حلقہ فکرو فن کا اشفاق احمد کو خراج عقیدت

اردوکے عظیم افسانہ نگار، ڈرامہ نگاراور نثر نگار کوہم سے بچھڑے 14 برس بیت گئے لیکن آج بھی وہ اپنی کہانیوں کے ذریعے ہمارے دلوں میں موجود ہیں
ادب ڈیسک ۔ریاض
اردوکے عظیم افسانہ نگار، ڈرامہ نگاراور نثر نگاراشفاق احمد کوہم سے بچھڑے 14 برس بیت گئے لیکن آج بھی وہ اپنی کہانیوں کے ذریعے ہمارے دلوں میں موجود ہیں ۔حلقہ فکرو فن نے انکی اردو ادب میں خدمات کو زبردسث خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
حلقہ فکروفن کے صدر ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری نے کہا ہے کہ اشفاق احمد کو ادب کی دنیا میں جو مقام نصیب ہوا وہ کم ہی ادیبوں کو نصیب ہوتا ہے۔اردو زبان اور لاہور کی لذت سے لبریز پنجابی الفاظ کو ادبی تناظر کے جس قالب میں اشفاق احمد نے ڈھالا اس کی مثال نہیں ملتی۔ 
حلقہ فکروفن کے جنرل سیکریٹری وقار نسیم وامق نے کہا کہ انہیں کہانی لکھنے پر جتنا عبور تھا ،اسی طرح وہ بہترین قصہ گو بھی تھے جس کی مثال پروگرام "زاویہ" میں نوجوانوں کی بھرپور تعداد میں شرکت اور آپ کے گھر پر منعقدہ محفلیں ہیں جن میں ہر عمر اور ادب کا متوالا اپنی شرکت کو باعث افتخار سمجھتا تھا۔
ڈاکٹر محمود احمد باجوہ نے خراج عقیدت پیش کہا کہ اشفاق احمد کی تصانیف میں ایک محبت سو افسانے ، اجلے پھول، سفر در سفر، کھیل کہانی، ایک محبت سو ڈرامے، توتاکہانی اور زاویہ جیسی بہترین شاہکارتحریریں شامل ہیں اور ان کا ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہونے والا پروگرام "تلقین شاہ" آج بھی نئے لکھنے والوں کیلئے مشعل راہ ہے۔
منصور چوہدری نے بتایاآج بھی اہل فہم و فراست بابا اشفاق احمد کو یاد کرتے ہیں کیونکہ ادیب یادوں میں موجود رہتا ہے ۔وہ اپنی تحریر کی صورت میں اپنے وجود کا احساس دلاتا رہتا ہے ۔
محمد صابر قشنگ نے اپنا منظوم خراج عقیدت پیش کیا اور بتایا کہ اشفاق احمد کو صدارتی تمغہ برائے ح±سن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
 

شیئر: