ایران اس بات کا اعتراف کرنے سے ڈرتا ہے کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امن مذاکرات میں شامل ہے تاہم اس کی جانب سے انکار اس وجہ سے کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے مذاکرات کار اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں مارے جانے سے خوفزدہ ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ بات چیت کر رہے ہیں اور بہت شدت سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ یہ بات کُھل کر نہیں کہتے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کے اپنے لوگ انہیں مار دیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ اس بات سے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ہم انہیں نہ مار دیں۔‘
امریکی صدر کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ وہ مذاکرات کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس تنازعے میں بری طرح نقصان اُٹھا رہا ہے جو اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔
اپنے ملک کے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’ڈیموکریٹس ہماری اس فوجی کارروائی کی کامیابیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’ڈیموکریٹس کو جنگ کا لفظ پسند نہیں کیونکہ اس کے لیے کانگریس کی منظوری لینا پڑتی ہے، اس لیے میں اسے فوجی کارروائی کہوں گا۔‘
وائٹ ہاؤس نے پہلے کہا تھا کہ اگر ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو صدر ٹرمپ سخت کارروائی کے لیے تیار ہیں، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایران اب بھی مذاکرات میں شامل ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایک نامعلوم اہلکار نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے مجوزہ پندرہ نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام میں کمی، میزائلوں پر پابندیاں، اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کی مسلح گروہوں کی حمایت محدود کرنے کی بات بھی شامل ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کا یہ منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا۔
اگرچہ تمام تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن اب تک جو معلومات دستیاب ہیں وہ یہ ہیں:
امریکی نمائندہ سٹیو وٹکوف نے ٹرمپ کو بتایا کہ ایرانیوں نے کئی اہم نکات پر اتفاق کیا ہے، جن میں زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونا بھی شامل ہے۔
