Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عراق اپنی سرزمین سے ایران نواز گروپوں کے حملے بند کرے، سعودی عرب اور پانچ ملکوں کا مطالبہ

خطے کے ملکوں، تنصیبات اور انفرا سٹرکچر پر حملوں کی شدید مذمت کی (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور اردن نے بدھ کو عراق سے ایران نواز مسلح دھڑوں کی جانب سے خطے کے ملکوں، ان کی تنصیبات اور انفرا سٹرکچر پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق مشترکہ بیان میں ان ملکوں نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین سے پڑوسی ملکوں پر مسلح گروپوں اور ملیشیاوں کے حملے فوری طور پر روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
مشترکہ بیان میں ایران کی جانب سے حملوں کی شدید مذمت کا اعادہ کیا گیا خواہ وہ  براہ راست کیے گئے یا پراکسیز اور خطے میں ایران نواز مسلح  گروپوں کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق بیان میں کہا گیا ’یہ حملے نہ صرف علاقائی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی منافی ہیں، چاہے یہ حملے براہ راست ہوں یا ایران نواز فریقوں اور مسلح گروپوں کے ذریعے کیے جائیں۔’
مشترکہ بیان میں خاص طور پر عراق میں ایران کے حامی مسلح گروہوں کی جانب سے خطے کے مختلف ملکوں ان کے بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں پر کا ذکر کیا گیا، جنہیں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2817 (2026) کی صریح خلا ف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
اس قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فوری اورغیرمشروط طور پر اپنے حملے یا خطے کے ممالک کو درپیش خطرات بند کرے۔
بیان میں حکومتِ عراق سے مطالبہ کیا گیا کہ’ وہ فوری طورپر ایران نواز فریقوں، ملیشیاوں اور مسلح گروہوں کی کارروائیاں روکنے کے لیے اقدامات کرے تاکہ علاقائی تعلقات محفوظ رہیں اور تصادم میں اضافہ نہ ہو۔‘
ساتھ ہی یہ ممالک اپنے دفاع کا مکمل اور قانونی حق بھی تسلیم کرتے ہیں، جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 میں درج ہے جو ملکوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر دفاع کرنے کا حق، اپنی خود مختاری، سلامتی اور استحکام  کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی  اجازت دیتا ہے۔
مشترکہ بیان میں ایران کے حامی سلیپنگ سیلز اور حزب اللہ سے منسلک دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کی بھی مذمت کی گئی۔
 بیان میں اپنی مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں کی چوکسی اور کوششوں کو سراہا گیا، جنہوں نے ان خطرات کے خلاف موثر کارروائی کی اور ان خفیہ منصوبوں کو بے نقاب کیا۔

 

شیئر: