’محفوظ اسلام آباد‘، گاڑیوں کی ای ٹیگنگ 18 نومبر سے شروع ہوگی
’محفوظ اسلام آباد‘، گاڑیوں کی ای ٹیگنگ 18 نومبر سے شروع ہوگی
جمعہ 14 نومبر 2025 12:22
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے رہائشی اب نہ صرف اپنا ڈیٹا ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو فراہم کریں گے بلکہ شہر میں چلنے والی تمام گاڑیوں اور موٹرسائیکلز کے علاوہ داخل ہونے والی وہیکلز کی بھی اب ای ٹیگنگ ہو گی۔
ضلعی انتظامیہ نے 18 نومبر سے گاڑیوں کے لیے ای ٹیگ سٹیکرز جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں شہریوں کے لیے مختلف مقررہ پوائنٹس مقرر کیے گئے ہیں، جہاں سے یہ سٹیکرز حاصل کیے جا سکیں گے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن کے مطابق شہریوں کو تمام پوائنٹس کے بارے میں پیشگی آگاہ کیا جائے گا تاکہ ای ٹیگ کے حصول میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہری یہ سٹیکرز صرف ضلعی انتظامیہ کے مقررہ مراکز سے ہی حاصل کر سکیں گے۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، ڈپٹی کمشنرعرفان نواز میمن اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے بتایا تھا کہ جوڈیشل کمپلیکس خودکش دھماکے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ’سکیور نیبرہڈ‘ سروے کا آغاز کیا جائے گا۔
اس سروے کے تحت شہریوں سے ذاتی معلومات حاصل کی جائیں گی کہ کس گھر میں کون رہائش پذیر ہے۔
ڈی سی اسلام آباد نے بتایا کہ ای ٹیگ کے حصول کے لیے گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ لانا لازمی ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی شاہراہوں پر چلنے والی ہر گاڑی کے لیے ای ٹیگ کا ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
یہ پابندی اسلام آباد کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں سے رجسٹرڈ گاڑیوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگی، جس کا مقصد شہر میں سکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانا ہے۔
اردو نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس شہر کو محفوظ بنانے کے لیے ان اقدامات کو کیسے ممکن بنائے گی۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ’آئی سی ٹی ہاؤس ہولڈ سروے‘ کے نام سے ایک ایپ تیار کی ہے جو پلے سٹور یا ایپل سٹور سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کا کہنا ہے کہ شہری یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی رجسٹریشن کا آغاز کر سکتے ہیں۔
شہریوں کو کون سی معلومات فراہم کرنا ہوں گی؟
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گھر کے تمام افراد اپنا نام، پتا اور شناختی کارڈ نمبر اس موبائل ایپ میں درج کریں گے۔ اس کے ساتھ ہئ گھر میں کام کرنے والے تمام عملے کا ریکارڈ بھی ایپ میں درج کریں گے۔
اسی طرح ایپ میں یہ تفصیلات بھی شامل کرنا ہوں گی کہ آیا آپ جس گھر میں رہ رہے ہیں وہ آپ کی اپنی ملکیت ہے یا آپ کرایہ دار ہیں۔
اسی طرح 17 نومبر سے ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں اسلام آباد کے تمام گھروں کا دورہ کریں گی اور وہاں جا کر چیک کریں گی کہ کس کس کا ڈیٹا ایپ میں موجود ہے اور کس کا نہیں۔ ڈی سی اسلام آباد نے میڈیا کو بتایا کہ جو ٹیمیں وزٹ کریں گی ان کے پاس ٹیبلٹس ہوں گے جن میں یہ ایپ انسٹال ہوگی اور وہ موقع پر ہی ڈیٹا انٹری کر سکیں گی۔
جوڈیشل کمپلیکس حملے کے بعد اسلام آباد میں سکیور نیبرہڈ سروے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
تاہم جن شہریوں نے اپنا ڈیٹا پہلے ہی انٹر کروا دیا ہوگا، ان کو دوبارہ انٹری کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا گوگل پر بنایا گیا ہے اور گوگل میپ پر اسلام آباد کے ہر گھر کا لوکیشن پوائنٹ نظر آئے گا جس سے معلوم ہو سکے گا کہ کس گھر کا ڈیٹا ریکارڈ میں آ چکا ہے اور کس کا نہیں۔
گاڑیوں اور موٹرسائیکلز کی ای ٹیگنگ
ضلعی انتظامیہ کے مطابق 18 نومبر سے گاڑیوں کی ای ٹیگنگ کا عمل شروع کیا جائے گا۔
اردو نیوز نے اس حوالے سے ماہرین سے بھی بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ضلعی انتظامیہ کی تجویز کردہ اس سروس پر عمل درآمد کتنا مشکل یا آسان ہوگا اور اس کے کیا فوائد اور نقصانات ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے ریٹائرڈ ایس ایس پی سید فرحت عباس کاظمی نے اردو نیوز کو بتایا کہ اسلام آباد میں شہریوں کی رجسٹریشن کی سکیمیں پہلے بھی آتی رہی ہیں اور اس حوالے سے انتظامیہ اور پولیس کے پاس پہلے ہی مناسب ڈیٹا موجود ہے۔ اس بار جو اچھا اضافہ کیا گیا ہے وہ ڈیٹا کو ایپ پر منتقل کرنے کا ہے جو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اس سے ڈیٹا دینے والے اور ڈیٹا لینے والے دونوں کے لیے آسانی ہوگی۔
اسلام آباد میں تمام گاڑیوں کی ٹیگنگ کی جائے گی۔ فوٹو: اے ایف پی
تاہم انہوں نے گاڑیوں کی ای ٹیگنگ کے حوالے سے کہا کہ ’اسلام آباد کے شہری چاہیں گے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی ای ٹیگنگ کروائیں تاکہ سکیورٹی لائنوں سے آسانی سے گزر سکیں، تاہم اسلام آباد انتظامیہ ان گاڑیوں کے بارے میں کیا کرے گی جو روزانہ کے حساب سے اسلام آباد میں آتی ہیں اور پھر واپس چلی جاتی ہیں، میرے خیال میں اس عمل کو عام طور پر لازمی قرار دینے اور اس پر عمل درآمد کرنا آسان نہیں ہوگا اور اس میں کچھ پیچیدگیاں سامنے آئیں گی۔‘
دوسری جانب سینیئر وکیل اور فوجداری مقدمات پر کام کا وسیع تجربہ رکھنے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے بتایا کہ شہریوں کے گھروں میں کون رہتا ہے اور کون نہیں، اس قسم کا ڈیٹا پولیس یا ضلعی انتظامیہ کو فراہم کرنا اس لیے خدشے سے خالی نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں شہریوں کا ڈیٹا لیک ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور دیگر اداروں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ شہریوں کا فراہم کردہ ڈیٹا کسی طرح بھی لیک نہ ہو اور وہ صرف سرکاری و آفیشل مقاصد کے لیے استعمال ہو۔ اسی صورت میں پولیس کو شہریوں کی جانب سے فراہم کیا جانے والا ڈیٹا کلیکٹ کرنا چاہیے۔
اُنہوں نے ایسی مختلف مثالیں بھی دیں جب سرکاری اداروں کی جانب سے شہریوں کا ڈیٹا لیک کیا گیا، اور ان کیسز کا بھی ذکر کیا جب پولیس خود جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ملوث ہوتی ہے۔