Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مفتوح

جاوید اقبال
 شہنشائے سخن میر تقی میر سے بات کا آغاز کرتے ہیں۔ یوں تو ان کی ساری زندگی مجسم افسردگی تھی اور اس کا اثر ان کے کلام میں بھی انتہائی واضح تھا مگر 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ان کی قنوطیت میں بے حد اضافہ ہوگیا تھا۔ ویسے بھی کھرے انسان تھے اس لیے بات پر پردہ ڈالنے کی بجائے حقیقت بیانی کو ہی زندگی کا شعار بنائے بیٹھے رہے۔ جنگ آزادی کے بعد ایک دن بگھی میں سوار کہیں جارہے تھے۔ ایک گورا بھی اسی سواری میں تھا۔ میر تقی میر سے انتہائی فخریہ انداز میں بولا ’’ڈیکھو مسٹر! ہم ٹمہارا ٹین زبان سیکھ لیا۔ ہم بنگالی اب جانٹا ، ہم ٹامل بھی سیکھا اور ہم ارڈو بھی جانٹا۔ کیسا ہے؟‘‘ میر نے ایک بیزار خاموشی اختیار کرلی۔ تھوڑی دیر جواب کا انتظار کرنے کے بعد انگریز دوبارہ میر تقی میر سے مخاطب ہوا ’’ٹم بولا نہیں؟ بٹاؤ ٹمہیں کیسا لگا کہ ام ٹمہارا ٹین زبان بولنا جانٹا؟‘‘ میر نے بڑی بیزاری سے انگریز کو جواب دیا ’’گورے صاحب! اسے زبان کا سیکھنا نہیں زبان کا برباد کرنا کہتے ہیں۔ جب لہجے پر قدرت نہ ہو اور الفاظ کی ادائیگی بھی درست نہ ہو تو پھر زبان دانی کا دعویٰ نہیں کرنا چاہییے‘‘ واقعے میں اس بات کا تو کوئی ذکر نہیں کہ انگریز نے یہ بات سن کر میر تقی میر سے کیا کہا تھا لیکن میر کے دیے گئے جواب سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ کسی بھی زبان کے پنپنے کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف اس کی تحریر و تقریر کی صحت پر توجہ دی جائے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ اپنی صحیح شکل میں اگلی نسلوں کو بھی منتقل ہو۔
    میرا یہ کالم روزنامہ جنگ لندن میں بھی باقاعدگی سے ہر بدھ کو شائع ہوتا رہا ہے۔ 8 برس پیشترلندن جانے کا اتفاق ہوا تو چند احباب اور میرے کالم کے قارئین نے ایک نشست کا اہتمام کر ڈالا۔ علامہ اقبال سوسائٹی لندن کے نگران ان دنوں معروف ماہر اقبالیات پروفیسر شریف بقا تھے۔ انہی کے زیر صدارت اجتماع منعقد ہوا۔ کوئی نصف درجن مصامین پڑھے گئے اور پھر شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ ایک سو کے قریب حاضرین میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد تھی۔ لیکن اردو کے ان عشاق میں کوئی نوجوان نہیں تھا۔ سب ادھیڑ عمر کے یا ضعیف تھے جو اپنی زبان سے پیار اپنی گھٹی میں اٹھائے برطانیہ پہنچ گئے تھے اور پھر اپنی ممکنہ حد تک اس زبان کو زندہ رکھنے کی سعی کرتے رہے تھے۔ مہینے میں ایک آدھ بار کوئی اجتماع ہوجاتا اور داغ ہائے سینہ کو تازہ رکھنے کے لیے ماضی دوبارہ جی لیا جاتا تھا۔ جب میں نے اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کیا تو مجھے بتایا گیا کہ نوجوان نسل کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ اسے اردو پر ضائع کرے چنانچہ اقبال سوسائٹی جیسے گوشہء عافیت میں بزرگ ایک آدھ نشست میں دل کے پھپھولے پھوڑ لیا کرتے تھے۔ برطانوی بودو باش نے بچوں کے ذہنوں کو یوں مفلوج کر رکھا تھا کہ وہ زبان مادر و پدر کا مطالعہ غیر ضروری اور وقت کا ضیاع سمجھتے تھے۔ ہٹلر نے ایک بڑا پتے کا جملہ کہا تھا۔ جب اس کے پروپیگنڈا منسٹر گوئبلزنے اسے یقین دلانا چاہا تھا کہ اس کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا تو ایڈولف ہٹلر کے الفاظ تھے ’’تاریخ ہمیشہ فاتح کی مرضی کے مطابق رقم ہوتی ہے‘‘ لیکن اسے یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ مفتوح معاشرے کی اقدار کو بھی فاتح تہس نہس کرکے رکھ دیتا ہے‘‘۔ فرغانہ کے ظہیر الدین بابر کے ہاتھوں ابراہیم لودھی کی شکست نے برصغیر کی ثقافت کا دھارا بدل دیا۔ فارسی عدالتوں اور درباروں میں متعارف ہوئی۔مغلئی طعام کی فرحت بخش مہک نے خور د و نوش کو نئی اقدار عطا کردیں۔ تمدن کے پیمانے بدل گئے۔ فاتح نے نیا معاشرہ تشکیل دے دیا۔1857 ء  کے بعد ایک نیا فاتح تھا اس لیے نئی زبان تھی۔ آمناد صدقنا  کہتے سارا معاشرہ موم کی ناک بن گیا۔ اکبر الہ آبادی چیختا رہ گیا، لوگ نئے فاتح کے محکوم ہوگئے۔ فارسی اور اردو ادق زبانیں قرار دے دی گئیں اور انگریزی کا سیلاب ہماری اقدار کو بہا لے گیا۔ شمال میں بھی 1917ء کے روسی انقلاب کے بعد یہی صورتحال بنی تھی۔ سوویت اتحاد کے وجود میں آتے ہی مفتوحہ ریاستوں میں روسی زبان کا غلبہ ہوگیا۔ باقی زبانیں ثانوی حیثیت اختیار کرگئیں اور رفتہ رفتہ قصہ ہائے پارینہ بن گئیں۔ فاتح ہی تاریخ لکھتا اور مفتوح علاقوں کی ثقافتی اقدار کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالتا رہا۔
     ملکہ وکٹوریہ کے عنان اقتدار میں برطانیہ نے پر کھولے اور کرہ ارض کویوں زیر نگیں کیا کہ اس کی سلطنت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ ان ملکوں پر نہ صرف یونین جیک لہرایا اور گاڈ سیودا کوئین ‘‘ کا ترانہ گایا گیا بلکہ انگریزی کو ان کی مقامی زبانوں کے سینے پر سوار کرادیا گیا۔ مشرقی کینیڈا اور شمالی افریقا فرانس سے ہار بیٹھے چنانچہ آج بھی ان علاقوں کی دفتری زبان فرانسیسی ہے۔ اسپین اور پرتگال کے بحری بیڑے جنوبی اور وسطی امریکی ساحلوں پر فاتح جا بنے تو آج بھی برازیل ، میکسیکو ، ارجنٹائن ، چلی وغیرہ ان ہی فاتح زبانوں کے مرہون منت ہیں۔ ولندیزی بحیرہ عرب سے گزرتے انڈونیشیا کے ساحلوں پر قابض ہوئے اور مدتوں ہند چینی کے جنگلات سے لکڑی لوٹنے کے علاوہ وہاں اپنی زبان کو متعارف کرا گئے۔ احمد سوئیکارنو ولندیزی کا ایک بے مثال مقرر تھا۔ اسی نے اپنے وطن جزائر غرب الہند کو آزادی دلائی۔ تو یہ حقیقت ہے کہ مفتوح قوم کی معاشرتی اقدار کو ہمیشہ فاتح اپنی مرضی کے مطابق نیا رخ دیتا ہے، انہیں شکست و ریخت سے دوچار کرتا ہے۔
     ’’گلوبل ویلج‘‘ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ساری دنیا کو ایک سی معاشرتی اقدار اور ایک ہی زبان سے وابستہ کرکے ایک اکائی بنادیا جائے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی شاطر انداز میں کیا جارہا ہے۔ ہماری نوجوان نسل کو اردو اور اپنی معاشرتی اقدار سے کوئی غرض نہیں۔ اسے اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ اردو کا رسم الخط دائیں سے بائیں کو جاتا ہے۔ وہ اپنی محدود آموختہ اردو کو رومن رسم الخط میں تحریر کرکے اپنا پیغام منزل مقصود تک پہنچا دیتی ہے۔ میرے نوجوان اب ٹیلی ویژن پر اردو میں پروگرام دیکھنے کی بجائے اپنے موبائل فون پر مخرب اخلاق پروگرام دیکھتے ہیں، انگریزی کا استعمال کرکے پیغامات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ وہ ثقافتی طور پر مفتوح ہوچکے ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ علامہ اقبال سوسائٹی لندن میں یا ایوان اقبال لاہور میں یا کرہ ارض کے کسی اور مقام پر ایک سفید مو جہاندیدہ نسل بیٹھی اپنی زبان و ثقافت و ماضی کے آئندہ کا سوچ کر افسردہ ہورہی ہے۔ آج یوم اقبال صرف اس لیے آتا ہے کہ اس دن ہم نے مزار اقبال پر گارڈز تبدیل کرنا ہوتے ہیں۔
 
مزید پڑھیں:- - - - -خواجہ آصف کی نااہلی کے دور رس نتائج نکلیں گے

شیئر: