Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یمن کے حوثیوں نے اسرائیل پرمیزائل داغ دیے

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے یمن سے داغا گیا ایک میزائل فضا میں مار گرایا ہے، جو ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد یمن سے داغا گیا پہلا میزائل ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ جنگ اب پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور توانائی کی فراہمی میں اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، جس نے عالمی معیشت کو متاثر کیا اور مہنگائی کے خدشات کو ہوا دی ہے۔
 سنیچر کو اسرائیل نے کہا کہ اس نے یمن سے داغے گئے میزائل کو فضا ہی میں تباہ کر دیا تاہم فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ میزائل کس نے داغا اور اس کا ہدف کیا تھا۔
یمن کے حوثیوں نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف جاری اسرائیل امریکہ جنگ کے دوران پہلی بار اسرائیل پر حملہ کیا ہے، جس کے ساتھ ہی وہ اس تنازع میں باضابطہ طور پر شامل ہو گئے ہیں اور اس سے خطے میں وسیع تر محاذ آرائی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ متعدد میزائلوں کے ذریعے کیا گیا، جو ایران، لبنان، عراق اور فلسطینی علاقوں میں انفراسٹرکچر کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے بعد کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام محاذوں پر ’جارحیت‘ ختم نہیں ہو جاتی۔

جنگ کے پھیلاؤ کا خدشہ

حوثیوں کی اس جنگ میں شمولیت سے تنازع کے مزید پھیلنے اور طویل ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا کیونکہ ان کے پاس یمن سے دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے اور جزیرہ نما عرب کے اطراف اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے راستوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت موجود ہے جیسا کہ وہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں حماس کی حمایت میں کر چکے ہیں۔
اگر حوثی اس تنازع میں ایک نیا محاذ کھولتے ہیں تو ایک نمایاں ہدف آبنائے باب المندب ہو سکتی ہے جو یمن کے ساحل کے قریب واقع ایک اہم بحری گزرگاہ ہے اور سویز نہر کی جانب جانے والی سمندری آمد و رفت کو کنٹرول کرتی ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر چکا ہے۔
یمن کی حوثی تحریک نے جمعے کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے ان کے اتحادی ایران کو نشانہ بناتے رہے یا مزید ممالک اس جنگ میں شامل ہوئے تو وہ بھی اس جنگ میں شامل ہو جائیں گے۔
حوثی ماضی میں علاقائی تنازعات کے ردعمل میں بحیرۂ احمر میں جہازوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں تاہم وہ اب تک حالیہ جنگ میں براہِ راست مداخلت سے گریز کرتے رہے تھے۔
حوثیوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ براہ راست فوجی مداخلت کے لیے ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں‘۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر دیگر ممالک امریکہ اسرائیل جنگ میں شامل ہوئے یا بحیرۂ احمر کو ’جارحانہ کارروائیوں‘ کے لیے استعمال کیا گیا تو وہ کارروائی کریں گے۔

شیئر: