اسلام نوجوانوں سے کیا چاہتا ہے؟

 اسلام نوجوانوں کو طاقت وقوت کا پیکردیکھنا چاہتاہے، وہ چاہتا ہے کہ ہرمیدان میں جھنڈا انہی کے ہاتھ میں ہو
 * * * *
کبھی اے نوجواں مسلم تدبربھی کیا تونے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹاہواتارا
تجھے اس قوم نے پالا تھا آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سردارا
*  * * *
    یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ دینِ اسلام شبابِ اسلام سے کیا چاہتاہے کیونکہ اسلام ایک ہمہ گیردین ہے۔اس کے دروازے دنیا کے سارے لوگوں کے لئے پاٹ درپاٹ کھلے ہوئے ہیں۔ اس کے نزدیک دنیا کے تمام لوگ یکساں اور برابرہیں۔ وہ قوم وملت کا نعرہ نہیں لگاتا۔اس کے نزدیک قومی وملی، تہذیبی وثقافتی،اجتماعی وانفرادی، جنسی وقبائلی تفریق نہیں۔ اس کے نزدیک نوجوانی اوربڑھاپے کا اعتبار نہیں مگراتنا ضرورہے کہ اس نے نوجوانوں کی دونوں جنسوں خواہ وہ ذکرہوںیاانثیٰ کی طرف خصوصی توجہ مرکوزکی ہے اوران کی پذیرائی کرکے ان کی بھرپورحوصلہ افزائی کی ہے جس سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اسلام کے نزدیک جوانی کی عمر اور عنفوان شباب کا عالم جس میں انسان کے اندربھرپور قوت وطاقت اورحدسے زیادہ نشاط وحرکت اور کسی کام کے انجام دہی کی بے پناہ قوت وصلاحیت ہوتی ہے۔ اس کی اس کے نزدیک بڑی اہمیت ہے۔ جوانی کے عالم میں شہوت وفتوت کاان کے اندرجو سیل رواں ہوتا ہے، اسلام کے نزدیک اس کی بڑی قدر وقیمت ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس عمر میں شباب قوت شہوانیہ کے چنگل میں پھنس جائیں اوردنیا کے ظاہری طمطراق وجگمگا ہٹ کے سامنے اس کی نگاہیں خیرہ ہوجائیں اوروہ اس کے دام میں پھنس کر اسی کے ہوکر رہ جائیں۔
    لہذاامت اسلامیہ کے قائداول اور اس کے مرشداعلیٰ اور مربی اعظم رسول اللہ ﷺ نے جابجا اپنی حدیثوں میں نوجوانی کے اس نازک مرحلہ کی طرف خصوصی توجہ مرکوزفرمائی ہے چنانچہ صحیحین میں اس حدیث کے اندراس بات کا خصوصی تذکرہ ہے جس میں لوگوں کی ان 7 قسموں کے ضمن میں اس نوجوان کا بھی تذکرہ فرمایاگیاہے جن کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سایہ میں اس دن پناہ دے گا جس دن اس کے عرش کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔  رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلہ میںلب کشائی کرتے ہوئے عدل پرورحاکمِ وقت کی طرف توجہ مرکوزکرانے کے فورا ً بعد فرمایا ہے کہ ’’ اورایسانوجوان اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری میں جس کی نشو ونما ہوئی ہو‘‘  بلکہ ایک روایت میں تو اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ یوں واردہواہے جس کوحافظ ابن حجرؒ نے حدیث مذکورکی شرح میں ذکرفرمایاہے۔
     درحقیقت وہ اس موضوع پربڑی خوبصورتی کے ساتھ چسپاں ہوتی ہوئی نظرآتی ہے وہ یہ کہ  ’’ایسانوجوان جس نے اپنی نوجوانی اللہ کی اطاعت وفرمانبردای میں فناکردی ہو‘‘۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ علمائے کرام نے اس ضمن میںیہ بھی تصریح فرمادی ہے کہ اس حکم کے عموم میں نوجوان دوشیزائیں بھی داخل ہیں اوران کا اس عموم میں شمارہونا قرین قیاس بھی ہے لہذاان کو بھی اس حکم میں شامل سمجھا جائے گاکیونکہ نوجوانوں کی طرح دوشیزائیں بھی حیوان ناطق ہیں اس لئے دونوں پر ایک ہی حکم کا اطلاق ہوگا ۔دونوں میں کسی صورت میں بھی تفریق نہیں کی جاسکتی۔
    اسی طرح امام حاکم ؒ نے اپنی کتاب’’صحیح مستدرک‘‘ میں اس حدیث کو نقل کیا ہے جوکہ صحیح کا درجہ رکھتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایاہے:
    ’’ 5 چیزوں کو 5 چیزوں سے پہلے پہلے غنیمت جانو۔‘‘ اوران 5 چیزوں کے ضمن میں فرمایا:
      ’’بوڑھاپے سے پہلے جوانی کو غنیمت جانو!۔‘‘کیونکہ جوانی کا مرحلہ ایسا مرحلہ ہے جس کو عمرکا سنہرا موقع باورکیا جاناچاہئے اس لئے کہ جوانی کے ایام تو وہ ایام ہواکرتے ہیں جن میں انسان پورے طورپرصحت وعافیت اورہرطرح کی حرکت ونشاط سے مالامال ہوتا ہے لہذااسے دینِ اسلام کی بھر پور خدمت اوراس کی طرف پوری توجہ مرکوزکرنے اوراچھے کاموں کی انجام دہی نیزحصول علم اورزندگی کے مختلف میدانوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر صرف کرنا چاہئے۔
    اس سے بھی ایک قدم آگے نبی کریم ﷺ  کی حدیثِ صحیح کوامام ترمذی ؒ نے اپنی کتاب جامع ترمذی میں نقل کیا ہے جس میں اس مرحلہ میں غفلت کے انجام کار سے ڈرایادھمکایا گیاہے اورانسان کی اس کی جوانی کے سلسلہ میں اس نازک مرحلہ کی جانب توجہ مرکوزکرانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ اسے پتہ چل جائے کہ اس سے  اس کی نوجوانی کے بارے میں حساب وکتاب ہوگابالخصوص نوجوانوں سے ایام شباب کے بارے میں اور اس میں بھی ان کے تصرفات کے بارے میں سختی کے ساتھ پوچھ گچھ ہوگی اور قیامت کے دن اس سلسلہ میں میزان پران کی جانچ  پڑتال ہوگی نیزان کی نوجوانی کے ایام کو کسوٹی پر رکھ کر پرکھا جائے گا اسی لئے اس بارے میںرسول اکرمﷺ نے فرمایا ہے:
    ’’ قیامت کے دن کسی بندے کے زمین کے اوپرسے اس وقت تک قدم اٹھ نہ سکیں گے جب تک کہ وہ 4سوالوں کے جواب نہ دیدے، ان4 سوالوں میں ایک سوال یہ بھی ہوگا کہ تم نے اپنی جوانی کو کس نوعیت سے گزارا۔‘‘
     مذکورہ نصوصِ ثابتہ نیز اس سلسلہ میں وارد بیش بہا نصوصِ قطعیہ کے پیش نظرہمیں ان خطرناک اورزہریلے افکاروخیالات کا بھی ادراک کرنا ضروری ہے جن کو اعدائے اسلام اور مستشرقین میں سے ان کے کاسہ لیسوں نے بڑے شدومدکے ساتھ رواج دیا ہے کہ اسلام تو بوڑھوں اوربوڑھیوں اورسن رسیدہ لوگوں کیلئے خاص ہے اوران لوگوں کیلئے خاص ہے جو قبرمیں پیرلٹکا چکے ہوں نیز جن کو یہ یقین ہوچکا ہو کہ اب اس  دنیا سے ان کے داغ مفارقت کا وقت قریب آچکا ہے یاموت کے خوف ودہشت نے ان کو اپنی آغوش میں لے لیاہے یاان کو پورے طورپریقین ہوچکا ہو کہ اب وہ قبرکے گڑھے کے قریب ترپہنچ چکے ہیں اورموت کا لقمہ تربن کراس کی نذرہونے والے ہیں۔ اس غلط قسم کے پروپیگنڈہ کے پس پردہ اسلام دشمنوں کا مطمع نظریہ پنہاں ہے کہ نوجوانوں کو دین کی طرف سے غافل کردیا جائے کیونکہ نوجوان طبقہ ہی اپنی قوم کا کریم طبقہ شمار ہوتاہے بلکہ اس کی حیثیت اپنی قوم کے اندراسٹیم کے مانندہوتی ہے۔ وہی اس کی جان ہوتے ہیں اس لئے 
 دشمنانِ اسلام کا منصوبہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو ان کے دین کی طرف سے غافل کرکے انہیں شعائرِدینیہ سے دورسے دورترکردیاجائے
اور اسلامی تشخص اوراس کے احکامات وقوانین سے ان کے تعلق اورربط کویکسرختم کرکے رکھ دیا جائے تاکہ اسلام دشمنوں کے مختلف پروگراموں اورپلانوں کی راہ صاف ہوجائے اوروہ اپنے مقاصد وارادوں کو بروئے کارلانے میں کامیاب ہوجائیں بلکہ ان کا منصوبہ تو یہ ہے کہ شباب اسلام کی خدادادصلاحیتوں اورقدرتی طاقتوں اورنوجوانوں میں پائے جانے والے متنوع نشاطات وپالاننگ کو زمین میں فساد پھیلانے اوربے ہودگی وبدکاری کو رواج دینے کیلئے مسخرکرلیاجائے جیساکہ مختلف قسم کے پروگراموں اوربے ہودہ قسم کے ڈراموں اور سیریلوں سے مترشح ہوتاہوانظرآتاہے۔ یہ وہ سیریل اورڈرامے ہیں جو اخلاق وقیم سے عاری اورلہو ولعب اورفضول وبکواس قسم کے افکار و خیالات کا نمونہ ہیں جواس بہیمی زندگی کی نمائندگی کرتے ہیں جنہیں مغرب اور اس کے حاشیہ بردار نوجوانوں اور دوشیزاؤں میں رائج کرنا چاہتے ہیں تاکہ بہیمیت کا دوردورہ ہواورنوجوان نسل رنگ رلیوں اور مستیوں میں ڈوب کر دین واسلام سے بیگانی ہوجائے ۔
                    مذکورہ نظریہ ان 3 قسم کے افکار وخیالات میں سے ایک ہے جن کاذکرذیل میں کیاجارہاہے اوران تینوں افکارمیں سے کوئی ایک بھی اپنے شبیہ سے خطرے کے اعتبارسے کم نہیںاورتینوں افکارمیں سے ہرایک میںدین اسلام کی شبیہ بگاڑ کر رکھ دینے کیلئے پوری صلاحیت موجودہے۔ ان میں سے پہلے کا ذکرکیا جاچکا ہے۔ دوسرا گمراہ کن نظریہ یہ ہے کہ دین کو سیاست سے جداکردیا جائے۔ اگردین سیاست سے جداہوجائے تو پھرسوائے چنگیزی کے اور کچھ باقی نہیں رہتا، بقول علامہ اقبالؒ:
جداہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
    اورتیسرا مسموم وگمراہ کن نظریہ یہ ہے کہ دین اورآخرت  میں سے ہر ایک دوسرے سے جداہیں۔ مرادیہ ہے کہ دین الگ چیزہے اورآخرت کچھ اور ہی چیزہے جیساکہ مغربی افکار وخیالات کے حاملین اور ان کے حاشیہ برداروں کا اعتقادہے۔
    اسلام نے نوجوانوں کی بے پناہ صلاحیتوں کوتحفظ عطاکرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرمیں چندالفاظ میں اس اہم سوال کا جواب دینا چاہوں جو کہ اپنی نوعیت کے اعتبارسے بڑااہمیت کا حامل ہے اور نوجوانوں کے دل ودماغ میں ہمیشہ گردش کرتا رہتاہے اورفلسفہ نیز تربیہ و تعلیم اورنصاب تعلیم میں شامل کتابوںمیں شہ سرخیوں میں لکھا جاتاہے تو وہ یہ ہے کہ نوجوانوں سے ہمیں کیا مطلوب ہے؟
    اس سلسلہ میں ہماراجواب یہ ہے  بلکہ ہمیں اجازت دیں تو ہم بڑی وضاحت اوردوٹوک الفاظ میں یہ کہیں گے کہ اسلام نوجوانوں کو طاقت وقوت کا پیکردیکھنا چاہتاہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہرمیدان میں جھنڈا انہی کے ہاتھ میں ہو ،چاہے وہ پرسنل لائف میں قدم رنجاہوںیا زندگی کی عام ڈگرپر پا برکاب ہوں۔ ہرحال میں شبابِ اسلام ہی کا دوردورہ ہوکیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمادیا ہے جیسا کہ صحیحین میں واردہواہے کہ’’ طاقتورمؤمن شخص اللہ کے نزدیک کمزوروناتواں مؤمن سے بہتراورافضل ہے‘‘ بلکہ انسان من جانب اللہ طاقت وقوت کے مظاہرہ کا مکلف قراردیا گیاہے اورقرآن کریم کی روسے یہی مطلوب ہے جیساکہ سورۃالانفال کی ایک آیت میں واردہواہے کہ’’ تم حسب استطاعت ان کے مقابلہ کیلئے اپنی قوقت وطاقت بھرتیاری کرو‘‘ ۔قرآن کریم کا یہ اندازِبیان فصاحت وبلاغت میں  ڈوباہواہے بایں طورکہ’ ’  قوہ ‘‘کونکرہ کے صیغہ کے ساتھ استعمال کیا گیاہے۔
    اس پر مستزادیہ کہ وہ مذکورہ آیت میں بغیر’’ال‘‘کے وارد ہواہے اوردوسری خصوصیت یہ ہے کہ حرف جر’’من‘‘ کو  ’’قوہ‘‘سے مقدم رکھاگیا ہے اورحرف ’’من‘‘ سے یہاں پر عموم مرادہے توپتہ یہ چلا کہ نص قرآنی کی روسے تمام قسم کی قوتوں کے حصول کا انسان مکلف قراردیا گیاہے اوریہ چیز اسلام کی عظمت، شان اوراس جلالت قدر نیز اس کی شان وشوکت اورقدروقیمت اورقوت وارادت کی بھرپورغمازی کرتی ہے۔ یہاں پر کہاجاسکتاہے کہ اسلام اپنی امت کوایک طاقتور معززومکرم شان وشوکت کی حامل ہرمیدان میں سباق امت کے روپ میں دیکھنا چاہتاہے۔ اس امت مرحومہ سے یہی اس کی خواہش اورتمناہے  جس کاعلامہ اقبال نے  ان الفاظ میں اظہارکیاہے کہ:
ترے علم ومحبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازفطرت میں نواکوئی
    شباب اسلام کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اسلاف کرام کی زندگیوں کو اپنے لئے نمونہ بناکران کی اقتداء اور پیروی کریں۔اگرتاریخ اسلامی پرایک اچٹتی ہوئی نظرڈالی جائے تو ہمیں بخوبی پتہ چل جائے گا کہ ہمارے سلف صالحین میں کتنے نوجوان ایسے گزرے ہیں جو کہ دعوت واصلاح،حرکت ونشاط کے اعتبارسے ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں۔ دعوت واصلاح کے سلسلہ میں ان کی بے پناہ صلاحیتوں کی روداداورعظیم الشان کارناموں کی فہرست آبِ زرسے لکھے جانے کے قابل ہے۔ ان کی بے پناہ مصروفیات اورمتنوع اوصاف وکمالات ان کی عظمت اورقدرومنزلت کی بھرپورغمازہیں جس سے ان کی عظیم الشان طاقت وقوت کا اندازہ ہوتاہے۔
 
مزید پڑھیں:- - - -اسلام میں زیادتی کی سزا کیا ہے؟

شیئر: