سعودی عرب کا اقوام متحدہ میں غیر قانونی اسلحے کی تجارت کے خلاف سخت کارروائی پر زور
اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب عبدالعزیز الواصل نے خطاب کیا ( فوٹو: ایکس اکاونٹ)
سعودی عرب نے تباہ کن سکیورٹی، انسانی اور معاشی نتائج کے باعث چھوٹے اور ہلکے اسلحے کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام اور اس رجحان کے خاتمے کے حوالے سے عرب گروپوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی پر زور دیا ہے۔
العربیہ کے مطابق اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالعزیز الواصل نے اسلحے کی غیرقانونی تجارت کے خلاف اور رکن ملکوں کے درمیان اعتماد اور تعاون مضبوط بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے متفقہ فریم ورک کے طور پر پروگرام آف ایکشن کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ فریم ورک غیرقانونی اسلحے کی تجارت کی روک تھام، باہمی اعتماد کے فروغ اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا ’یہ پروگرام ایک خود مختار بین الاقوامی فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس کے نفاذ کو ایسے دیگر بین الاقوامی نظاموں یا طریقہ کار سے جوڑا نہیں جانا چاہئے جن پرعالمی اتفاق رائے موجود نہیں۔‘
عبد العزیز الواصل نے پروگرام کے موثر نفاذ کے لیے بین الاقوامی تعاون اور تیکنیکی معاونت کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ اس میں متعلقہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور قومی صلاحیتوں کی تعمیر شامل ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے سے جدید تکنیکی پیش رفت کے اثرات کا مسلسل جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، جن میں معیاری ہتھیار، پولیمرمواد سے تیار کیے جانے والے اسلحے اور تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
