پاکستان نے افغان طالبان حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ جب تک وہ پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس اور فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتی، افغانستان کے ساتھ تجارت نہیں ہوگی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعے کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ جب تک افغان طالبان دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے، کوئی تجارت نہیں ہوگی۔
ترجمان نے افغانستان کے نائب وزیرِ اعظم کے پاکستان کے ساتھ تجارت نہ کرنے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’انسانی جان کی قیمت تجارت سے کہیں زیادہ ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
دہشتگردی کے خطرات، ’بلوچستان سے سفر جیل توڑ کر نکلنے جتنا مشکل‘Node ID: 897184
’پاکستان صرف اسی صورت افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ اور دیگر تجارت جاری رکھے گا جب طالبان حکومت ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر پاکستان مخالف تنظیموں کے خلاف موثر اقدامات کرے۔‘
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کی، لیکن کسی دہشت گرد تنظیم سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ترجمان کے مطابق افغان طالبان رجیم کے ساتھ مذاکرات 7 نومبر کو استنبول میں مکمل ہوئے، تاہم پاکستان کی جانب سے طالبان حکومت کے کردار پر شدید تحفظات موجود ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد پاکستان کے اندر دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ’بھاری مالی اور جانی نقصان کے باوجود پاکستان نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن طالبان کی طرف سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔‘
ترجمان نے کہا کہ طالبان کے وعدے زبانی کلامی ثابت ہوئے۔ ’افغان طالبان پاکستان مخالف گروہوں کی معاونت کر رہے ہیں۔‘

طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے بعض عناصر نے پاکستان کے خلاف جہاد کے فتوے تک جاری کیے۔
سرحدی سکیورٹی اور سیز فائر پر پاکستان کا مؤقف
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیز فائر سے متعلق صورتحال ’انتہائی پیچیدہ‘ ہے۔
ان کے مطابق پاکستان اس وقت کوئی حتمی بات نہیں کر سکتا، تاہم طویل باڈر ہونے کے باعث پاکستان مسلسل حالات کا جائزہ لے رہا ہے۔
ترجمان نے سابق امریکی صدر ٹرمپ کے ایٹمی تجربات سے متعلق بیان پر انڈین پروپیگنڈے کو ’غلط اور بے بنیاد‘قرار دیا۔













