ایکوز آف مومنٹ: ’سعودی عرب اور اٹلی کے درمیان ثقافتی مکالمہ‘ کے عنوان سے نمائش
یہ نمائشں درعیہ بینالے کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے منعقد ہوئی ہے (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب میں اٹلی کے سفیر کارلو بل ڈوکی نے ’ایکوز آف مومنٹ (لمحوں کی بازگشت): سعودی عرب اور اٹلی کے درمیان مکالمہ‘ کے عنوان سے ایک نمائش کا افتتاح کیا ہے۔
یہ نمائشں درعیہ بینالے کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے منعقد ہوئی جو مملکت میں عہدِ حاظر کا نمایاں ترین فنی ایونٹ ہے اور بین الاقوامی آرٹ کے سب سے بڑے پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے۔
12 فروری تک جاری رہنے والی نمائش کے اس خیال کو سعودی عرب اور اٹلی کے مابین ثقافتی مکالمے کے لیے تخلیقی شکل دی گئی تاکہ موجودہ دور کے فنکاروں کے فنی کاموں پر حرکت کے موضوع کے ذریعے گفتگو ہو سکے اور حرکت کو محض جسمانی نہیں بلکہ علامتی، تاریخی اور ثقافتی تبدیلی کے طور پر سمجھا جا سکے۔
یوں حرکت کا مفہوم، سفر، تبادلۂ خیالات اور بڑی تبدیلیوں کے استعارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہےکیونکہ انہی عناصر یعنی سفر، خیالات کے تبادلے اور تبدیلیوں نے افراد و اقوام، ممالک اور خاص طور پر بحیرۂ روم اور مشرقِ وسطٰی کی تہذیبوں کے سیاق میں طویل عرصے سے رشتے ناتوں کو تشکیل دیا ہے۔
اس نمائش میں سفر کو مشترک انسانی حالات کی عکاسی کے لیے استعمال کیا گیا ہے، جس میں نقل مکانی کی حرکیات، ان کا دیگر عناصر سے آمنا سامنا ہونا اور ان کے ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے کی وجہ سے ثقافتی تاریخ پر گہرا اثر پڑا ہے جو آج کے دور کی تعریف بھی متعین کر رہا ہے۔

اس لحاظ سے ’لمحوں کی بازگشت‘ ، سے متعلق یہ نمائش خیالات، تصورات اور تخیلیات کو پھیلانے کے لیے غوروفکر کے ایک پلیٹ فارم کا کام دیتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ فن کی اُس قوت کو نمایاں بھی کرتی ہے جس کی اپنی خاص زبان ہے اور جو جغرافیائی اور دنیوی سرحدوں سے کہیں آگے نکل جاتی ہے۔
نمائش میں میمو پلاڈینو اور ڈیوڈ ریوالٹا کے فن پارے بھی رکھے گئے ہیں جو معاصر اطالوی فن میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔
فن پاروں کے علاوہ نمائش میں ڈیوڈ کا ایک یادگار مجسمہ بھی رکھا گیا ہے جو اس تقریب کو ممتاز حیثیت دیتا ہے۔

اس مجسمے میں فن کا اظہار اپنی پوری شدت کے ساتھ نظر آتا ہے اور براہِ راست مکالمے کا ایک بیان ہے جس میں حرکت اور موجودگی کے احساس کو خاص طور پر بھرپور انداز میں نمایاں کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نمائش کو دیکھنے کے لیے آنے والوں کا فن کے ساتھ جسمانی اور تصوراتی سامنا ہوتا ہے۔
اس نمائش کا انعقاد ’بلیک انجینیئرنگ‘ نامی کمپنی کے ساتھ کامیاب اشتراک کی وجہ سے ممکن ہو سکا ہے۔
’بلیک انجینیئرنگ‘ اٹلی کی ایک کمپنی ہے جو بین الاقوامی سطح پر بڑی بڑی ثقافتی اور فنکارانہ تقاریب کو ڈیزائن کرنے اور ان کے انعقاد کے لیے شہرت رکھتی ہے۔

اس کے پورٹ فولیو میں اعلٰی سطح کے منصوبے شامل ہیں جن میں جدہ میں ہونے والا اسلامی آرٹ بینالے، درعیہ بینالے اور العلا میں اپنی نوعیت کی مخصوص مرایا بلڈنگ شامل ہے۔
اس کے علاوہ یہ کمپنی کئی دیگر تہواروں کا انعقاد اور ا نتہائی احتیاط سے ترتیب دیے گئے اہم ایونٹس کی نگرانی کا کام بھی کر چکی ہے۔
ایک اور اطالوی کمپنی ’پارٹیکل‘ نے بھی اپنے جدید ڈیجیٹیل تجربے کو جس میں وہ بہت مہارت رکھتی ہے، بروئے کار لاتے ہوئے اس ایونٹ کے لیے اتنا ہی اہم کام کیا جس کی وجہ سے اس نمائش کی راہیں ڈیجیٹل صورت اختیار کر گئیں۔
ان عناصر کی وجہ سے نمائش میں رکھی گئی اشیا تک رسائی بہتر ہو گئی اور ان کی دستیابی، شو کے عملی دورانیے سے کہیں آگے نکل گئی ہے جس نے منصوبے کی جدید جہتوں اور طویل المعیاد اثر کو مزید تقویت دی ہے۔
