Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ ایران کے ساتھ جمعے کو عمان میں مذاکرات کرے گا، وائٹ ہاؤس کی تصدیق

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ جمعے کو عمان میں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کرے گا۔
یہ مذاکرات ایسے ماحول میں ہو رہے ہیں جب گذشتہ ماہ تہران میں ملک گیر احتجاج کو دبانے کے لیے خوں ریز کریک ڈاؤن کے بعد سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
عرب نیوز نے خبر رساں ایجنسیوں کے حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ’ایران ایک مختلف نوعیت کی ملاقات چاہ رہا ہے جو ترکیہ کی تجویز کردہ ملاقات سے مختلف ہے: ایسی ملاقات جو صرف ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے پر مرکوز ہو اور جس میں صرف ایران اور امریکہ شرکت کریں۔‘
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اہلکار نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ ترکیہ کے بجائے عمان میں ایران کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں شریک ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ’کئی عرب اور مسلم رہنماؤں نے بدھ کے روز ٹرمپ انتظامیہ سے کہا تھا کہ وہ مذاکرات سے دستبردار نہ ہو، حتیٰ کہ ایرانی حکام نے مذاکرات کے دائرہ کار کو محدود کرنے اور جگہ تبدیل کرنے پر زور دیا۔
اہلکار نے مزید بتایا کہ ’وائٹ ہاؤس اب بھی مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں بہت شکوک و شبہات کا شکار ہے تاہم خطے میں اتحادیوں کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے منصوبے میں تبدیلی کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھنے پر رضامند ہے۔‘
گذشتہ روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں جبکہ امریکہ نے بحیرہ عرب میں ایران کا ایک ڈرون بھی مار گرایا ہے۔
منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ مذاکرات کر رہے ہیں۔‘ تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ جنگی جہاز ایران کا رخ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’اگر بات معاہدے تک نہ پہنچ سکی تو پھر تلخ چیزیں سامنے آئیں گی۔‘
ایران کے صدر نے بھی منگل کو اس امر کی تصدیق کی کہ انہوں نے ’دوست ممالک کی حکومتوں‘ کی جانب سے درخواست کے بعد امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
صدر مسعود پژشکیان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’میں نے اپنے وزیر خارجہ کو ہدایت کی ہے بشرطیکہ مناسب اور خطرات سے پاک ماحول موجود ہو اور منصفانہ طور پر مساوی مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دوست ممالک کی جانب سے درخواستوں کے بعد بات چیت ہونے جا رہی ہے۔‘

 

شیئر: