سعودی عرب اور اسلامی ملکوں کی مسجدِ اقصیٰ میں مسلسل دراندازی اور اسرائیلی پرچم لہرانے کی مذمت
مشترکہ بیان میں انہیں اشتعال انگیز، ناقابل قبول اقدامات قرار دیا گیا ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب اور پاکستان سمیت متعدد اسلامی و عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ نے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی افواج کی سرپرستی میں انتہا پسندآباد کاروں کی مسلسل دراندازی اور مقدس مقام پر اسرائیلی پرچم لہرانے کی سخت مذمت کی ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق سعودی عرب، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے انہیں اشتعال انگیز، ناقابل قبول اقدامات، بین الاقوامی قانون، متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ’ یہ اقدامات مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اور مسیحی مقدسات کی حرمت، تاریخی اور قانونی سٹیٹس کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔‘
وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے جاری منظم خلاف ورزیوں اور اقدامات کی مذمت کی، جن کا مقصد القدس اور وہاں اسلامی و عیسائی مقدس مقامات کی موجودہ تاریخی و قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا، اس کے اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کی حرمت اور سٹیٹس کو کمزور کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ’ اس حوالے سے اردن کی سرپرستی کے تاریخی کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔‘
وزرائے خارجہ نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ’144 دونم پر مشتمل مسجد الاقصی کا پورا رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔‘
اردن کی وزارتِ اوقاف، اسلامی امور اور مقدسات کے تحت قائم محکمہ اوقاف القدس اور امورمسجد الاقصی ہی اس مقدس مقام کے جملہ امور کی نگرانی اور داخلے کے انتظام و دیگر معاملات کا قانونی اختیار رکھتا ہے۔
مشترکہ بیان میں اسرائیلی حکام کو اشتعال انگیز اقدامات کے خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ ’اسرائیلی خلاف ورزیوں کا تسلسل خطے میں کشیدگی بڑھاتا، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو ہوا دیتا ہے، جس سے امن کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔‘
وزارئے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ ’تمام غیرقانونی اور اشتعال انگیز اسرائیلی اقدامات فوری طور پر روکے جائیں، مسجد الاقصی کی مکمل تاریخی و قانونی حیثیت کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔‘
فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی مکمل اور غیرمتزلزل یکجہتی، ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حق خودارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق بیت المقدس کو دارالحکومت بنانا کرایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
بیان میں اسرائیلی قبضے کے مکمل خاتمے اور دو ریاستی حل، بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کی بنیاد پر منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں کی بھی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
