’آپ صدر ہیں تو میں نپولین ہوں‘، فرانسیسی صدر جو ٹرین سے گرنے کے بعد دھکے کھاتے رہے
’آپ صدر ہیں تو میں نپولین ہوں‘، فرانسیسی صدر جو ٹرین سے گرنے کے بعد دھکے کھاتے رہے
اتوار 16 اگست 2026 7:01
صدر پال ڈیسچینل فرانس کے 10 ویں جمہوری صدر تھے (فوٹو: گیلیکا لائبریری)
جب اس نے رات کے پچھلے پہر ایک شخص کو ریلوے پٹری پر لنگڑا کر چلتے دیکھا تو قریب جا کے پوچھا کہ ’کون ہیں آپ‘
جواب میں جب اس نے یہ سنا کہ ’میں فرانس کا صدر ہوں‘ تو اسے کانوں پر یقین نہیں آیا اور اس کے حلیے پر نظر ڈالی تو اس شخص نے صرف شب خوابی والا ڈھیلا سا پاجامہ پہن رکھا تھا جبکہ قمیص اور جوتے غائب تھے اور ماتھے پر خون کا نشان بھی تھا۔
اس نے معنی خیز انداز میں کہا کہ ’اگر آپ فرانس کے صدر ہیں تو پھر میں نپولین بونا پارٹ ہوں۔‘
پٹری کی نگرانی پر مامور ریلوے ملازم اور اس پراسرار سے شخص کے درمیان ہونے والے اس مکالمے کے بعد کیا، سے قبل یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ اس سے پیشر کیا ہوا تھا۔
اس حیرت انگیز مگر سچے واقعے کے بارے میں ہِسٹورین اینڈریو ڈاٹ کام، دی کُلیکٹر، نیویارک ٹائمز، ایل اے ٹائمز سمیت کئی ویب سائٹس پر مواد موجود ہے۔
چھک چھک اور کھلی کھڑکی
وہ 22 اور 23 مئی کی درمیانی رات تھی جنوبی حصے کی طرف جانے والی پٹڑی پر ایک پرتعیش نظر آنے والی ٹرین چھک چھک کرتی جا رہی ہے، وہ کوئلے کا دور تھا اور ٹرین کی رفتار 30 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔
ایک شخص ایک بیڈ روم طرز کی وسیع بوگی میں موجود تھا۔ وہ اپنے نفیس بستر پر دراز ہوا مگر نیند نہیں آ رہی تھی۔
1920 میں فرانسیسی صدور کے اندرون ملک سفر کے لیے ایک پرتعیش ٹرین بنائی گئی تھی (فوٹو: دی ہسٹورین)
تھوڑی دیر بعد اس نے نیند کی ایک گولی کھائی اور غنودگی میں چلا گیا، تھوڑی دیر بعد گرمی کا احساس ہوا تو قمیص اتار دی اور پھر ٹھنڈی ہوا کے لیے کھڑکی کھولنے کے لیے آگے بڑھا، کھڑکی تو کھل گئی مگر گولی کے اثر کی وجہ سے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھا اور باہر گر گیا۔
یہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ فرانس کا صدر پال ڈیسچینل تھا۔
پرتعیش ٹرین، جو کسی محل سے کم نہ تھی
اس وقت اہم شخصیات کے اندرون ملک سفر کے لیے ایک پرتعیش ٹرین بنائی گئی تھی، جس میں سکیورٹی حکام، طبی عملے، کھانے پینے کی تیاری، واش روم اور دوسری ضروریات کے حساب سے بوگیاں شامل ہوتی تھیں۔
صدر کے لیے بنائی گئی ٹرین کا نام لگژری اورینٹ ایکسپریس تھا، جس کے ساتھ کئی بوگیاں منسلک ہوتی تھیں، سکیورٹی روم میں موجود اہلکاروں کی ڈیوٹی ہوتی تھی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں تحفظ کریں۔
مگر ان تمام چیزوں کے باوجود کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ صدر صاحب ٹرین سے گر گئے ہیں۔ کئی گھنٹے گزر گئے اور وہ یہی سمجھتے رہے کہ وہ سو رہے ہیں اور وقت گزرتا رہا۔
اس وقت صدر پال ڈیسچینل لوئرے کےعلاقے میں دوسری عالمی جنگ میں مرنے والے فوجیوں کی یاد میں بنائی گئی یادگار کا افتتاح کرنے کے لیے موئرے کے علاقے کی طرف جا رہے تھے، ٹرین میں دوسرے منسٹرز بھی ایک بوگی میں موجود تھے جبکہ ایک ڈبہ میڈیا کے نمائندوں کا بھی تھا۔
ٹرین کے واقعے کے چند ماہ بعد ہی صدر کو استعفیٰ دینا پڑا (فوٹو: دی کُلیکٹر)
’تمیز سے بات کرو‘
ریلوے اہلکار کے انداز کو دیکھتے ہوئے صدر نے یہ بات کہہ تو دی مگر ایک لمحے کے انہیں ایسا لگا کہ شاید وہ صدر نہیں ہیں کیونکہ نیند کی گولی کا اثر ابھی باقی تھا۔
بہرحال ریلوے اہلکار نے یہ مہربانی کی کہ انہیں پٹری کے قریب بنے ایک چھوٹے سے کوارٹر میں لے گیا جہاں چھوٹی سی ڈسپنسری تھی اور وہاں موجود اہلکار کو مرہم پٹی کے لیے کہا کیونکہ وہ شخص زخمی تھا۔
مرہم پٹی کے دوران جب ریلوے اہلکار نے ڈسپنسری والے کو ’فرانس کے صدر کے دعوے‘ والی بات بتائی تو اس کا ماتھا ٹھنکا اور لیمپ کو قریب لے جا کے دیکھا تو اہلکار کو اشارہ کیا کہ وہ باہر چلا جائے کیونکہ وہ انہیں پہچان چکا تھا۔
پھر کیا ہوا؟
اس دوران صدر صاحب کو چائے وغیرہ پلائی گئی اور ان کی آنکھ لگ گئی، یعنی چند گھنٹے مزید گزر گئے اور اس دوران کسی کو پتہ نہیں تھا کہ ملک کا سربراہ کہاں ہے یعنی وہ یہ وہ گھنٹے تھے جن کے دوران فرانس بغیر سربراہ مملکت کے چلتا رہا۔
اس وقت موبائل فون تھے نہ اتنا تیز میڈیا مگر پھر بھی یہ بات کیسے چھپ سکتی تھی، صدر صاحب ایک قصبے میں کسی افتتاح کے لیے جا رہے تھے مگر جب وہاں ٹرین پہنچی تو صدر کا ڈبہ خالی تھا، اس کے بعد وہی ہوا جو ہونا تھا، یعنی صرف سکیورٹی اہلکاروں ہی نہیں حکومتی حکام کی بھی ایسی دوڑیں لگیں کہ پورا ملک ہانپ کر رہ گیا۔
واقعے کے بعد میڈیا نے صدر پر تنقیدی فیچرز چھاپنا شروع کیے (فوٹو: دی ہسٹورین)
کچھ دیر بعد حکام اسی کوارٹر تک پہنچ گئے جہاں صدر سو رہے تھے۔
ان کا خیال تھا کہ صورت حال کو سنبھال لیا گیا ہے مگر میڈیا کو خبر ہو چکی تھی اور اگلی صبح اخبارات نے ایسی ایسی شہ سرخیاں جمائیں کہ حکومت ہل کر رہ گئی، صدر کی ذہنی حالت پر سوالات اٹھائے جانےلگے۔
ان کے بارے میں کارٹون شائع ہوئے جن میں ان کو ایک بھُلکڑ شخص کے طور پر دکھایا گیا۔
ریلوے اہلکار کے انٹرویوز چھپے اور یہ ’آپ صدر ہیں تو میں نپولین ہوں‘ والا جملہ بھی ایسی ہی ایک رپورٹ میں شائع ہوا۔
صدر کی جان بچنے پر سبھی خوش تھے مگر ساتھ ہی اس میں کسی ممکنہ تخریب کاری کی تحقیقات شروع ہوئیں مگر اس سے کچھ نہیں ہوا، سوائے اس کے کہ اپوزیشن کو مزید نکات ہاتھ آتے رہے اور میڈیا کو مزید ٹھٹھا لگانے کے لیے مواد۔
کچھ تاریخ ویب سائٹس کا دعویٰ ہے کہ یہ وہ ٹرین کی کھڑکی ہے جہاں سے صدر باہر گرے (فوٹو: فوریزہِسٹائر)
صدارت سے ہاتھ دھونا پڑے
پال ڈیسچینل فرانس کے 10 ویں جمہوری صدر تھے جو عہدے پر فروری سے ستمبر تک محض سات ماہ براجمان رہے وہ ڈیموکریٹک ری پبلکن الائنس کے رکن تھے، وہ اچھے خاصے لائق فائق انسان تھے مگر ٹرین والا واقعے نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔
وہ 13 فروری 1855 کو برسلز کے قریب باربیک نام کے علاقے میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے قانون، فلسفہ اور ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جوانی کے دنوں میں صحافت بھی کی اور پھر سیاسی میدان میں آ گئے اور پارلیمان کے نمایاں ترین ارکان میں شمار ہونے میں انہیں زیادہ وقت نہیں لگا۔
ٹرین والا واقعہ ان کے ساتھ کسی لہسورٹے کی مانند چپک کر رہ گیا اور وہ کافی کوشش کے باوجود بھی اس سے پیچھا نہ چھڑا سکے۔
اس کی ذہنی صلاحیت پر سوال اٹھائے جانے لگے اور یہاں تک کہا جانے لگا کہ اگر کسی ایسے وقت میں کسی ملک کے ساتھ جنگ ہو گئی تو وہ اس حالت میں کیسے درست فیصلے کر سکتے ہیں۔
ٹرین والے واقعے کو اس قدر اچھالا گیا کہ وہ دفاعی پوزیشن پر چلے گئے اور سات ماہ بعد ہی استعفیٰ دے کر ایک طرف ہو گئے اور ان کی جگہ الیگزینڈر میلرانڈ صدر بنے۔