جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے آغاز پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے تو ایران کے سکیورٹی سربراہ علی لاریجانی کی طاقت میں غٖیرمعمولی اضافہ ہو گیا اور وہ پہلے سے زیادہ بااثر ہو گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے منگل کو کہا کہ لاریجانی ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ایران نے ان کی موت کی تصدیق نہیں کی۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے لاریجانی نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں کردار ادا کیا، جو اپنے والد کی جگہ منتخب ہونے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔
مزید پڑھیں
-
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟Node ID: 901594
دوسری جانب سکیورٹی سربراہ کو گذشتہ ہفتے تہران میں حکومت کے حق میں نکالی گئی ایک ریلی کے دوران لوگوں کے ساتھ دیکھا گیا، جو اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مزاحمت کی علامت تھا۔
اگر ان کی ہلاکت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ اسلامی جمہوریہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا، کیونکہ وہ ایک ایسی اہم شخصیت سمجھے جاتے تھے جو نظریاتی وابستگی اور سفارت کاری دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
عملیت پسند
نظریاتی وفاداری اور عملی حکمتِ عملی میں توازن رکھنے میں ماہر علی لاریجانی جنگ سے قبل ایران کی جوہری پالیسی اور سٹریٹجک سفارت کاری میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔
چشمہ لگانے اور محتاط اندازِ گفتگو کے حامل 68 سالہ علی لاریجانی کو علی خامنہ ای کا اعتماد حاصل تھا، اور انہوں نے فوج، میڈیا اور مقننہ میں طویل کیریئر گزارا۔
سنہ 2025 میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ایران کی آخری جنگ کے بعد انہیں ایران کے اعلیٰ ترین سکیورٹی ادارے، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ یہ عہدہ وہ تقریباً دو دہائیاں پہلے بھی سنبھال چکے تھے، جہاں وہ دفاعی حکمتِ عملی کی ہم آہنگی اور جوہری پالیسی کی نگرانی کرتے تھے۔
بعد ازاں وہ سفارتی میدان میں بھی زیادہ متحرک ہو گئے اور عمان اور قطر جیسے خلیجی ممالک کے دورے کیے، جب ایران احتیاط کے ساتھ جوہری مذاکرات میں مصروف تھا جو بالآخر جنگ کے باعث ناکام ہو گئے۔

’چالاک حکمت کار‘
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر علی واعظ نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے قبل کہا تھا کہ ’لاریجانی ایک چالاک حکمت کار ہیں، جو نظام کے کام کرنے کے طریقہ کار سے بخوبی واقف ہیں۔‘
سنہ 1957 میں عراق کے شہر نجف میں ایک ممتاز شیعہ عالم دین کے گھر پیدا ہونے والے علی لاریجانی کا خاندان کئی دہائیوں سے ایران کے سیاسی نظام میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ان کے والد آیت اللہ روح اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔
ان کے بعض رشتہ داروں پر ماضی میں کرپشن کے الزامات بھی لگتے رہے، جن کی انہوں نے تردید کی۔
انہوں نے تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ایران-عراق جنگ کے دوران پاسداران انقلاب کے رکن رہنے والے علی لاریجانی بعد ازاں سنہ 1994 سے ایک دہائی تک سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے سربراہ رہے اور پھر سنہ 2008 سے سنہ 2020 تک پارلیمنٹ کے سپیکر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
سنہ 1996 میں انہیں علی خامنہ ای کا نمائندہ بنا کر سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں مقرر کیا گیا۔ بعد میں وہ اس کونسل کے سیکریٹری اور چیف نیوکلیئر مذاکرات کار بھی بنے، جہاں انہوں نے سنہ 2005 سے سنہ 2007 کے درمیان برطانیہ، فرانس، جرمنی اور روس کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی۔

انہوں نے سنہ 2005 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا لیکن مقبول امیدوار محمود احمدی نژاد سے شکست کھا گئے، جن کے ساتھ بعد میں جوہری سفارت کاری پر اختلافات بھی سامنے آئے۔
علی لاریجانی کو سنہ 2021 اور سنہ 2024 دونوں میں صدارتی انتخاب لڑنے سے نااہل قرار دیا گیا۔
مبصرین کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ کے طور پر ان کی واپسی اس بات کی علامت تھی کہ ایران ایک ایسے قدامت پسند رہنما کی طرف بڑھ رہا ہے جو نظریاتی وابستگی کو عملیت پسندی کے ساتھ جوڑ سکتا ہے۔
علی لاریجانی نے سنہ 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے کی حمایت کی، جو تین برس بعد اس وقت ختم ہو گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی۔
مارچ 2025 میں لاریجانی نے خبردار کیا تھا کہ مسلسل بیرونی دباؤ ایران کے جوہری موقف کو تبدیل کر سکتا ہے۔
انہوں نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ’ہم جوہری ہتھیاروں کی طرف نہیں جا رہے، لیکن اگر آپ ایران کے جوہری معاملے میں غلط قدم اٹھائیں گے تو آپ ایران کو اس طرف جانے پر مجبور کریں گے کیونکہ اسے اپنا دفاع کرنا ہو گا۔‘
وہ بارہا اس بات پر زور دیتے رہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات صرف جوہری معاملے تک محدود رہنے چاہییں اور یورینیم کی افزودگی کو ایران کا خودمختار حق قرار دیا۔

پُرتشدد کریک ڈاؤن
علی لاریجانی ان حکام میں شامل تھے جن پر جنوری میں امریکہ نے پابندیاں عائد کیں، جس کی وجہ واشنگٹن کے مطابق ’ایرانی عوام پر پُرتشدد جبر‘ تھا، جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے بعد کیا گیا۔
حقوقِ انسانی کے گروہوں کے مطابق حکومت کے سخت کریک ڈاؤن میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔
لاریجانی نے تسلیم کیا کہ معاشی دباؤ نے ’مظاہروں کو جنم دیا‘، تاہم انہوں نے اس کے بعد ہونے والے تشدد کا الزام امریکہ اور اسرائیل کی بیرونی مداخلت پر عائد کیا۔












