Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بریدہ کارنیول میں قصیم کی کھجوروں کی 100 سے زائد اقسام کی نمائش

قصیم کے علاقے میں تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ کھجور کے درخت موجود ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
بريدہ انٹرنیشنل ڈیٹس کارنیول میں کھجوروں کی 100 سے زیادہ اقسام نمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں جو قصیم کے زرعی شعبے کی بھرپور پیداوار اور معیار کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ کارنیول کسانوں، تاجروں اور خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے جس سے کاروباری سرگرمیوں میں بھی تیزی آئی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ کارنیول کھجور کی نایاب اقسام کو بھی متعارف کرواتا ہے اور ان کی زرعی و ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جس سے کسانوں اور شائقین کو ان کی خصوصیات جاننے اور کاشتکاری، دیکھ بھال، تحفظ اور مارکیٹنگ کے تجربات کا تبادلہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔
 
ہر سال یکم اگست سے شروع ہونے والا یہ 75 روزہ کارنیول ایک اہم زرعی اور معاشی ایونٹ بن چکا ہے۔ یہ سعودی وژن 2030 کے ان اہداف کا بھی ساتھ دیتا ہے جن کا مقصد زرعی شعبے کو فروغ دینا اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ یہ ایونٹ کھیتوں سے خریداروں تک مارکیٹنگ کا ایک بہترین نظام فراہم کرتا ہے، جہاں کسانوں کی فصل وصول کی جاتی ہے اور پورے سیزن میں ان کی فروخت کو آسان بنایا جاتا ہے۔
قصیم ریجن میں تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ کھجور کے درخت موجود ہیں جو سالانہ پانچ لاکھ 80 ہزار ٹن سے زائد کھجوریں پیدا کرتے ہیں۔
کلنری آرٹس کمیشن بھی اس کارنیول میں اپنی کچھ پبلیکیشنز پیش کر کے حصہ لے رہا ہے جن میں ’بريدہ‘ نامی کتاب بھی شامل ہے۔ یہ کتاب سعودی عرب کی غذائی ثقافت اور مقامی مصنوعات سے اس کے تعلق کو اجاگر کرتی ہے۔
 

کتاب کی کہانی ایک ایسے مسافر کے گرد گھومتی ہے جس نے بريدہ میں پانچ دن گزار کر وہاں کے لوگوں، تاریخی مقامات، کھانے پینے کی روایتوں اور رسم و رواج کا جائزہ لیا۔ اس میں کھجور کے فارمز، ڈیٹس کارنیول، العقیلات ہیریٹیج میوزیم اور دیگر تاریخی مقامات کے دوروں کے ذریعے بريدہ کی تاریخ، ثقافت اور معاشی پس منظر کو قلمبند کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ یہ کتاب خاندانی اور کھانے پینے کے کاروبار کا جائزہ لیتی ہے اور مقامی ڈشز اور ریسپیز کو دستاویز کرتی ہے جن میں سعودی کاہوا، کلیجہ اور معمول شامل ہیں۔
 

کمیشن کی اس شرکت سے نہ صرف سعودی عرب کے غذائی ورثے کو محفوظ کرنے کی کوششیں سامنے آتی ہیں بلکہ یونیسکو کریئیٹو سٹیز نیٹ ورک میں شامل ہونے والے خلیج کے پہلے شہر کے طور پر بريدہ کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے جو عالمی سطح پر سعودی فوڈ کلچر کی بڑھتی ہوئی پہچان کا ثبوت ہے۔
 

 

شیئر: