Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قومی ہاکی ٹیم کیلئے غیر ملکی کوچ ضروری ہے، رضوان سینیئر

 
لاہور:پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے کپتان رضوان سینیئر ٹیم انتظامیہ کی جانب سے ناقص کارکردگی کا قصوروار سینیئر کھلاڑیوں کو ٹھہرانے پر پھٹ پڑے ۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں شکست کے ذمہ دار نہ صرف سینیئر کھلاڑی ہیں بلکہ اس میں کوچ کا بھی اتنا ہی قصور ہے۔انہوں نے غیرملکی کوچ کی تقرری کو کارکردگی میں بہتری لانے کا واحد حل قرار دے دیا۔رضوان سینیئر کا کہنا تھا کہ قومی کھیل کو دوبارہ اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کےلئے پاکستان ہاکی فیڈریشن سمیت ہر شعبے میں پروفیشنل لوگوں کو آگے لانا ہوگا۔ ملکی کوچز کے ساتھ جان چھڑانے والی پالیسی سے ٹیم کی پرفارمنس کبھی بہتر نہیں ہوسکتی۔رضوان نے کہا کہ ٹیم منتخب کرتے وقت کپتان سے کوئی رائے نہیں لی جاتی، ورلڈ کپ جیسے بڑے ایوانٹ کیلئے منتخب کردہ اسکواڈ میں مجھ سے کوئی مشاورت نہیں مانگی گئی۔ المیہ یہ ہے کہ ناکامی کا ملبہ ہمیشہ سینیئر کھلاڑیوں پر ڈال دیا جاتا ہے، اس بار بھی کوچز اپنی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے ایسا ہی کررہے ہیں جو کھلاڑیوں کے ساتھ بہت زیادتی ہے۔کپتان نے کہا کہ دوسرے ممالک کی طرح ہمیں بھی ورلڈکپ سے ورلڈ کپ تک غیر ملکی کوچز کی تقرری کرنا ہوگی۔ ہالینڈ کا کوچ 6سال سے ٹیم کے ساتھ کام کررہا ہے۔ غیرملکی کوچز کبھی کھلاڑیوں کو برا نہیں کہتے بلکہ اپنے گیم پلان میں تبدیلی کرکے اچھے نتائج لانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں، ہمارے ہاں کھلاڑیوں کو ہی شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
 کھیلوں کی مزید خبریں اور تجزیئے پڑھنے کیلئے واٹس ایپ گروپ"اردو نیوزاسپورٹس"جوائن کریں

شیئر: