Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ،31 اموات، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں اب تک 30 سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
اس وقت امام بارگاہ کے باہر شہری اپنے پیاروں کی شناخت کے لیے منتظر ہیں کیونکہ انہیں تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ زخمیوں میں شامل ہیں یا مر چکے ہیں۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 169 افراد زخمی ہوئے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اب تک مختلف ہسپتالوں میں 31 افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا ہے۔
ترلائی کلاں کے ہی رہائشی 26 سالہ رفت حسین (فرضی نام) بھی اپنے والد کو تلاش کرنے کے لیے ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ کے باہر موجود ہیں۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کے والد صاحب کی موٹر سائیکل تو یہاں پر کھڑی ہے لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں۔
وہ اپنے والد کی شناخت کے لیے پہلے یہاں اور پھر وہاں سے ہسپتال جانے کا ابھی ارادہ رکھتے ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جمعے کی شام میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جس دہشت گرد نے اسلام آباد میں خودکش دھماکہ کیا، اس کے بارے میں معلومات مل چکیں۔ وہ افغان شہری تو نہیں لیکن اس کے افغانستان میں آنے جانے سے متعلق ہمیں معلومات ہمیں مل چکی ہیں۔‘
طلال چوہدری نے کہا کہ ’ یہ دہشت گرد بزدلی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں اور سافٹ اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔ آج کے اس دھماکے میں آئی اسلام آؓباد کے فرسٹ کزن بھی شہید ہوئے ہیں۔ لیکن آئی جی اس وقت بھی اپنی وردی پہن کر ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔‘

طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ’اس واقعے سے متعلق تفصیلات 72 گھنٹے میں وزارت داخلہ جاری کرے گی‘ ( فوٹو: ویڈیو گریب)

انہوں نے کہا کہ ’ملک میں داڑھی رکھ کر دہشت گردی کی جائے اور بی ایل اے کی طرح داڑھی کے بغیر، اس کے پیچھے انڈیا کی سپانسرشپ ہے۔ ہمیں بین الاقوامی برادری کو اس کے شواہد دیے ہیں۔ ان دہشت گردوں کو ڈالرز میں تنخواہیں ملتی ہیں۔‘
طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ’اس واقعے سے متعلق جو بھی تفصیلات ہیں، وہ 72 گھنٹے میں وزارت داخلہ دے گی۔‘
ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ یہاں کی مرکزی امام بارگاہ ہے، جہاں نہ صرف مقامی بلکہ دور دراز علاقوں سے بھی نمازی نماز ادا کرنے آتے ہیں۔
امام بارگاہ کے اندر داخلے کے لیے دو مقامات پر امام بارگاہ کی مقامی سکیورٹی تعینات تھی تاہم مبینہ طور پر پولیس کا کوئی اہلکار وہاں موجود نہیں تھا۔

اردو نیوز کو واقعے کے عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ’حملہ آور نے سکیورٹی پر مامور امام بارگاہ کی سکیورٹی پر فائرنگ کی، جس کے بعد وہ آگے بڑھا، دوسرا پوائنٹ بھی کراس کیا اور پھر تیسرے پوائنٹ پر، جو جمعہ کی نماز کی پچھلی صفوں کے قریب تھا، جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘

امام بارگاہ کے اطراف اس وقت مقامی افراد بھی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اس وقت امام بارگاہ کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ قرب و جوار کی چھتوں پر بھی اسلام آباد پولیس کی ایلیٹ فورس کے جوان تعینات ہیں۔
موقع پر آئی جی اسلام آباد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینیئر حکام نے دورہ کیا، جبکہ دھماکے سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
امام بارگاہ کے اطراف اس وقت مقامی افراد بھی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
امام بارگاہ سے کچھ میٹر کے فاصلے پر واقع لترار روڈ کی مرکزی مارکیٹ میں بیٹھے ہوئے تاجروں نے بھی دھماکے کی آواز سنی۔ انہوں نے بتایا کہ ’اگرچہ امام بارگاہ کئی میٹر دور واقع ہے، لیکن ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے خدانخواستہ دھماکہ ہماری دکان کے باہر ہی ہوا ہو۔‘
یہاں کے مقامی افراد نے اردو نیوز کو یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد پولیس کا کوئی اہلکار آج امام بارگاہ کے باہر تعینات نہیں تھا، صرف امام بارگاہ کی مقامی سکیورٹی ہی وہاں پر مامور تھی۔
اب تک اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ موقف جاری نہیں کیا، تاہم ان کی جانب سے اموات کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امام بارگاہ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی (فوٹو: اسلام آباد پولیس)

صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی مذمت
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امام بارگاہ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات ہوئی ہے جس میں انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ’اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

’حملے میں ملوث دہشت گرد کا افغانستان آنا جانا ثابت ہوا ہے‘
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والے دین اور وطن دونوں کے دشمن ہیں۔ حملے میں ملوث دہشت گرد کا افغانستان آنا جانا ثابت ہوا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہندوستان اورطالبان کے گٹھ جوڑ کے تانے بانے مل رہے ہیں۔ سکیورٹی گارڈوں نے اس کو چیلنج کیا جس کے جواب میں اس نے فائرنگ کی اور نمازیوں کی آخری قطار میں اپنے کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘
اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی۔ ہندوستان عبرت ناک شکست کے بعد اپنی پراکسیوں کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے۔ براہ راست جنگ لڑنے کی اب ہمت نہیں۔‘
اُدھر افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے اس واقعے کے بعد اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ ’افغانستان کی وزارت خارجہ اسلام آباد کی ایک مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے جس کے نتیجے میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اسلامی جمہوریہ افغانستان ایسے حملوں کی مذمت کرتا ہے جو مساجد اور مذہبی شعائر کے تقدس کی پامالی کرتے ہیں اور نمازیوں سمیت بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔‘

شیئر: