سینکڑوں اسرائیلی شہری جنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، پولیس سے جھڑپیں
سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا (فوٹو: اے ایف پی)
تل ابیب اور اسرائیل کے کچھ دیگر شہروں میں سنیچر کو سینکڑوں افراد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔
چونکہ ان مظاہروں کی اجازت نہیں تھی اس لیے سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجسنی اے ایف پی کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے خلاف ہر ہفتے تل ابیب اور دیگر مقامات پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔
شروع میں ان مظاہروں میں صرف چند درجن افراد شریک ہوتے تھے تاہم اب لوگوں کی تعداد بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ لیکن یہ تعداد اب بھی گزشتہ سال غزہ کی جنگ کے خلاف ہونے والے بڑے مظاہروں جتنی نہیں ہے جن میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے تھے۔
سنیچر کے روز ہونے والے مظاہروں میں کچھ سابق اراکینِ پارلیمنٹ اور بائیں بازو کی معروف تنظیمیں بھی شامل ہوئیں جن میں سٹینڈنگ ٹوگیدر، پیس ناؤ اور ویمن ویج پیس شامل ہیں۔
اے ایف پی کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تل ابیب میں پولیس اہلکار مظاہرین کو منتشر کر رہے ہیں۔ جنگ کے دوران نافذ سکیورٹی قوانین کے تحت اسرائیل میں 50 سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی ہے کیونکہ ملک کو ایران اور لبنان کی جانب سے روزانہ میزائل اور راکٹ حملوں کا سامنا ہے۔
منتظمین میں سے ایک گروپ کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان مظاہروں کی اجازت نہیں لی گئی تھی۔
تل ابیب میں اے ایف پی کے صحافیوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے کچھ مظاہرین کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے پیچھے دھکیلا، کئی افراد کو زمین پر گرا دیا گیا اور ایک شخص کو گردن سے دبوچ کر قابو میں کیا گیا۔
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ ’غیر قانونی مظاہرہ‘ اس وقت ختم کر دیا گیا جب ہوم فرنٹ کمانڈ کے ایک نمائندے نے واضح کیا کہ ہنگامی قوانین کے تحت اس طرح کا اجتماع ممنوع ہے۔
پولیس کے مطابق شہر میں 13 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ حیفا میں مزید پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا جہاں ’ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے سڑک بلاک کرنا شروع کر دی اور پولیس کے احکامات پر عمل نہیں کیا۔‘
یہودی اور عرب کارکنوں کے گروپ سٹینڈنگ ٹوگیدر کے منتظمین نے ایک بیان میں کہا کہ پولیس کو ’گرفتاریاں کرنے اور اختلافِ رائے کو دبانے کی ہدایات دی گئی ہیں‘، اور یہ بھی کہا کہ ’حکومت احتجاجی تحریک کے وسیع پیمانے پر پھیلنے سے خوفزدہ ہے۔‘
