نگاہ سے دیکھا اور خوشحال تصور کیا جاتا تھا۔ یہ سب دیکھ کر خیال آیا کہ پاکستان جاکر قسمت آزمائی میں کوئی حرج نہیں۔جنوبی ہند کے سفر سے واپس آیا تو پھر پاکستان جانے کی دھن سوار ہوئی۔ اس مرتبہ گھر والوں نے بھی اجازت دیدی۔ یوں دہلی سے ویزا لگواکردوبارہ پاکستان آگیا۔ اس مرتبہ رشتے داروں کے پاس جانے کے بجائے سیدھا رئیس امرو ہوی کے پاس پہنچا جو اس وقت اپناپرچہ شیراز نکا ل رہے تھے۔ اس کا دفتر بولٹن مارکیٹ میں تھا ۔ رئیس امرو ہوی نے دوست کے بیٹے کے ساتھ گھر جیسا معاملہ کیا۔ میری علمی اور ادبی تربیت رئیس امروہی ، جون ایلیا ، سید محمد عباس اور سید محمد تقی نے کی۔ اس وقت شیراز کا دفتر نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان بھر کے شاعروں اور ادیبوں کی بیٹھک تھا۔ امرو ہوی صاحب جنگ میں کالم اور قطعات لکھتے تھے، مصروفیات بڑھنے پر شیراز کے انتظامی اور ادارتی امور میرے سپرد کردئیے تھے۔ رئیس امرو ہوی کی اولاد نرینہ نہیں تھی۔ 5بیٹیاں تھیں ، ان کی اہلیہ بھی مجھے بیٹا کہتی تھیں اور میں نے بھی کوشش کی کہ اپنا گھر سمجھ کر رہا جائے۔

رئیس امرو ہوی کے اتنے قریب رہے پھر راستے کیسے جدا ہوئے؟

روزنامہ شیراز اس دور کا ناکام پرچہ تھا ۔رئیس امرو ہوی کے ذاتی تعلقات کی وجہ سے کچھ سرکاری اشتہارات مل جاتے تھے۔ اس سے 800یا 900روپے کی آمدنی ہوتی تھی ۔ جون ایلیا ، سید محمد عباس اور میں اس سے گزارا کرتے تھے۔ اس دوران پڑھائی بھی جاری رکھی۔ مرادآباد سے ہندی میڈیم میٹرک کیا تھا جبکہ یہاں اردو میڈیم تھا اسلئے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں فیل ہوگیا۔ یہ میری زندگی کا اہم وا قعہ ہے۔ اگلے سال کوشش کی تو کامیابی ملی۔ تعلیمی سلسلہ منقطع ہونے سے میرے 5سال ضائع ہوئے۔اردو کالج میں اس وقت میجر آفتاب حسن پرنسپل تھے۔ اردو ادب خواجہ مشفق پڑھایا کرتے تھے پروفیسر خورشید معاشیات کے استاد تھے جو بعد میں سیاست میں آئے ایک مرتبہ انہوں نے کلاس کو ایک مضمون بینکار ی کیا ہے لکھنے کو دیا ۔میں نے بھر پور مضمون لکھا اس پر خورشید صاحب نے نوٹ لکھا۔ بہت اچھی نثر لکھ سکتے ہو مگر یہ تحریر معاشیات کے مضمون کے لئے نہیں ۔ شیراز کی محدود آمدنی میں گزارا مشکل ہونے لگاتھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ شیراز کے خسارے کی وجہ اس کی یومیہ اشاعت ہے۔ رئیس امرو ہوی کو تجویز دی کہ شیراز کو روزنامے کے بجائے ڈمی پرچہ بنادیا جائے تو اس سے بچت ہوسکتی ہے چناچہ شیراز ڈمی پرچہ کے طور پر آنے لگا اس سے اخراجات کم ہوگئے ۔ صرف اتوار کو شائع ہوتا اور ہفتے بھر کے اشتہارات بھی آجاتے۔ اس اقدام سے شیراز خسارے سے نکل کر فائدے میں چلاگیا۔اب میں اماں کو بھی مراد آباد کچھ رقم بھیجنے کے قابل ہوگیا۔ ایک مالی معا ملے پر رئیس امرو ہوی سے اختلاف ہو اور مجھے شیراز سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی ۔ معاملہ کچھ یوں تھا کہ یوم آزادی پر ایک کمپنی نے تمام اخبارات کو پورے صفحے کے اشتہار دئیے جو ہمارے پرچے کو کوشش کے باوجود نہیں ملا ۔ رئیس صاحب سے میں نے کہا کہ اگر اشتہار میں لے آؤں تو آپ مجھے نصف حصہ دینگے ۔ انہوں نے حامی بھرلی۔ میرے اشتہاری کمپنی کے کچھ لوگوں سے مراسم تھے۔ اپنے تعلقات استعمال کرکے 2صفحات کے اشتہار حاصل کرلئے۔ اس وقت 500روپے کا ایک اشتہار تھا۔ رئیس امروہی سے جب میں نے نصف حصے کا تقاضا کیا تو انہوں نے انکار کردیا اور کہا ایسا کوئی وعدہ ہی نہیں کیا۔ یہ رویہ دیکھ کر شیراز میںمزید کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انہی دنوں رئیس امرو ہوی اور سید محمد تقی نے جون ایلیا کے لئے انشا کے نام سے ایک پرچے کا ڈیکلریشن حاصل کیا جو ماہانہ تھا ۔ فروری 1958ء میں یہ پرچہ نکلنا شروع ہو۔ا یہ علمی اور ادبی جریدہ تھا ۔جون ایلیا نے بلایا اور کہا کہ میرے ساتھ کام کرو ۔اس پرچے میںمجھے اشتہارات کے لئے رکھا گیا۔ دن بھر اشتہارات کے دفاتر کے چکر لگاتا تھا کبھی رئیس امرو ہوی کے تعلقات کام آتے کبھی ابا کے دوستوں کے حوالے کام کرجاتے۔ انشا ابتدا سے مالی لحاظ سے فائدے میں رہا تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود ساڑھے 12سو سے زیادہ اشاعت نہیں بڑھی۔ سید محمد عباس، جون ایلیا اور میرا گزر بسر انشا کے ذریعے ہوتا تھا۔ بس سمجھیں گزارا تھا۔ انشا کی اشاعت ایک جگہ رک سی گئی۔ اس وقت اردو ڈائجسٹ کی بڑی دھوم تھی، وہ اس زمانے میں غالباً 90ہزار تک چھپنے لگا تھا۔ ہم نے بھی انشا کو مقبول بنانے کی کوشش کی اس کے لئے انشا کو عالمی ڈائجسٹ کا نام دیا۔ سائز تبدیل کیا۔ مضامین کی نوعیت بدلی ان تبدیلیوں سے اشاعت 4ہزار ہوگئی پھر فیصلہ کیا گیا عالمی ڈائجسٹ کو مکمل فکشن پرچہ بنادیا جائے۔ بہزاد لکھنوی سے بات ہوئی۔ انہوں نے کچھ سلسلے شروع کئے" حکیم بڈھن کے کارنامے" کا سلسلہ بہت مقبول ہوا۔ جولکھنؤ کے زما نہ ساز اور عیار قسم کے آدمی تھے۔ ان کی داستان ہر ماہ لکھتے تھے۔ ہر ماہ الگ کہانی ہوتی تھی پھر کالی مائی،لونا چماری اور دیگر ہندو توہمات کے سلسلے شروع کئے یہ سب بہت مقبول ہوئے۔ عالمی ڈائجسٹ کی اشاعت 20ہزار تک پہنچ گئی۔ ہمارے بھی کچھ بہتر دن آگئے۔

عالمی ڈائجسٹ چھوڑ کر سب رنگ نکالنے کا خیال کیسے آیا؟

بات یہ ہے کہ تاثریہ دیا جانا تھا کہ عالمی ڈائجسٹ میں 3افراد جون ایلیا، سید محمد عباس اور میں شریک ہوں لیکن میری کوئی باقاعدہ تنخواہ مقرر نہیں تھی۔ پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی تو مانگ لیا کرتا تھا۔ معروف نقاد محمد علی صدیقی جون ایلیا کے دوست تھے اور اکثر دفتر آیا کرتے تھے۔ایک دن مجھ سے کہا شکیل اس پرچے میں تمہارا کیا حصہ ہے کیا؟ کوئی قانونی دستاویز بھی ہے؟۔میں نے انکار میں جواب دیا تو محمد علی صدیقی نے میری طرف سے رئیس امرو ہوی سے قانونی حصے والی بات کی۔ اس پر رئیس امرو ہوی نے کہا اس رسالے میں سید محمد تقی اور ان کی اولادیں بھی شریک ہیں۔ اس جواب پر یہی مناسب سمجھا کہ علیحدگی اختیار کرلی جائے۔ اس وقت تک مجھ میں خاصا اعتماد آگیا تھا۔ مارکیٹنگ ، ادارت اور اشتہارات کا تجربہ تھا ۔ کوئی بھی رسالہ نکالنے کا ہنر موجود تھا۔ حالات کا پہلے سے اندازہ تھا اس لئے چپکے سے سب رنگ کے نام سے ڈیکلریشن داخل کررکھا تھا۔ عالمی ڈائجسٹ سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تو ڈیکلریشن کے لئے بھاگ دوڑ کی اور اس کے لئے لاہور تک گیا۔ آخر کار 5نومبر 1969ء کو ڈیکلریشن مل گیا۔ 6نومبر 1969ء کو عالمی ڈائجسٹ خیر باد کہا اور پاپوش نگر میں اپنے دوست کے گھر منتقل ہوگیا۔ رئیس امرو ہوی اور جون ایلیا نے میری واپسی کے لئے بہت کوششیں کی مگر میں انہیں مل کر نہیں دیا کیونکہ اگر ملاقات ہو جاتی تو مروت میں واپس جانا پڑتا ۔مجھے تو اپنا رسالہ نکالنے کی دھن تھی۔ اس وقت کل جمع پونجی 5ہزار روپے تھی ،کچھ دوستوں نے مدد کی۔ جنوری1970 پہلا شمارہ 5ہزار چھپا لیکن ساڑھے 3ہزار فروخت ہوا۔دوسرا شمارا بھی 5ہزار چھپا اور ساڑھے 3ہزار فروخت ہوا ڈیڑھ ہزار پرچہ واپس آگیا۔ یہ سراسر نقصان کا سودا تھا۔ ابتداء سے کوشش کی کہ عالمی ڈائجسٹ سے مختلف رسالہ نکالا جائے۔ فکشن پرچے کی چھاپ مجھ پر موجود تھی اس لئے سب رنگ کو مکمل فکشن پرچہ بنادیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تیسرا شمارہ 5ہزار چھپا اور پورا فروخت ہوا ۔ چوتھا شمارہ 6ہزار چھپا اور ہاتھوں ہاتھ نکل گیا۔ ایک سال میں اشاعت 20ہزار ہوگئی۔ یہ ایک ریکارڈ ہے۔ دوسرے سال میں اشاعت 42ہزار تک جاپہنچی۔ تیسرے سال میں 62ہزار پھر 82ہزار اور پانچویں سال میں اشاعت ایک لاکھ ہوگئی۔ پرچے کو معیار ی اور مقبول بنانے کے لئے تمام جتن کئے۔ بہزاد لکھنوی سے بھی سب رنگ میں لکھنے کی درخواست کی اس وقت وہ بیمار اور اوجھا سینی ٹوریم میں زیر علاج تھے۔ دفتر سے ایک شخص جاتا تھا وہ اسے کہانی ڈکٹیٹ کراتے تھے۔ بہزاد لکھنوی اتنا پرفیکٹ بولتے تھے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کتاب یا کہانی لکھی جارہی ہے۔ یہ کمال میں نے اور کہیں نہیں دیکھا۔ بہزاد لکھنؤی چونکہ عالمی ڈائجسٹ میں لکھتے تھے ۔ رئیس امرو ہوی نے اس پر اعتراض کیا تو انہوںنے ہمارے ہاں لکھنے سے معذرت کرلی پھر انوار صدیقی سے سلسلہ شروع کرایا۔ "سونا گھاٹ کا پجاری "کا سلسلہ مقبول ہوا۔ انوار صدیقی کی کہانیوں میں یکسا نی محسوس ہوئی تو میں نے اپنے طور پر اضافے کئے ۔ ری رائٹنگ کی نوبت آگئی۔ 2سال انوار صدیقی کے سلسلے میں نے لکھے۔ انشا اور عالمی ڈائجسٹ نے تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارا تھا۔ اتنا شعور آگیا تھا کہ کونسا لفظ اور جملہ لکھنا چاہیے اور کس طرح لکھنا چاہئے ۔

سب رنگ کے معیار اور مقبولیت کو کیسے بر قرارر کھا؟

اس وقت تک جاسوسی ڈائجسٹ، سسپنس ڈائجسٹ ،خواتین ڈائجسٹ اور دیگر مقابلے پر آگئے تھے۔ سوال یہ تھا کہ سب رنگ کی مقبولیت کو کیسے برقرار رکھا جا ئے۔ لکھنے والے ویسے ہی کم تھے وہ تقسیم ہوگئے۔انہیں جہاں اچھا معاوضہ ملا چلے گئے۔ اس صورتحال میں زیادہ تر کام کا بوجھ مجھ پر آگیا۔ سب رنگ میں جوبھی کہانی آتی تھی کوشش ہوتی تھی کہ زبان و بیان کی کوئی غلطی نہ ہو۔ معروف شاعر انور شعور بھی ادارت میں ہمارے ساتھ تھے۔ اقبال مہدی سے سب رنگ کے ٹائٹل بنوائے جو اپنی مثال آپ تھے۔ محبوب مرزا اورمنظور حسین پورٹریٹ بنانے کے ماہر تھے۔ و اٹر کلر میں ان سے بہتر کام آج تک کسی نے نہیں کیا۔ انہوں نے بھی ہمارے لئے ٹائٹل بنائے جو کمال کے تھے۔ کئی ٹائٹل آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں جو دیکھنے کے لائق ہیں غرض ہر شعبے میں بہت محنت کی۔ آپ کو ایک اور بات بتاؤں سب رنگ کو عالمی ڈائجسٹ سے پہلے مارکیٹ میں لانے کے لئے رات کو بائنڈر کے پاس اخباروں کی ردی پر بھی سو جاتا تھا ۔ عالمی ڈائجسٹ اور ہمارا بائنڈر ایک تھا۔ پھر ایک سلسلہ شروع کیا ۔ اردو میں جو معیاری ادب اور کہانیاں تھیں اسے شائع کیا۔ ایسی کہانیاں عموماً ادبی پرچوں کی زینت بنتی تھیں چونکہ ادبی پرچوں کی اشاعت محدود ہوتی تھی اعلیٰ معیار کی کہانیاں اوجھل رہتی تھیں ۔ اردو افسانے کا انتخاب شروع کیا۔ اس میں احمد ندیم قاسمی، کرشن چندر ، اشفاق احمد ، راجندر سنگھ بیدی ،عصمت چغتائی وغیرہ کی کہانیاں اور افسانے منتخب کئے۔ اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ افسانہ کوئی ایک شخص منتخب نہیں کرتا 5افراد اسے پڑھتے تھے اور اپنی پسند کے اعتبار سے نمبر دیتے ۔ جس کہانی یا افسانے کو پسندیدگی کے لحاظ سے زیادہ نمبر ملتے اسے چھاپا جاتا تھا۔ اس طرح اردو ادب کا نہایت گہر ا انتخاب سب رنگ میں چھاپا جاتا۔ یہ طریقہ کار انگریزی اور اردو دونوں کہانیوں میں مفید ثابت ہوا۔ عالمی اور ملکی سطح پر شاید ہی کوئی اچھی کہانی ہو جو سب رنگ کی زینت نہ بنی ہو۔ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ ادیبوں سے یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ آپ ہمارے لئے کہانی لکھیں۔ مشکل یہ تھی کہ اگر احمد ندیم قاسمی سے درخواست کریں کہ آپ ہمارے لئے افسانہ لکھیں اور وہ افسانہ لکھ کر بھیج دیں وہ پسند نہ آئے تو بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا تھا۔ ایسی صورتحال پیش بھی آئی کہ کرشن چندر سے فرمائش کرکے قسط وار ناول سونے کا سنسار لکھوایا مگر وہ ہماری توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔ یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ یہ سب رنگ کے خانے میں فٹ نہیں ہو رہا پھر یہی سوچا جو چیزیں چھپ چکی ہیں ان میں بہترین ادب کا انتخاب کیا جائے۔سب رنگ کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ افسانوں کے وہ مجموعے جن کی اشاعت برائے نام تھی عامۃ الناس میں مقبول ہوئے۔ ویسے ہر زمانے میں کہانی عام اور خاص لوگ دونوں پڑھتے ہیں ۔ کہانی ادب کی سب سے مطلوب اور مہنگی صنف ہے یہی وجہ ہے کہ ہر جگہ کہانی کا قحط ہے ۔ کرشن چندر نے بہت لکھا لیکن سب رنگ میں محض20کہانیاں شائع ہوئیں۔ احمد ندیم قاسمی، عصمت چغتائی کی بہت کم کہانیاں شائع کیں۔ قرۃ العین حیدر کی کوئی کہانی نہیں چھپی کیونکہ ہمارے ادارتی بورڈ نے انہیں مطلوبہ نمبرہی نہیں دئیے تھے۔

سب رنگ بند کرنے کی نوبت کیوں آئی؟

سب رنگ کا کمال یہ رہا کہ شمارہ آنے میں کتنی تاخیر ہوجائے اس کی مقبولیت میں کمی آئی اور نہ اشاعت کم ہوئی تاہم اشاعت میں بے قاعدگی سے مالی نقصان ہونے لگا۔ اگر شمارہ سال بعد آئے تو ڈائجسٹ کے اسٹاف کو تب بھی تنخواہیں ادا کرنا پرتی تھیں ۔ اچھے وقتوں میں جو چیزیں خریدی تھیں انہیں فروخت کرنا پڑا۔ 1978 سیسب رنگ کی اشاعت میں تعطل آنا شروع ہو۔ا بات یہ تھی کہ میری چھوٹی بیٹی جو 6 ماہ کی تھی اسکے دل میں سوراخ تھا پاکستان میں علاج ممکن نہیں تھا۔ علاج کے لئے اسے لندن لے جانا پڑا ۔مالی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔سب رنگ سال میں تین یا چار مرتبہ شائع ہونے لگا۔ ایک مرتبہ تو پونے چار سال بعد شمارہ مارکیٹ میں آیا پھرایک وقت ایسا آیا کہ سب رنگ بند کرنے کا سوچنے لگا ۔ دبئی میں میرے دوست محمد اسلم ملک نے اس مشکل وقت میں ساتھ دیا ۔بعد میں ان کے بیٹے نے مجھ سے رسالہ لینے کی خواہش ظاہر کی ۔اس دوران سب رنگ کو ادارہ جنگ کے تحت شائع کرنے کی بات بھی چل نکلی۔ قانونی دستاویز بھی تیار تھیں لیکن ملک محمد اسلم نے کہا کہ تم ملازمت نہیں کرسکتے۔ تنخواہیں میں دیتا رہونگا تم کام کرو ۔قصہ مختصر سارا کام خود کرنے کا حوصلہ نہیں رہا تھا ۔جب کبھی اطمینان کے مطابق پرچہ تیار ہوگیا تو اسے شائع کردیتے۔ مالی مشکلات کے باعث اسٹاف میں بھی کمی کی ۔ صورتحال پھر بھی بہتر نہ ہوئی تو ملک محمد اسلم کے بیٹے راشد ملک نے سب رنگ کے حقوق لے لئے چونکہ وہ کاروباری آدمی تھے اس لئے ہر صورت سب رنگ کی باقاعدہ اشاعت چاہتے تھے اور ہم خراب اور غیرمعیاری پرچہ نکالنے کے حق میں نہیں تھے۔ اس پر میں علیحدہ ہوگیا۔ راشد ملک بعد میں پرچہ نکالتے رہے لیکن سب رنگ اپنا معیار کھوتا رہا۔ نتیجہ بندش کی صورت میں نکلا۔ سب رنگ بند ہونے کی وجہ مالی خسارہ کے علاوہ معیار بھی رہا۔ خود میرے ساتھ زیادتی یہ ہوئی کہ بازی گر کا سلسلہ دوسرے لوگوں سے لکھوایا گیا۔ اس کا اثر اشاعت پر بھی پڑا اور پرچہ 5ہزار پر آگیا۔ ظاہر ہے 5ہزار کی اشاعت پر کوئی ڈائجسٹ پنپ نہیں سکتا تھا۔

بازی گر سب رنگ کا انتہائی مقبول سلسلہ تھا یہ لکھنے کا خیال کیسے آیا؟

بات یہ ہے کہ سب رنگ کے قسط وار سلسلے دیومالائی اور مافوق الفطرت کہانیوں پر مشتمل ہوتے تھے۔ ان کی مقبولیت اپنی جگہ لیکن کچھ مخصوص حلقوں نے اعتراضات اٹھائے کہ سب رنگ توہمات پھیلا رہا ہے۔ اس پر یہ سوچا کہ ایک ایسی کہانی شروع کرنی چاہیے جو رئیل لائف ایڈونچر ہو۔ اس میں سوز عشق بھی ہو مہم جوئی بھی اور ایکشن بھی، زندگی کے تلخ و شیریں حقائق بھی۔ ایک د لچسپ بات بتائوں بازی گر کی پہلی قسط میرے دوست حسن ہاشمی نے لکھی۔ اس میں بڑی کانٹ چھانٹ کی بلکہ ری رائٹ کیا ۔حسن ہا شمی نے تسلیم کیا کہ اسے آپ مجھ سے بہتر لکھ سکتے ہیں۔ اس طرح بازی گر مستقل لکھنے کی ذمہ داری مجھ پر آگئی۔ بازی گر میرے نزدیک ایک کہانی نہیں تھی۔ میری زندگی کے تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ تھی۔بازی گر میں نت نئے کردار تراشے،تحریری تجربے کئے ایک کردار استاد بٹھل کا تھا۔ چاقو زنی کے فن کی باریکیاں جاننے کے لئے محلے کے روایتی غنڈوں سے رابطہ کیا۔عادی مجرموں سے جیل اور عدالتوں میں پیشی کے وقت ملاقاتیں کیں۔ ایک ایک دائو اور وار کے بارے میں ان سے بحث کرتا تھا تاکہ چاقو زنی کا مقابلہ تحریر کرتے ہوئے حقیقت کا رنگ جھلکے۔

اردو زبان کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں؟

میرے نزدیک تواردو زبان بتدریج مررہی ہے۔ بولنے والی زبان کی حد تک تو نظر آرہا ہے زندہ رہے گی لیکن لکھنے والی زبان اس وقت بڑے گھاٹے میں ہے۔ اس کا اندازہ ٹیلی وژن پر خبروں کے چلنے والے ٹکر سے لگا سکتے ہیں۔لگتا ہے لوگ اردو زبان سے بیزار ہوچکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ٹی وی چینل اچھے اینکرز کے لئے تو پیسے خرچ کرتے ہیں لیکن زبان کی درستی کیلئے کوئی آدمی ر کھنے کو تیار نہیں۔ نتیجہ دیکھ لیں ت اور ط کا فرق نہیں معلوم ث،س اور ص میں اٹک جاتے ہیں۔ کچھ کہو تو جواب ملتا ہے ابلاغ تو ہورہا ہے۔ رہی سہی کسر رومن رسم الخط میں لکھی جانے والی اردو نے پوری کردی۔ اردو کے بگاڑ کی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔

رئیس امروہی اور جون ایلیا بڑے شاعر تھے، لیکن انہیں بڑے شاعروں والا مقام کیوں نہیں ملا۔؟

یہ بات کہی جاتی ہے کہ زمانہ فلاںشاعر کو سمجھ نہیں سکا حالانکہ زمانہ پوری چھان پھٹک کرتا ہے۔ اس زمانے میں فیض احمد فیض نکلے۔ احمد فراز باہر آئے تو سوال یہ ہے کہ رئیس امروہی اور جون ایلیا پیچھے کیوں رہ گئے۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ بڑا شاعر دیر سے آتا ہے۔ اتفاق تھا کہ غالب کے زمانے میں کئی بڑے شاعر گزرے۔ فیض احمد فیض کے زمانے میں احمد فراز تھے۔ منیر نیازی تھے، یہ اپنے زمانے میں بڑے شاعر رہے۔ اب بھی بڑے شاعر باہر نکل کر آئیں گے۔ مجھے یقین ہے کوئی بڑا شاعر چھپا نہیں رہ سکتا۔ اچھی شاعری خوشبو کی طرح پھیلتی ہے اور وہ اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ایک اور بات کہوںرئیس امرو ہوی میں شعر کہنے کی قوت اور قدرت تھی لیکن خوبی نہیں تھی۔انہیں سب سے زیادہ مشکل غزل کہنے میں ہوتی تھی اس کا اظہار بھی کیا کرتے تھے۔ رئیس صاحب اخبار کے ہوگئے تھے ویسے بھی اخبار میں ادیب مارا جاتا ہے۔ جون ایلیا یقینا رئیس امرو ہوی سے بہتر شاعر تھے۔ ان کی نثر کا بھی جواب نہیں تھا، ان کی نثر ابولکلام کے دور کی نثر معلوم ہوتی تھی۔ویسے میں ذاتی طور پر منٹو کو اردو ادب کا سب سے بڑا افسانہ نگار تسلیم کرتا ہوں۔ کہانی کی بنت،کردار نگاری،مشاہدہ اور سلیس زبان وہ خصوصیات ہیں جو برسوں ان کی نثر کو زندہ رکھیں گی ورنہ تو نثر بہت جلد بو ڑھی ہو جاتی ہے ۔

آپ نثر کے آدمی ہیں ، کبھی شاعری کا خیال آیا۔؟

سچی بات یہ ہے کہ شاعری کے لئے دل چاہا لیکن جلد اندازہ ہوگیا کہ شاعری میرے بس کی بات نہیں۔ اگرچہ شاعروں میں رہا ۔ میرے والد خود اچھے شاعر و ادیب تھے ۔ جون ایلیا ، رئیس امرو ہوی قادر الکلام شاعر تھے چلتے پھرتے شعر کہتے تھے۔ دونوںاردو ادب کے بہت بڑے آدمی تھے ، ان سے بہت سیکھا ہے ۔ ابتداء میں شاعری کی کوشش کی۔ نظمیں لکھیں لیکن کامیابی نہیں ملی۔

کہانی اور افسانے لکھنے کیوں چھوڑ دئیے ، کیا الیکٹرانک میڈیا آپ کے اندر کا ادیب کھا تونہیں گیا؟

یہ بات ٹھیک ہے کہ سب رنگ بند ہونے کے بعد کہانی اور افسانے نہیں لکھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کرسکا۔ جو ایڈجسٹ کرگئے وہ چل رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں کئی ٹی وی چینل کہانی پیش کررہے ہیں ۔ اچھی اور کمتر دونوں کہانیاں پیش کی جارہی ہیں۔ ابھی تو الیکٹرانک میڈیا کا ابتدائی دور ہے ۔ ٹیلی ویژن سنبھلا ہوا نہیں ، بکھرا ہوا ہے۔ وقت گزارنے کے ساتھ سنبھل جائے گا۔ میں نہیں تو کوئی اور دیوانہ نکل کر آئے گا اور وہ کام کرے گا۔ اچھی اور معیاری کہانیاں الیکٹرانک میڈیا میں بھی پیش کی جائیں گی۔ یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے کہ الیکٹرانک میڈیا سے پرنٹ میڈیا کو نقصان ہوا ہے۔ اب زیادہ وقت لوگ ٹیلی ویژن دیکھنے میں گزارتے ہیں ، پڑھنے کا وقت ہی نہیں ہے۔ یورپ میں معاملہ قدرے مختلف ہے لیکن پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے آنے کے بعد ڈائجسٹوں کی اشاعت مسلسل گررہی ہے یہی معاملہ اخبارات کے ساتھ بھی ہے۔ جہاں تک معیار کی بات ہے تو ہر طرح کی چیز ہر زمانے میں چلی ہے ۔ کیا بڑے ادیبوں کی موجودگی میں ان سے چھوٹے ادیبوں نے جگہ نہیں بنائی۔ اعلیٰ اور کم تر تحریروں کا سلسلہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ ان سب کو قاری بھی میسر آتے ہیں کیونکہ قاری کا تعلیمی اور ادبی معیار مختلف ہوتا ہے۔ تاہم اچھے اور معیاری ادب کی ہمیشہ عزت رہتی ہے ۔ آپ کو ایک مثال دوں پلے بوائے کبھی اشاعت میں ریڈر ڈائجسٹ سے آگے نہیں بڑھا وجہ یہی ہے لوگوں کو پتہ ہے معیاری چیز کونسی ہے ۔ معیار ہر زمانے میں کمزور بھی ہوتا ہے اور اچھا بھی ہوتا ہے اور دونوں ہی چلتے ہیں۔

شیئر: