مشرقِ وسطیٰ جنگ پر اجلاس، ترکیہ کی ثالث پاکستان کے ساتھ مشاورت کی تجویز
ترکیے کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے حوالے سے پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیے کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے کے اختتام پر پاکستان میں متوقع ہیں۔
امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان جاری تنازع کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں اسلام آباد فریقین کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ترکیے کے وزیر خارجہ حکان فیدان نے نجی نشریاتی ادارے ’اے ایچ بی آر‘ کو بتایا کہ ’ابتدائی طور پر ہم نے یہ اجلاس ترکیے میں منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم چونکہ ہمارے پاکستانی ہم منصبوں کو اپنے ملک میں رہنا ضروری ہے، اس لیے ہم نے اجلاس کو پاکستان منتقل کر دیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’امکان ہے کہ ہم اس ہفتے کے اختتام پر وہاں ملاقات کریں گے۔‘
انقرہ کے اعلیٰ سفارت کار کے مطابق ان مذاکرات میں چار مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔
اس سے قبل جمعے کو جرمنی کے وزیر خارجہ یوان واڈیفل نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست ملاقات ’بہت جلد‘ پاکستان میں ہوگی، تاہم انہوں نے اپنے ذرائع ظاہر نہیں کیے۔
دوسری جانب تہران نے واشنگٹن کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کی تردید کی ہے جبکہ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم ذریعے نے بتایا کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی منصوبے پر اپنا ردعمل اسلام آباد کے ذریعے پہنچا دیا ہے۔
