Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چور سپاہی کی اداکاری ختم کریں

***سجاد وریاہ***
 رضا ربانی ایک سینئر سیاستدان اور سابق چیئرمین سینیٹ ہیں،ان کی شخصیت،ان کا حلیہ ،انکی ادائیں ،انکا اعتماد ،ان کا لہجہ اور انداز گفتگو یقیناََ مسحور کن ہیں،لمبے بالوں کی پونی بنائے جب گفتگو کرتے ہیں تو مخالف کو متاثر کر کے رکھ دیتے ہیں۔ان کی شہرت ایک جمہوریت پسند ،پارلیمینٹیرین اور شفاف سیاستدان کی ہے۔ان کے والدمیاں عطا ربانی ،قائد اعظم کے پہلے اے ڈی سی تھے۔ میاں عطا ربانی پہلے پائلٹ تھے جن کا تبادلہ رائل انڈین ائرفورس سے رائل پاکستان ائرفورس میں کیا گیاتھا جو پاکستان کے قیام کے بعد نئی فضائیہ ہو ئی۔انہوں نے قائد اعظم اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ7اگست 1948ء کو پالم ایئر پورٹ دہلی سے ماڑی پور ایئر پورٹ کراچی تک سفر کیا ۔وہ غالباََ 6 مہینے  قائد اعظم کے پہلے اے ڈی سی رہے۔اس کے بعد ان کو رسالپور فضائیہ اکیڈمی میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔انہوں نے قائد اعظم کے ساتھ وابستہ یادوں اور حوالوں سے متعلق کئی کتب تحریر کیں ۔عطا ربانی مرحوم کی عظمت بیان کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ رضا ربانی کی بلند و بالا علمی سیاسی اور ملٹری وابستگی کی تاریخ بیان کی جا سکے۔اب آتے ہیں رضا ربانی کے عملی کردار کی طرف جو انہوں نے ’جمہوریت‘کی خد مت کے لیے ادا کیا،ان کی جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ کسی نہ کسی صورت میں حکومت میں حصہ چاہیے، پیپلز پارٹی کو وفاق اور سندھ میں حکومت ملنی چاہیے اور پھر اس حکومت کو کرپشن کی چھٹی ہونی چاہئے۔کرپشن کا پوچھا جائے تو پی پی کے دانشور رضا ربانی پھر وہ بھاشن دیں گے کہ ملک کا نظام مفلوج دکھائی دینے لگتا ہے۔وہ جو کہ جمہوریت پسند ہیں ۔ایک مسئلہ یہ ہے کہ ان کی جمہوریت بس زرداری پر ختم ہو جاتی ہے۔انہوں نے چند دن قبل سینیٹ میں اظہار خیا ل فرمایاان کا کہنا ہے’’میں سیاستدان ہوں ،ہاں میں کرپٹ ہوں،لیکن یہ کہ ہم سب کرپٹ ہیں،پورا معاشرہ کرپٹ ہے۔ سب کرپٹ ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ سب کا احتساب ہو ،کوئی کمیشن بنایا جائے جو فیصلہ کرے کہ کس کا کیس نیب کو بھیجناہے اور کس کا نہیں‘‘۔جب ان کے جملے ’’ہاں میں کرپٹ ہوں‘‘میرے کانوں میں پڑے تو یقین نہ آیا کہ ایک سیاستدان کس طرح اپنی کرپشن کا اعتراف کر رہا ہے۔ان کے اس اعتراف کے بعد ان کے دو ہی مقاصد نظر آئے ،جیسے یہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ ہم  نے جو کرپشن کر لی ہے اس کو چھوڑو آگے چلو ،مٹی پاؤ اور کمیشن بنادو جو ’’گھونگلوؤں ‘‘ سے مٹی جھاڑتا رہے گا،دوسرا مطلب مجھے یہی لگ رہا تھا کہ اگر احتساب کرنا ہے اس کا بھی کرو ،اس کا بھی کرو۔جب اسکول میں کوئی بچہ کسی شرارت میں پکڑا جائے تو وہ کہنا شروع کر دیتا ہے کہ سر جی وہ بھی تھا ،وہ بھی ہے،یعنی باقی ساتھیوں کو بھی پکڑوانے کی کوشش کرتا ہے۔
سابق چیئرمین سینیٹ کو شاید اندازہ نہیں ہو رہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے ،پچھلے 10 سالہ جمہوری دور نے عوام کو کیا دیا؟،رضا ربانی یہ بتا نا پسند فرمائیں گے کہ میثاقِ جمہوریت کے نام پر جو ’’میثاقِ کرپشن ‘‘ دونوں بڑی جماعتوں نے ’انجوائے ‘ کیا ،اس سے ملک کی نیک نامی میں کیا اضافہ ہوا؟رضا ربانی نے سندھ میں 10 سال سے جاری جمہوریت کے ناچ کے کوئی فیوض و برکات پر کوئی بات نہیں کی ،وہ کہہ سکتے تھے کہ ہماری سندھ حکومت نے فالودے والوں،ریڑھی والوں اور غریبوں کے اکاؤنٹ میں اربوں ڈال دیے ہیں اب اور کیا کریں؟ان سے پوچھنا چاہتا ہوں آپ میں اتنی جرأت ہے کہ زرداری صاحب سے پو چھ لیں کہ جناب کیا بات ہے کہ انور مجید ،ایان علی،ڈاکٹر عاصم اور شرجیل میمن پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزمات ہیں اور ہماری پارٹی اور حکومت ان کا دفاع کر رہی ہے؟ کیا یہی جمہوریت ہے؟
جناب سابق چیئرمین سینیٹ اس روز آپکی مصنوعی اداکاری ،آواز میں گھن گرج پیدا کرنے کی کوشش ،میں بھی چور ،وہ بھی چور ،سب چور کے نعرے آپ کو بالکل بھی عوام کی نظر میں معتبر نہیں کر پائے،سب جان چکے ہیں ،سب جان گئے ہیں،مداریوں کا کھیل تماشا ختم ،چور سپاہی کی اداکاری ختم،اب رہی سہی کسر عمران خان پوری کر دے گا۔
جناب رضا ربانی صاحب نے کمال دانشمندی سے ’’پانی میں مدھانی‘‘ ڈالنے کی کوشش کی کہ سب گندے ہیں۔ سب چور ہیں ۔اس لیے ہم بھی چور ہیں ۔جناب اب یہ نہیںچلے گا ،بہتر ہوتا کہ آپ اپنے رتبے اور مقام کے لحاظ سے بات کرتے کہ ہم سیاستدان کرپٹ نہیں ہیں ،مجموعی طور پر ہمارا دامن صاف ہے لیکن اگر ہم میں کوئی کالی بھیڑیں موجود ہیں تو ہم ان کو قانون کے سامنے اور نیب کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ملکی اداروں سے تعاون کریں گے کہ ان کالی بھیڑوں سے حساب لیا جائے اور پارلیمنٹ کا وقار بحال ہو سکے۔آپ نے کیا کہا؟ میں سیاستدان ہوں ،ہاں میں کرپٹ ہوں،لیکن ہمارا احتساب ایک کمیشن کرے گا ،آپکی خدمت عالیہ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پچھلے10 سالوں میں بنانا تھا کمیشن،کرنا تھا احتساب۔بس کردیں خدا کے لیے،آپ تو نیب کو قابو کرنے کے انتظامات کرتے رہے اور نیب چیئرمین کو متفقہ لگانے کا قانون بنایا،تاکہ دونوں پارٹیوں کو یقین ہو جائے کہ احتساب کسی کا بھی نہیں ہو گا۔اب نئی حکومت احتساب کر رہی ہے تو چیخیں نکل رہی ہیں۔طرفہ تماشہ ہے کہ جن لوگوں نے ملک کو اس حال تک پہنچایا ہے ،وہی لمبی زبانیں نکالے باتیں کر رہے ہیں ،ویسے خواجہ آصف یا د آگئے کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔
 

شیئر: