نوجوان نسل میں ارتداد کے واقعات ، قابل تشویش

    
یہ سمجھنا کہ تعفن زدہ بستی میں پھیلتی ہوئی اس بیماری سے ہمارا اپنا گھرانا محفوظ رہے گا خود فریبی کے علاوہ کچھ اور نہیں
 * * محمد غزالی خان۔لندن *  *

اس وقت سوشل میڈیا پر مسلمان لڑکیوں کے ارتداد کے تعلق سے زبردست بحث جاری ہے۔ معلوم نہیں آیا ان واقعات کی تعداد اتنی ہی زیادہ ہے جتنی بیان کی جا رہی ہے یا یہ صرف اُتنی ہے جو ہندوستان یا کسی غیر مسلم معاشرے میں ہمیں اپنی کمیوں کے باعث ادا کرنی پڑتی ہے۔
    بین المذاہب شادیوں کی یقینا اسلام میں کو ئی جگہ نہیں اور یہ حرکت باعث گناہ ہے مگر ضروری نہیں کہ ایسی تمام شادیاں ارتداد کا نتیجہ ہوں۔ ایسی مثالیں بھی ہیں جن میں اس رشتے میں بندھے دونوں افراد غیر شرعی شادی کے گناہ کے ارتکاب کے علاوہ اپنے اپنے  مذہب پر قائم ہیں۔
    بہر حال مسلمان لڑکیوں کے ارتداد سے متعلق سوشل میڈیا پر ایکٹو مسلمانوں کا حال اس وقت ایک ایسی ہاری ہوئی ٹیم کا ہے جس کا ہر کھلاڑی اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے اور اپنی کمیوں پر غور کرنے کے بجائے ہار نے کا الزام دوسرے کھلاڑیوں کے سر مڑھنے پر تلا رہتاہے۔ کوئی عصری اداروں کو الزام دے رہا ہے تو کوئی والدین کی لا پرواہی کو جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے تمام اسباب اورمحرکات اور مزید ایسے سانحات سے بچنے کی تدابیر پر کھلے ذہن اور سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے۔ یہ سمجھنا کہ تعفن زدہ بستی میں پھیلتی ہوئی اس بیماری سے ہمارا اپنا گھرانا محفوظ رہے گا خود فریبی کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ ایسے روح فرسا واقعے پر کسی پر طنز کرنا یا کسی کے طریقۂ  تربیت پر سوال اٹھانا نہایت مکروہ حرکت ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام تو نبی تھے ، کیا ان کی تربیت میں کمی رہی ہو گی کہ ان کا بیٹا باغی اور کافر رہا۔ خدانخواستہ کسی کو ایسے افسوس ناک واقعے کا سامنا کرنا پڑ جائے تو ایسے واقعات سے عبرت لینی چاہئے،اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنی چاہئے اور اپنی نسلوں کی ہدایت کیلئے دعا مانگنی چاہئے۔ 
    اس موضوع پر جاری مباحثوں میں جس بات پر بڑی شدت کے ساتھ اظہار افسوس کیا جا رہا ہے وہ لڑکیوں کا ارتداد ہے جبکہ ارتداد کا تناسب شایدلڑکوں میں زیادہ ہو گا۔ میرے پاس اپنی بات ثابت کرنے کیلئے اعداد و شمار نہیں جس کی بنیاد پر یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکوں مگر جاننے والوں میں یا جاننے والوں کے متعلقین کی کئی مثالیں میرے سامنے ہیں جنہوں نے ہندولڑکیوں سے شادی کی ہے۔ صرف دہلی کے کسی مسلم علاقے کا جائزہ لے لیجئے، اس کے بعد شاید میری بات میں کچھ وزن محسوس ہو۔ 
    ارتداد لڑکوں کا ہو یا لڑکیوں کا دونوں باعث تشویش اور باعث شرم ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہ ہو سکتی ہیں جن میں سے ایک نئی وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ ہندو تنظیمیں منظم طریقے سے مسلمان لڑکیوں کو جال میں پھنسا کر ان کی زندگیاں بر باد کر رہی ہیں۔
    بہر حال ان لڑکیوں کو کسی منصوبے کے تحت پھنسایا جا رہا ہو یا یہ واقعی یہ عشقیہ شادیاں ہوں، دونوں صورتوں میں ارتدادکے واقعات تشویشناک بھی ہیں اور شرمناک بھی۔ کسی بھی وجہ سے کسی مسلمان کے مرتد ہونے کی وجہ کمزور ایمان اور تربیت میں کمزوری اور ایسا ماحول ہے جس میں گمراہ ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
    یہ بھی ممکن ہے کہ لڑکیوں کے ارتداد کی بہت سی وجوہ میں سے ایک ہمارے معاشرے کے اس دوغلے پن کیخلاف بغاوت کا جذبہ کار فرما ہو جس کے ایک پہلو کا ذکر میں نے اوپرکیا ہے۔ بیٹی اور بیٹے میں امتیاز کا فرق ہمارے یہاں مسجد میں نماز کی اجازت اور وراثت میںلڑکیوں کو ان کے جائزحقوق سے محروم کئے جانے سے لے کرتعلیمی مواقع تک ہر طرح سے کیا جاتا ہے۔’’دودو نہاؤ پوتو پھلو‘‘ کی دعا کے پیچھے پوری ایک سوچ اور معاشرے کی نفسیات تھی جس سے آج بھی ہم اپنے آپ کو آزاد کرانے میں ناکام ہیں جبکہ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ جو محبت بیٹی والدین کو اور بہنیں بھائیوں کو دیتی ہیں وہ بیٹوں اور بھائیوں میں کم ہوتی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ بیٹیوں پر سختی اور غصہ کے بجائے ان کے ساتھ محبت سے پیش آیا جائے ، ان میں اتنا اعتماد پیدا کردیا جائے کہ انہیں یقین ہو کہ والد اور والدہ میں سے کسی کے ساتھ بھی وہ اپنے ذاتی مسائل کے بارے میں کھل کربات کر سکے۔ اگر اس میں احساس ذمہ داری اور یقین پیدا کردیا جائے تو وہ والدین کو اپنا سب سے بڑا دوست اور ان کی عزت کو اپنی عزت سمجھے گی۔ اگراس میں اس بات کا اعتماد پیدا کردیا جائے کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ یعنی شادی اس کی مرضی کے خلاف نہیں کیا جائے گا تو وہ والدین کی عزت کو داؤ پر نہیں لگائے گی اور اگر ایک بالغ اور سمجھدار لڑکی کو کوئی لڑکا پسند ہے اور مہذب طریقے سے اس کا رشتہ آتا ہے تو بغیر معقول وجہ کے اس میں رکاوٹ پیدا کرنا یا کسی ایسی جگہ اس کا رشتہ طے کرنا جو اسے پسند نہ ہو بہت بڑی حماقت اور غیر شرعی حرکت ہے۔    ارتداد کے ان واقعات کی سب سے بڑی وجہ ہم خود بھی ہیں ۔ انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی۔جبری ارتداد کے زیادہ واقعات مخلوط آبادیوں میں بتائے جا رہے ہیں۔ ان مخلوط آبادیوں سے نکلنے کی تدابیر پر غور کئے جانے کی اشد ضرورت ہے۔ بہر حال اس وقت کا سب سے بڑا چیلنج نوجوانوں میں دینی اور ملی حمیت اور فکر پیدا کرنا ہے اور انہیں شرک اور کفر کی سنگینی سے واقف کرانا بہت ضروری ہے۔ اس کام کے لئے تنظیمیں قائم کرنا اور سیمینار منعقد کرنے کی کوششیں وقت کی بربادی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ضروری ہے کہ ہم شروعات اپنے ذاتی محاسبے اور اصلاح  سے کریں اور گھر کے افراد، رشتہ دار اور دوستوں تک جہاں جہاں بھی ممکن ہو فکر پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس کی ابتدا ہفتہ وار یا 15روزہ میٹنگ سے ہی کی جا سکتی ہے۔اس وقت جسم کے ایک حصے میں تکلیف کی شدت نے دوسرے حصوں میں مختلف قسم کے امراض کے ہمارے احساس کو کم کیا ہوا ہے۔ غیر مسلموں کے ساتھ شادیاںاور ارتداد تو بہت بعد کی اسٹیج ہے۔ کبھی اپنے اطراف کے ماحول پر غور کیجئے کہ مسلم محلوں میں کیسی کیسی خرافات ہو رہی ہیں۔ نہ بڑوں کا لحاظ رہا اور نہ پڑوسی اور محلے والوں سے کوئی مروت۔ یہ نوجوان ، جنہیں بے سمت چھوڑ دیا گیا ہے اور جن کے پاس فالتو وقت گزارنے کیلئے کوئی سرگرمی نہیں ، کیسی کیسی خرافات میں مبتلا ہیں جس کی جانب ہماری توجہ کم ہی ہوتی ہے۔ ارتداد کے واقعات پر شور مچائے بغیر خاموشی سے اس کے تدارک کی تدابیر کئے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارا شور مچانے کو ہماری منافقت اور شاید بڑی حد تک بجا طور پر، محمول کیا جائے گا۔
    کچھ عرصہ پہلے ہمارے دوست مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب نے اس موضوع پر ایک مضمون لکھا تھا ۔ اس مضمون میں انھوں نے ایسے واقعات نقل کئے تھے جن میں مسلمان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے غیر مسلموں سے شادیاں کی تھیں۔ جب تک مضمون اردو میں تھا تو ٹھیک تھا مگر جیسے ہی میں نے اس کا ترجمہ کر کے اردو میڈیا مانیٹر پر شائع کیا جواب میں بہت سے لبرل ہندوؤں کے تبصرے موصول ہوئے ، جنہیں ظاہر ہے میں نے شائع نہیں کیا جن میں انھوں نے اعتراض کیا تھا کہ جب غیر مسلم لڑکی اپنی مرضی سے مسلمان کے ساتھ شادی کرتی ہے تو آپ حضرات خوش ہوتے ہیں مگر جب معاملہ اس کے بر عکس ہوتا ہے تو ہنگامہ کر ڈالتے ہیں۔

مزید پڑیں:- - -  -توہمات کا منبع ہندوانہ رسمیں

شیئر: