ابرار کی سن رائزر ٹیم میں شمولیت انڈین فوجیوں کی ہلاکت میں حصہ ڈالنے کے مترادف: گواسکر
ابرار کی سن رائزر ٹیم میں شمولیت انڈین فوجیوں کی ہلاکت میں حصہ ڈالنے کے مترادف: گواسکر
منگل 17 مارچ 2026 14:42
جو فیس ایک پاکستانی کھلاڑی کو دی جاتی ہے، وہ بالواسطہ طور پر انڈین فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکت میں حصہ ڈالتی ہے۔ تصویر: اے ایف پی
انڈیا کے سابق کرکٹر سنیل گواسکر نے کہا ہے کہ ’دی ہنڈرڈ لیگ میں پاکستانی سپنر ابرار احمد کی انڈین فرنچائز میں شمولیت انڈین فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکت میں حصہ ڈالنے‘ کے مترادف ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستانی کھلاڑی 2009 کے بعد سے انڈین پریمیئر لیگ میں حصہ نہیں لے رہے، جس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان گہرا سفارتی تناؤ ہے۔
حال ہی میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ لندن میں ہونے والی دی ہنڈرڈ کی ابتدائی نیلامی میں شریک پاکستانی کھلاڑیوں پر ’غیر اعلانیہ پابندی‘ عائد ہو سکتی ہے اور آئی پی ایل سے منسلک ٹیمیں ان کے حوالے سے بولی نہیں لگائیں گی۔
تاہم ایسا نہیں ہوا اور ’سن رائزرز لیڈز ‘ جو اسی گروپ کی ملکیت ہے اور آئی پی ایل ٹیم سن رائزرز حیدرآباد کو کنٹرول کرتی ہے، کی جانب سے پچھلے ہفتے ابرار احمد کو ایک لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ (252,000 ڈالر) میں خریدا گیا۔ سوشل میڈیا پر اس کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
76 سالہ سابق انڈین کپتان گواسکر نے سنیچر کو انڈین اخبار میں اپنے کالم میں سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’جو فیس ایک پاکستانی کھلاڑی کو دی جاتی ہے، وہ اپنی حکومت کو انکم ٹیکس ادا کرتا ہے، اور وہ حکومت اس رقم سے اسلحہ خریدتی ہے، جو بالواسطہ طور پر انڈین فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکتوں میں حصہ ڈالتی ہے۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’چاہے ادائیگی کسی انڈین ادارے کی جانب سے ہو یا اس کی بیرونِ ملک ذیلی شاخ کے ذریعے، اگر مالک انڈین ہے تو وہ ان نقصانات میں شریک سمجھا جائے گا۔‘
ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے پہلے 10 ہزار رنز بنانے والے سنیل گواسکر نے اپنے کالم کے آخر میں لکھا کہ ’اب بھی وقت ہے کہ اس غلطی کو سدھار لیا جائے اور امید ہے کہ دانشمندی پر مبنی فیصلے کیے جائیں گے۔‘
دی ہنڈرڈ کی مزید تین فرنچائزز ایم آئی لندن، مانچسٹر سپر جائنٹس اور سدرن بریو بھی جزوی طور پر آئی پی ایل ٹیموں کے مالکان کی ملکیت ہیں۔
نیلامی میں خریدے جانے والے ایک اور پاکستانی کھلاڑی عثمان طارق کو امریکی حمایت یافتہ ٹیم برمنگھم فینکس نے حاصل کیا ہے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے گزشتہ ماہ بیان دیا تھا کہ اس ٹورنامنٹ کی تمام آٹھ فرنچائزز صرف کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب کرنے کی پابند ہیں۔
سنیل گواسکر نے انگلینڈ کی لیگ ’دی ہنڈرڈ‘ میں پاکستانی سپنر ابرار احمد کی شمولیت کو انڈین ملکیتی فرنچائز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ تصویر: اے ایف پی
خیال رہے انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور پچھلے برس مئی کے مہینے کے دوران دونوں نے ایک دوسرے پر حملے بھی کیے۔
تاہم اس سے قبل بھی کرکٹ کے معاملے میں ان کے تعلقات خاصے ابتر رہے ہیں اور ایک عشرے سے زائد وقت سے دونوں کے درمیان سیریز نہیں ہوئی بلکہ عالمی یا علاقائی ٹورنامنٹس میں ہی ایک دوسرے کے مقابلے میں آتے ہیں۔