زمبابوے سے جیت کافی نہیں،مضبوط حریفوں سے کھیلنا ہے

 
لاہور:سابق لیگ اسپنر اور چیف سلیکٹر عبدالقادر نے کہا ہے کہ زمبابوے جیسی کمزور ٹیم کے خلاف کامیابیاں سمیٹنے سے کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر ہونے کے بجائے خراب ہونے کا خطرہ ہے۔سابق چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ دونوں میچوں میں پاکستان کی بیٹنگ لائن نے کسی غیر معمولی کھیل کا مظاہرہ نہیں کیا اور اس کا اندازہ ابتدائی اوورز میں اس کے رن ریٹ سے کیا جاسکتا ہے ۔صف اول کی کوئی ٹیم اب اس انداز کی بیٹنگ نہیں کرتی اور اس طرح کے میچ یا سیریز جیت کر خوش ہونا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے کیونکہ ہند، آسٹریلیا اور انگلینڈ یا نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کے خلاف ایسی بیٹنگ کرکے جیتنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔اگر اس سیریز کے میچ میں ہماری بولنگ فیل ہو گئی تو اندازہ ہوگا کہ ہم بیٹنگ میں کہا ںکھڑے ہیں۔عبد القادر نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر زور دیا ہے کہ وہ انگلینڈ میں آئندہ برس ہونے والے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے ابھی پاکستانی ٹیم تیار کرلے،وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ میگا ایونٹ کیلئے ٹیم بنا کر اس کی خامیوں خوبیوں سے آگاہی حاصل کی جائے جبکہ بیک اپ کے طور پر کھلاڑیوں کا تعین کرلیا جائے تاکہ سب کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہونے اور میگا ایونٹ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا اندازہ ہو سکے۔ پاکستانی ٹیم کو آنے والے دنوں میں مضبوط حریفوں سے کھیلنا ہے اور ہمیں اس کی تیاری کرنا ہوگی تاکہ بہتر کارکردگی سے اعتماد حاصل کیا جائے جو کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ میں بھی فائدہ پہنچائے گا۔ انہوں نے تجویز دی کہ پی سی بی لازمی طور پر ’ اے ‘ ٹیم بھی تیار کرے، جو قومی ٹیم کی جگہ لینے کےلئے ہمہ وقت تیار رہے۔

شیئر: