Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی صدر نے مذاکرات اور ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا: پاکستان

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف سے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع پر مذاکرات اور ثالثی کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی اعتماد ناگزیر ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے سنیچر کو جاری کیے گئے  بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک گھنٹے سے زائد دورانیے پر مشتمل ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی صدر نے اس موقع پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے سفارتی روابط کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی، نائب وزیراعظم  اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امریکہ، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں سے آگاہ کیا، جن کا مقصد امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے امن اقدام کی بھرپور حمایت کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اجتماعی کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کی کوئی مؤثر راہ نکلے گی۔
ایرانی صدر نے وزیراعظم کی مخلصانہ سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایران کے خلاف اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے اپنا مؤقف بیان کیا۔  انہوں نے مذاکرات اور ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا اور اس ضمن میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ چار مسلم ممالک سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور پاکستان کے وزراء خارجہ کل اتوار کو اسلام آباد میں ملاقات کریں گے۔
سنیچر کو جاری کردہ بیان کے مطابق ’نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی 29 سے 30 مارچ 2026 تک اسلام آباد کا سرکاری دورہ کریں گے۔‘
ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’اس دورے کے دوران وزرائے خارجہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت مختلف اہم امور اور باہمی دلچسپی کے کثیر الجہتی شعبوں میں تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔‘
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مقامی نیوز چینل ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اس اہم سفارتی پیش رفت کی مزید تفصیلات بتائیں کہ یہ چار فریقی اجلاس پہلے ترکیہ میں ہونا طے پایا تھا تاہم ان کی دیگر مصروفیات کے باعث انہوں نے برادر ممالک کے وزرائے خارجہ کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی جسے قبول کر لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’پیر کو یہ تمام اعلیٰ حکام وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور تمام دوست ممالک اس سلسلے میں بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔‘
اس سے قبل فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے رپورٹ کیا تھا کہ وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے حوالے سے پیر کے روز ایک چار فریقی اجلاس کی میزبانی کرے گا جس کے لیے وفود کی اتوار کی شام تک آمد متوقع ہے۔
اے ایف پی کے مطابق جنگ کے طویل ہونے کے ساتھ ہی پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے اور اسلام آباد اس وقت فریقین کے درمیان پیغامات کی ترسیل کے لیے ایک معتبر ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ تہران کے ساتھ دیرینہ مراسم اور خلیجی ممالک سے قریبی تعلقات کے علاوہ، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قائم ذاتی تعلقات اس عمل میں انتہائی معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
اسی دوران ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پیش کیے گئے 15 نکاتی منصوبے پر اپنا جواب اسلام آباد کے ذریعے واشنگٹن کو بھجوا دیا ہے، اگرچہ ایران نے اب تک امریکہ کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا اعتراف نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ پاکستانی ہم منصبوں کا اس وقت اپنے ملک میں رہنا ضروری تھا، اس لیے اجلاس کا مقام ترکیہ سے پاکستان منتقل کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ جرمن وزیرِ خارجہ جوہان واڈفول نے بھی ایک حالیہ بیان میں امکان ظاہر کیا ہے کہ بہت جلد پاکستان کی سرزمین پر امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست ملاقات ہو سکتی ہے۔ پیر کو ہونے والے یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل تصور کیے جا رہے ہیں۔

شیئر: