Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مصری لڑکی 5خوبصورت خواتین میں شامل

قاہرہ ...... مصری چینل کے ڈائریکٹر نے صحافی خاتون وفا البدری کو جب یہ کہا کہ تمہارا چہرہ ٹی وی اسکرین کیلئے موزوں نہیں تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ البدری کے چہرے کا رنگ سیاہی مائل ہے۔ اس نے ابلاغی مہارت اور صلاحیت کے باوجود چہرے کی رنگت پر نسلی تفریق والے تبصرے بار بار سنے اور ملازمت سے استعفیٰ دیدیا۔ البدری نے الحیاة اخبارکو بتایا کہ مصر میں چہرے کی رنگت کو لیکر نسلی تفریق پائی جاتی ہے او ر سیاہ رنگت کی لڑکی ہو تو اسے زیادہ پریشان کیا جاتا ہے۔ البدری نے نسلی تفریق کے اس ماحول سے نجات حاصل کرنے کے لئے مصر کو خیر باد کہہ دیا اور جرمنی پہنچ گئی ۔ وہاں یورپی صحافیوں کے توسط سے اسکالر شپ حاصل کرکے اعلیٰ تعلیم کی تکمیل کا سلسلہ شروع کردیا۔ اسے عرب نژاد ہونے یا چہرے کی رنگت مختلف ہونے کی وجہ سے جرمنی میں نسلی تفریق کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ برلن کی ایک سڑک پر اسکی ملاقا ت غیر ملکی خاتون سے ہوئی۔ جس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ روم کی فوٹو گرافر مہائلا نوروک ہے۔ پھر فوٹو گرافر خاتون نے اس سے فوٹو لینے کی درخواست کی اور وہ دنیا بھر کی حسیناوں کی ویب سائٹ کو ارسال کردی۔ البدری نے بتایا کہ کبھی خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا تھا کہ تقدیر کا نوشتہ میرے ساتھ اتنا زبردست انصاف کریگا۔ مجھے دنیا کی5 خوبصورت ترین خواتین کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ۔ اب محسوس کرتی ہوں کہ میں خوبصورت ہوں۔البدری نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ دیگر 4 حسیناوں کا تعلق کس ملک سے ہے کیونکہ کبھی کسی کو دیکھا نہیں او ر کسی کی براہ راست ملاقات کبھی نہیں ہوئی۔

شیئر: