ذائقے دار مندی، الدغابیس اور خبز المیفا، الباحہ کی سردیوں کی پسندیدہ ڈش
موسمِ سرما کے دوران الباحہ ریجن میں اُن روایتی سعودی پکوانوں کی طلب میں یکدم اضافہ ہو جاتا ہے جو یہاں کے کھانے پکانے کے فن اور ثقافتی ورثے کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔
تھامہ میں یہ سب کچھ بہت واضح طور پر نظر آتا ہے جو عموماً طباخی کی روایتی قدر و قیمت کی وجہ سے اور بالخصوص المندی اور خبز المیفا یا میفا بریڈ کے باعث مشہور ہے۔
یہ کھانے مقامی طور پر تیار کیے گئے اجزا سے بنائے جاتے ہیں جن میں گندم، غلہ اور تازہ گوشت شامل ہے۔ ان میں غذائیت بھی زیادہ ہوتی ہے اور یہ سردیوں کے موسم میں مثالی کھانے سمجھے جاتے ہیں۔ فیملیاں ان پکوانوں کو اکٹھے ہو کر کھانا پسند کرتی ہیں جس سے سماجی ارتباط اور ثقافتی میراث دونوں اجاگر ہوتے ہیں۔
مندی کو جو خاص طور پر چاولوں اور گوشت کی ایک ڈش ہے، روایتی انداز میں دھیمی آنچ پر دیر تک زیرِ زمین تنور میں پکایا جاتا ہے۔ اس میں طرح طرح کے خشبودار مسالے ڈالے جاتے ہیں جن سے اس میں دھوئیں سے پکائے جانے والے کھانے کا ذائقہ شامل ہو جاتا ہے۔
گندم سے تیار کی گئی چیزیں اس ریجن کی روایتی میزبانی کا لازمی خاصہ ہیں۔خبزالمیفا جو زیرِ زمین تنور میں گندم کے آٹے سے پکتی ہے، اپنے منفرد لمس کے لیے جانی جاتی ہے۔ اسے اکثر شوربے اور گوشت کی کسی ڈش کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

سردیوں کے موسم میں دیگر کھانوں میں ’عصیدہ‘ شامل ہے جو نمکین دلیے جیسی ڈش ہے جسے آٹے سے پکاتے ہیں۔ ’الدغابیس‘ آٹے کے پیڑوں کی طرح کی ایک ڈش ہے جس میں کافی زیادہ مقدار میں گوشت سے بنائی جانے والی یخنی کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ اور ’خبزالمقنی‘ بھی اسی موسم میں پسند کی جاتی ہے جس دہکتے انگاروں پر پکایا جاتا ہے۔
یہ پکوان سعودی طباخی کی اس وراثت کے نمائندہ ہیں جو نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔ الباحہ کے رہنے والے اور یہاں کے ریستورانوں کے مالکان اسے ورثے کو بچائے رکھنے اور آگے بڑھانے کا پختہ عزم کیے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر سردیوں کے موسم میں ان پکوانوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے کیونکہ مقامی مارکیٹیں اور فیملی کے اجتماعات میں ان روایتی کھانوں کی مہک دل لبھاتی ہے۔