فلسطینی لڑکی کو اسرائیل میں داخلے کی اجازت

 یروشلم۔۔۔اسرائیل کی سپریم کورٹ نے صیہونی ریاست بائیکاٹ مہم میں فلسطین کی حمایت کا حصہ بننے والی امریکی طالبہ پر ملک میں داخلے کی پابندی کو ختم کردیا۔ سپریم کورٹ کے 3 ججز پر مشتمل بنچ نے کہا کہ طالبہ کو داخلے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کی وجوہ درست نہیں، اس لیے اسے ختم کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل مخالف مہم کی حمایت کرنے پر 2 اکتوبر کو لارا القاسم کو بین گوریون ایئرپورٹ پر روک کر حراست میں لیا گیا تھا۔فلسطین نژاد لارا القاسم امریکہ سے یروشلم پہنچی تھیں تاکہ ہیبریو یونیورسٹی سے اپنا ماسٹرز شروع کر سکیں لیکن انہیں ایئرپورٹ پر ہی روک کر حراست میں لے لیا گیا تھا اور قانونی ویزا ہونے کے باوجود وہ گزشتہ 2 ہفتوں سے ایئرپورٹ پر سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں تھیں۔22 سالہ امریکی طالبہ کو ملک میں داخلے سے روکتے ہوئے فوری طور پر اسرائیل چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم انہوں نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

شیئر: