’یہ سفر نہیں بھولیں گے‘: مسجد کا دفاع کرنے والے نیپالی شخص کی عمرے کی ادائیگی
’یہ سفر نہیں بھولیں گے‘: مسجد کا دفاع کرنے والے نیپالی شخص کی عمرے کی ادائیگی
اتوار 16 اگست 2026 11:43
بدر ایسوسی ایشن نے شیخ رحیم اللہ کے لیے مصنوعی ٹانگ فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی اٹھائی (فوٹو: سپلائیڈ)
جب نیپال میں ایک معذور مسلمان شخص کی مسجد کے دفاع کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تو شاید اسے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کی بہادری کا یہ لمحہ بالآخر اسے عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ مکرمہ لے جائے گا۔
عرب نیوز کے مطابق یہ واقعہ جنوری کے آخر میں پیش آیا تھا جب سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک ٹانگ سے معذور مسلمان شخص کو بیساکھی کے سہارے کھڑے اور ہاتھ میں لاٹھی تھامے ہوئے دکھایا گیا۔ وہ نیپال کے ضلع روتہٹ میں ایک مسجد پر حملہ کرنے کی کوشش کرنے والے ہجوم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا تھا۔
اس ویڈیو نے پوری اسلامی دنیا کے لوگوں کو متاثر کیا جبکہ سعودی ایکٹیوسٹس نے اس وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کو تلاش کرنے کے لیے مہم شروع کر دی۔
بالآخر ان کی تلاش کامیاب رہی جس کے بعد نیپال کے رام پور سے تعلق رکھنے والے شیخ رحیم اللہ کے لیے ایک ناقابلِ فراموش سفر کا دروازہ کھل گیا۔ انہیں کبھی توقع نہیں تھی کہ وہ عمرہ ادا کریں گے، اپنی بہادری کے اعتراف میں اعزاز حاصل کریں گے اور ایسی مدد کی پیشکش پائیں گے جو ان کی زندگی بدل سکتی ہے۔
پانچ اگست کو یہ شخص اپنے والدین کے ہمراہ سعودی عرب پہنچا، جہاں اس نے مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کیا۔ یہ سفر سعودی عطیہ دہندگان اور منتظمین کی جانب سے ان کی مسجد کے دفاع میں بہادری سے ڈٹ جانے کے اعتراف میں سپانسر کیا گیا تھا۔
32 برس کے شیخ رحیم اللہ اور ان کے والدین کا مکہ مکرمہ میں قیام اور عمرے کی ادائیگی کے دوران سعودی شہریوں اور مقامی رہائشیوں نے تحائف اور خلوصِ دل کے ساتھ محبت و مہمان نوازی سے استقبال کیا۔
یہ اقدام انہیں عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب لانے تک محدود نہیں رہا بلکہ بدر ایسوسی ایشن نے ان کی کٹی ہوئی ٹانگ کے لیے مصنوعی ٹانگ فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی اٹھائی۔
شیخ رحیم اللہ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ عمرے کی سعادت حاصل کر پائیں گے (فوٹو: سپلائیڈ)
ان کے ایک ساتھی نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب میں موجودگی پر ان کی خوشی اور ان سعودی شہریوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان سے رابطہ کیا اور ان کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔
انڈیا کی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان کونٹینٹ کریئیٹر محمد رفیع جو سوشل میڈیا کے لیے عربی زبان میں مواد تیار کرتے ہیں، نے نیپالی شخص اور ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور سعودی عرب میں قیام کے دوران ان کے ساتھ رہے۔
انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’سب سے پہلے اللہ کا شکر ہے اور پھر کئی سعودی بھائیوں کا جن کی بدولت رحیم اللہ عمرہ ادا کر سکے۔ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کی مہمان نوازی پر بہت خوش ہیں۔‘
شیخ رحیم اللہ اپنی والدہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں (فوٹو: سپلائیڈ)
انہوں نے مزید کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ وہ اس سفر کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ عمرہ ادا کرنے پر ان کی خوشی ناقابلِ بیان تھی اور ان کی کہانی واقعی متاثر کن ہے جو صبر، ثابت قدمی اور ایمان کی عملی تصویر پیش کرتی ہے۔‘
’اللہ ہمارے سعودی بھائیوں کو اس شخص کے لیے کیے گئے نیک کام کا بہترین اجر عطا فرمائے اور ان تمام لوگوں کو بھی جزائے خیر دے جنہوں نے اس بہادر شخص کی میزبانی اور خاطر تواضع میں اپنا حصہ ڈالا۔‘
رفیع کے مطابق رحیم اللہ اور ان کے اہلِ خانہ 14 اگست کو نیپال روانہ ہوگئے، اپنے ساتھ اس خوبصورت سفر کی یادیں اور سعودی شہریوں سمیت ان تمام افراد کے لیے دل میں شکرگزاری کے جذبات لیے جنہوں نے اس سفر کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔