Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی ملا اپنا گلا خود گھوٹنے لگے

22جون 2018ء جمعہ کو شائع ہونیوالے عربی اخبار’’ عکاظ‘‘ کا اداریہ نذر قارئین
    یورپی کمپنیوں نے بین الاقوامی قوانین و روایات کے منافی ایرانی ملاؤں کے نظام کے ایجنڈوں اور پالیسیوں کیخلاف برق رفتار اقدامات شروع کردیئے۔ ایران کے ایٹمی منصوبے اور بیلسٹک میزائل پر لگائی جانے والی بین الاقوامی پابندیوں کے تناظر میں یورپی کمپنیوں نے ایرانی مارکیٹ کو خیر باد کہنا شروع کردیا۔ فرانس کے وزیر خزانہ نے واضح طور پر کہا کہ فرانس کی کمپنیاں ایرانی مارکیٹ میں نہیں رہ سکتیں۔ فرانس کی 10بڑی کمپنیوں اور یورپ انویسٹمنٹ بینک سمیت کئی بینکوں نے ایران میں دفاتر بند کردیئے۔ ایران کے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی اور ایران پر نئی پابندیوں کے بعد سے بڑی بڑی عالمی کمپنیاں ایران سے پیچھا چھڑانے لگیں۔ اس کی وجہ سے ایران کی معیشت تباہی کی طرف بڑھنے لگی۔ایران کو عالمی معاشرے سے ٹکر لینے کا خمیازہ بھگتنا پڑیگا۔ ایرانی نظام کے سامنے الٹی گنتی کے سوا کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا۔
مزید پڑھیں: -------عالمی ادارے ایران سے نکلنے لگے

شیئر: