Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران بنگلہ دیش میں تین ٹیموں پر مشتمل نئے کرکٹ ٹورنامنٹ کا اعلان

ٹورنامنٹ کے تمام مقابلے ڈھاکا کے شیرِ بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں منعقد ہوں گے۔ تصویر: بی سی بی
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے قومی سطح پر کرکٹ سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے ’اوڈومو بنگلا دیش ٹی20 کپ‘ کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ ایونٹ ایک ایسے وقت میں منعقد کیا جا رہا ہے جب بنگلہ دیش کی قومی ٹیم حکومتی فیصلے کے باعث انڈیا اور سری لنکا میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر رہی۔
بی سی بی کے مطابق یہ ٹورنامنٹ تین ٹیموں پر مشتمل ہوگا جن میں دھومکیتو الیون، دربار الیون اور درونتو الیون شامل ہیں۔ ان ٹیموں کی قیادت بالترتیب لٹن داس، نجم الحسن شانتو اور اکبر علی کریں گے۔
تینوں ٹیمیں راؤنڈ رابن مرحلے میں ایک دوسرے کے خلاف ایک ایک میچ کھیلیں گی۔
گروپ مرحلے کے میچز 5، 6 اور 7 فروری کو کھیلے جائیں گے، جبکہ پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست دو ٹیمیں 9 فروری کو فائنل میں آمنے سامنے ہوں گی۔ ٹورنامنٹ کے تمام مقابلے ڈھاکا کے شیرِ بنگلہ نیشنل سٹیڈیم میں منعقد ہوں گے۔
بی سی بی نے اس ایونٹ میں پہلی بار سرکاری میچز کے لیے امپیکٹ پلیئر رول متعارف کرایا ہے۔ اس قانون کے تحت ٹیم کو اجازت ہوگی کہ وہ میچ کے دوران اپنی ابتدائی الیون میں شامل کسی کھلاڑی کو بارہویں کھلاڑی سے تبدیل کر سکے، جس کا انتخاب ٹاس کے وقت اعلان کردہ کھلاڑیوں کی فہرست میں سے کیا جائے گا۔
بورڈ کے مطابق اوڈومو بنگلہ دیش ٹی20 کپ کو باضابطہ ٹی20 سٹیٹس حاصل ہوگا، جبکہ اس میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 50 لاکھ ٹکا انعامی رقم اور میچ فیس رکھی گئی ہے، جو تقریباً 2 لاکھ امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ 

یہ ایونٹ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حکومتی فیصلے کے باعث بنگلہ دیش ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں شریک نہیں ہے۔ تصویر: اے ایف پی

کرک اِنفو کے مطابق  بنگلہ دیش کے بعض کرکٹرز نے ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت سے محرومی پر مایوسی کا اظہار بھی کیا ہے، تاہم کھلاڑیوں نے اب تک تفصیل بتائی اور نہ ہی 24 جنوری کو حکومتی حکام سے ہونے والی ملاقات کے نکات عوام کے سامنے رکھے۔
بنگلہ دیش کی ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت اس وقت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوئی جب حکومتی سپورٹس ایڈوائزر نے اعلان کیا کہ قومی ٹیم انڈیا کا دورہ نہیں کرے گی۔ اس فیصلے کے بعد حالات مزید پیچیدہ ہو گئے اور بالآخر مذاکرات ناکام ہونے پر آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کر لیا۔
اس دوران ملک میں کرکٹ سرگرمیاں بھی محدود رہیں۔ کئی ڈومیسٹک ٹیموں نے ڈھاکا لیگز کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا، جبکہ 2025-26 سیزن کے لیے ڈھاکا پریمیئر ڈویژن کرکٹ لیگ بھی تاحال شروع نہیں ہو سکی، جس کے باعث کھلاڑیوں کو میچ پریکٹس کے مواقع کم مل رہے تھے۔ ایسے حالات میں بی سی بی کا یہ نیا ٹی20 ٹورنامنٹ کھلاڑیوں کے لیے ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔
 

شیئر: