جون ایلیا،ایک مفکراور حساس شاعر

ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری
جون ایلیا کوہم سے بچھڑے آج 15 سال بیت چکے ہیں۔وہ برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار اور عالم تھے۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے سراہے جاتے تھے۔جون ایلیا 14 دسمبر، 1937ء کو امروہہ، اتر پردیش کے ایک نامور خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیا کو فن اور ادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل بھی انہی خطوط پر کی۔ انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 سال کی عمر میں لکھا۔ اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں قلم طراز ہیں
یہ اک جبر ہے ، اتفاق نہیں
جون ہوتا کوئی مذاق نہیں
جون کی شاعری فکروفن کا حسین امتزاج تھی، وہ شاعری کو عطیہء خداوندی سمجھتے تھے، جون ایلیاء ایک منفرد اور یگانہ شاعر تھے۔ جس کا انداز نہ تو پہلے گزرنے والے شاعر سے ملتا ہے اور نہ ہی بعد میں آنے والے شاعر نے ان کے لہجے کی تقلید کی وہ اپنے سلسلہ کے آپ ہی موجد اور آپ ہی خاتم ہیں۔ مشاعروں میں جون کا مخصوص شاعرانہ انداز انہیں دوسرے شعراء سے نمایاں کرتا جس کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ وہ عشق و محبت کے موضوعات کو اردو غزل میں دوبارہ لے آئے لیکن وہ روایت کے رنگ میں نہیں رنگے بلکہ انہوں نے اس قدیم موضوع کو ایسا منفرد انداز دیا جو سب کو بہت پسند آیا۔ شائقینِ جون کے اشعار پر دیوانہ وار جھوم اٹھتے اور آج بھی جون ایلیاء کی شاعری خاص و عام میں مقبول ہے. جون کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ ان کی زندگی میں ہی ان کی شاعرانہ عظمت کے اعتراف میں جشن منعقد کیا گیا:
چاہتا ہوں بھول جاؤں تمہیں
اور خود بھی نہ یاد آؤں تمہیں
جیسے تم صرف اک کہانی تھیں
جیسے میں صرف اک فسانہ تھا
جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ شاید اس وقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی۔ نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیاہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء  میں شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔
ان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی کو انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔
جون ایلیا تراجم، تدوین اس طرح کے دوسری مصروفیات میں بھی مشغول رہے۔ لیکن ان کے تراجم اور نثری تحریریں آسانی سے دستیاب نہں۔ فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی سائنس، مغربی ادب اور واقع کربلا پر جون کا علم کسی انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی شاعری میں بھی داخل کیا تا کہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں کر سکیں۔
 

شیئر: