Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پینٹاگون ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، واشنگٹن پوسٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک کسی فوجی تعیناتی کی منظوری نہیں دی (فوٹو:اے ایف پی)
واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون ایران میں ہفتوں تک جاری رہنے والی زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک کسی فوجی تعیناتی کی منظوری نہیں دی۔
ان کارروائیوں میں ممکنہ طور پر خرگ جزیرہ اور خلیج فارس کے قریب ساحلی مقامات پر چھاپے یا محدود آپریشنز شامل ہو سکتے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ کسی بھی زمینی کارروائی کا مقصد مکمل بڑے پیمانے پر حملہ نہیں ہوگا، بلکہ اس میں خصوصی افواج اور عام انفنٹری فوج کے چھاپے شامل ہوں گے۔
روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون ایران میں زمینی افواج تعینات کرنے سمیت عسکری کارروائیوں پر غور کر رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کو کہا کہ امریکہ اپنے مقاصد بغیر زمینی افواج کے حاصل کر سکتا ہے تاہم کچھ فوجیں خطے میں تعینات کی جا رہی ہیں تاکہ صدر ٹرمپ کے پاس اپنی حکمت عملی کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ لچک ہو۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے رواں ہفتے کے آغاز پر رپورٹ کیا تھا کہ پینٹاگون ایران کے خلاف کارروائیوں میں مدد کے لیے فوج کے ایلیٹ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن سے کم از کم ایک ہزار اہلکاروں کو تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ تعداد خطے میں پہلے سے موجود 50 ہزار فوجی اہلکاروں کے علاوہ ہے۔
میرینز اور زمینی کارروائیاں کرنے والے فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی اطلاعات سے ان قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ فوج کی تعیناتی کے ذریعے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے یا ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے اہم جزیرے خارگ پر قبضے کے لیے محدود زمینی کارروائی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ 
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی زمینی افواج یقینی طور پر خارگ پر قبضہ اور آبنائے ہرمز کو محفوظ بنا سکتی ہے لیکن اس کے بدلے میں امریکی جانیں جا سکتی ہے اور بھاری رقم  جو ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں سے حاصل ہوتی ہے۔

 

شیئر: