’زریاب‘ جو روایتی عرب دھنوں کو الیکٹرونک ردھم سے جوڑتا ہے
’زریاب‘ جو روایتی عرب دھنوں کو الیکٹرونک ردھم سے جوڑتا ہے
جمعہ 6 فروری 2026 11:03
زریاب پلیٹ فارم عرب موسیقی کو ایک جدید انداز میں پیش کرتا ہے (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب کے موسیقی کے منظرنامے میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے کیونکہ بعض انیشیٹیو اب اس بات کو نئے سرے سے تشکیل دے رہے ہیں کہ کس طرح روایات جدید انداز کے ساتھ جڑتی ہیں، جو مملکت کی وسیع ثقافتی احیا کی عکاسی کرتا ہے۔
ان میں سے، زریاب پلیٹ فارم نے خود کو ایک نمایاں سعودی موسیقی کے منصوبے کے طور پر منوایا ہے جو جدید فنکارانہ اظہار پیش کرتا ہے جو عرب شناخت کی جڑوں پر مبنی ہے۔
یہ روایتی موسیقی کو الیکٹرونک ردھم کے ساتھ ملا رہا ہے اور اپنی آواز، جمالیات، اور ریکارڈنگ کے مقامات میں مقامی عناصر کو برقرار رکھ رہا ہے۔
پلیٹ فارم کے شریک بانی عبدالعزیز العقیل، جو اپنے شراکت داروں عبداللہ العوجان اور حماد العیدانی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، نے بتایا کہ یہ منصوبہ کس طرح عرب شناخت کے ساتھ گہری وابستگی سے شروع ہوا جسے کسی بھی جدید موسیقی کے منصوبے کی بنیاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
پلیٹ فارم کے نام کی اہمیت پر عبدالعزیز العقیل نے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ زریاب وہ لیجنڈری عرب موسیقار جو جدت اور فن کو روایتی حدوں سے آگے لے جانے کے لیے مشہور ہے، اس منصوبے کے مشن کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ عرب موسیقی کو ایک جدید انداز میں پیش کرتا ہے جو روایات کا احترام کرتا ہے اور آج کی عالمی موسیقی کی دنیا سے بھی جڑتا ہے۔
اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے عبدالعزیز العقیل کہا کہ عربی موسیقی کی روایات کو جدید الیکٹرونک پروڈکشن کے ساتھ ملا دینا حقیقی چیلنج تھا۔
’اس منصوبے کو مختلف آرا کا سامنا کرنا پڑا ۔ کچھ ناقدین نے اس فیوژن کو اصل موسیقی کے لیے خطرہ سمجھا جبکہ دیگر نے اسے تخلیقی تجربے کے طور پر قبول کیا۔ ‘
پلیٹ فارم ایک آڈیو ویژوئل آرکائیو قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے (فوٹو: عرب نیوز)
ڈیجیٹل آلات سے موسیقی میں تجربات آسان ہو گئے ہیں، روایتی آوازیں الیکٹرونک انداز میں بخوبی شامل ہو جاتی ہیں اور کام کرنے کا طریقہ اور معیار بہتر ہوتا ہے۔
مقامی اور عرب دھنیں، اور روایتی سازوں کے استعمال کے درمیان سعودی شناخت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
عبدالعزیز العقیل کے مطابق سعودی عرب میں روایتی اور الیکٹرونک موسیقی کے ملاپ کا مستقبل بہت روشن نظر آتا ہے جس کی وجہ موسیقی کمیشن کی حمایت اور سعودی وژن 2030 کے تحت قومی شناخت پر بڑھتا ہوا زور ہے۔
عبدالعزیز العقیل کے مطابق عربی موسیقی کی روایات کو جدید الیکٹرونک پروڈکشن سے ملانا حقیقی چیلنج تھا (فوٹو: عرب نیوز)
انہوں نے بتایا کہ ’یہ پروگرام سعودی ڈی جیز کو عرب سونک روایات کو دریافت کرنے اور انہیں جدید پروڈکشن کے ذریعے دوبارہ پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، ساتھ ہی پیشہ ورانہ فلم بندی کے سیشنز اور پروموشنل سپورٹ بھی فراہم کرتا ہے۔‘
تمام ویڈیو مواد گھر پر ریکارڈ کیا گیا جس میں تکنیکی معاونت عبدالعزیز العقیل کے والد نے فراہم کی جو ایک ٹیلی ویژن سینماٹوگرافر ہیں۔
یہ پلیٹ فارم ایک آڈیو ویژوئل آرکائیو قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو سعودی عرب کی جدید موسیقی کی ترقی کے ایک اہم لمحے کو محفوظ کرے۔