Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں مذاکرات شروع: ایرانی سرکاری ٹی وی

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ یہ جانچنا چاہتے ہیں کہ آیا کوئی معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران اور امریکہ نے جمعے کے روز عمان میں ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی اہم مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے تیار ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا۔
خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق جمعے کے روز ایک قافلہ، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں امریکی حکام سوار تھے، مذاکرات کے مقام پر پہنچا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے صحافیوں نے دیکھا کہ یہ قافلہ مسقط کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع شہر کے مضافات میں ایک محل میں داخل ہوا۔ قافلے کی ایک گاڑی پر امریکی پرچم بھی لہرا رہا تھا۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو لے جانے والی گاڑیاں وہاں پہنچیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق وہ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعيدی سے ملاقات کر رہے تھے۔ بعد ازاں یہ قافلہ ہوائی اڈے کے قریب اس ہوٹل کی جانب روانہ ہوا جہاں ایرانی وفد مقیم ہے۔
یہی محل 2025 میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے سابقہ مذاکرات کے دوران بھی عمان کی جانب سے استعمال کیا جا چکا ہے۔
اگرچہ دونوں فریقیں نے مغرب کے ساتھ ایران کے دیرینہ جوہری تنازع پر سفارت کاری بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم واشنگٹن چاہتا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کے علاوہ اس کے بیلسٹک میزائل، خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت اور ’اپنے عوام کے ساتھ رویے‘ جیسے معاملات بھی شامل ہوں۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ مسقط میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والی بات چیت کو صرف جوہری معاملات تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔
تہران نے کہا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں ’پورے اختیار کے ساتھ اور جوہری مسئلے پر ایک منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار سمجھوتے تک پہنچنے کے مقصد کے ساتھ‘ شریک ہوگا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعرات کو کہا کہ ہمیں امید ہے کہ امریکی فریق بھی اس عمل میں ذمہ داری، حقیقت پسندی اور سنجیدگی کے ساتھ حصہ لے گا۔
تہران کی قیادت اس بات پر گہری تشویش کا شکار ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی ایران پر حملے کی دھمکیوں پر عمل کر سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے قریب امریکی بحریہ کی موجودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی بحری تیاری گذشتہ ماہ ایران میں ملک گیر مظاہروں کے خلاف خونریز سرکاری کریک ڈاؤن کے بعد سامنے آئی، جس سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ یہ جانچنا چاہتے ہیں کہ آیا کوئی معاہدہ ممکن ہے یا نہیں، تاہم انہوں نے ایک سخت انتباہ بھی دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’اب یہ مذاکرات جاری ہیں، میں ایرانی حکومت کو یاد دلانا چاہتی ہوں کہ دنیا کی تاریخ کی سب سے طاقتور فوج کے کمانڈر ان چیف ہونے کے ناطے صدر کے پاس سفارت کاری کے علاوہ بھی کئی آپشنز موجود ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو ’بری چیزیں‘ ہونے کا امکان ہے، جس سے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ جاری تعطل میں دباؤ مزید بڑھ گیا ہے اور دونوں جانب سے فضائی حملوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی حملے کا سخت جواب دیا جائے گا، اور ان ہمسایہ ممالک کو بھی متنبہ کیا ہے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں کہ اگر وہ کسی حملے میں شامل ہوئے تو وہ بھی نشانے پر آ سکتے ہیں۔
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ایف ڈی ڈی کے سینئر فیلو ایڈمنڈ فِٹن براؤن نے کہا کہ ’یہ تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ مذاکرات میں اتنی بڑی رعایت دیں گے کہ امریکہ یہ دعویٰ کر سکے کہ کوئی بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں میرے خیال میں فوجی تصادم کا امکان کم نہیں بلکہ زیادہ ہے۔‘

شیئر: