Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قطر کی تباہ شدہ طیارے کے ایرانی پائلٹوں کو حراست میں رکھنے کی ’قطعی تردید‘

ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر نے کسی بھی ایرانی پائلٹ کو حراست میں نہیں رکھا (فوٹو: قطری وزارت خارجہ)
قطر نے ان خبروں کو من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سخت تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قطری حکام نے جنگ کے دوران مار گرائے جانے والے تین ایرانی پائلٹوں کو حراست میں لے رکھا ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ قطر نے کسی بھی ایرانی پائلٹ کو گرفتار یا حراست میں نہیں رکھا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم سفارتی کوششیں جاری ہیں، تہران کی جانب سے اس قسم کے بیانات انتہائی غیر متوقع اور حیران کن ہیں۔
ماجد الانصاری نے بتایا کہ طیاروں کے حادثے کے بعد قطری ریسکیو ٹیموں نے تمام تر پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے پائلٹوں کی تلاش کے لیے کارروائیاں کی تھیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران قطری حکام کو صرف ایک پائلٹ کی لاش ملی تھی جس کی باقاعدہ اور محفوظ طریقے سے ایران حوالگی کے لیے تہران انتظامیہ سے رابطہ بھی کیا گیا تھا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ قطر نے رواں برس اپریل میں ایرانی حکام کو ایک خصوصی ٹیم دوحہ بھیجنے کی دعوت دی تھی تاکہ وہ خود آ کر ریسکیو آپریشن کی تمام تفصیلات سے آگاہی حاصل کر سکیں، تاہم ایران کی جانب سے تاحال اس پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
اس سے قبل ایران کے ایک خبر رساں ادارے ’فارس‘ کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے جنرل محمد باقرزادہ نے قطری حکام پر الزام عائد کیا تھا کہ جنگ کے ابتدائی ایام میں ایران کا 'Su-24' جنگی طیارہ تباہ ہونے کے بعد تینوں ایرانی پائلٹوں کو قطری فورسز نے زندہ گرفتار کر لیا تھا اور قطر کو چاہیے کہ وہ انہیں فوری طور پر رہا کرے۔

شیئر: