مہمند ڈیم کا ٹھیکہ کس کو دیدیا؟

***خلیل احمد نینی تال والا**
تقریباً50سال قبل 1970ءکی دہائی میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی وجود میں آئی تھی جس نے تمام سیاسی جماعتوں کو سوشلزم کے نام پر پیچھے چھوڑ دیا تھا اور دھڑا دھڑ روٹی ،کپڑا اور مکان کے نام پر معاشی تجربات کئے تھے ۔جس میں راتوں رات بڑی بڑی کمپنیاں قومی تحویل میں لے لی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ بنک، انشورنس ،تعلیمی ادارے اس کے علاوہ تھے۔ حزب اختلاف والے چلاتے رہے مگر بھٹو صاحب نے کسی کی پروا نہ کی، بعد میں یہ تمام تجربات ناکام ثابت ہوئے اور خود بھٹو صاحب کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے اپنے ادوار میں ڈی نیشنلائیز کرکے ان کو نیلام کردیئے ۔اب اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کو بھی تمام سیاسی جماعتوں کی شکست کی وجہ سے قوم نے یہی مقام دیا ہے کہ وہ قوم کے لوٹے ہوئے کھربوں روپے واپس خزانے میں جمع کرائے جو اُس نے الیکشن سے قبل قوم سے وعدے کئے تھے گوکہ تمام ادارے بشمول نیب،ایف آئی اے ،عدلیہ سب مل کر زور لگا رہے ہیں کہ لوٹنے والوں کا گھیرا تنگ کریںاور ان کرپٹ سیاستدانوں اور کرپٹ بیوروکریٹس حضرات کو کٹہرے میں لائیں مگر قانونی تقاضوں کی آڑ میں یہ سب معصوم بن کر قوم کو باور کرارہے ہیں کہ سب کچھ سیاسی عداوت کے سوا کچھ نہیں۔ سب مل کر وزیراعظم عمران خان کو لتاڑرہے ہیںکہ ہم بہت جلد تمہاری حکومت کا تختہ الٹ دیں گے ۔صرف ہمارے باس کا ایک اشارہ کافی ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا اب ایک ایجنڈابن چکا ہے ۔دوسری طرف نیب ،ایف آئی اے دن رات ایک کرکے سینکڑوں افراد کے خلاف کیس بنا چکی ہے مگر یہ کیس بظاہر لولے لنگڑے لگتے ہیں ۔ کھربوں کی غیرقانونی جائیدادوں کی موجودگی میں وہ بے بس ہے کہ کیسے ان کو جکڑے، اور قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لائے۔متحرک چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے رفقاءکے ساتھ اس کوشش میں ہیں کہ اس قوم کا پیسہ واپس آئے اور جانے سے پہلے ڈیم بننے کا خواب پورا ہومگر دوسری طرف پی ٹی آئی کے نادان وزراءکم عقلی کی بے تکان غلطیوں سے عوام کو مایوس کررہے ہیں۔سب سے بڑی غلطی ڈیم کا ٹھیکہ 310ارب روپے کا خود اُن کے پارٹی کے مشیر تجارت رزاق داﺅد صاحب کی فرم کو تمام قانونی تقاضوں کو پوراکئے بغیر دیاگیا یوں حزب اختلاف کے منہ میں اپنا سر پھنسا دیا جو ماضی کی کرپٹ حکومتیں کرتی رہی ہیں۔بھلا کیا ضرورت تھی مشیر تجارت کو اس ٹینڈر کو بھرنے کی اور پھر کسی اور نے ٹینڈر ہی نہیں بھرا تو قانوناً دوبارہ ٹینڈر جاری کیا جاتا ہے مگر خاموشی سے وزیرتجارت کی فرم کے حوالے کردیا گیا یہ دھبہ اب کیسے دھلے گا۔
اس پر نکتہ چینی میںتو ان کا اپنا ایک مشیر بھی خاموشی سے فارغ ہوچکا ہے ۔لگتا ہے ہمارے وزیراعظم بھی اپنے کسی دوست پر نکتہ چینی بھی برداشت نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے وزراءکی غلطیوں پر نظر رکھتے ہیں جو ماضی میں دوسری سیاسی جماعتوں سے نکل کر پی ٹی آئی کی زینت بنے ہیں ۔فرق صرف اتنا ہے کہ مرحوم بھٹو اپنے ایک ایک وزیرکا فائل بناکر ریکارڈ رکھتے تھے مگر یہاں تو سادگی اور ریاست مدینہ کے نام پر گورنر سندھ 40گاڑیوں کے قافلے میں اندرون سندھ کا دورہ کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ کیسا تضاد ہے یا قوم سے مذاق۔صرف چند گاڑیاں اور بھینسیں بیچ کر قصرصدارت یا گورنر ہاﺅس کو عوام کے لئے کھول کر کیا اربوں کے اخراجات کم ہونگے۔ یہ وعدے کیا ہوئے؟ اب میڈیا سے سب کچھ پتہ لگ جاتا ہے ۔کیا صرف کراچی میں ہی انکروچمنٹ تھی جو اُس کو ادھیڑ کے رکھ دیا ہے۔ وہ بھی کراچی کے مخصوص علاقوں کو ٹارگٹ کرکے صفائی کی جارہی ہے۔ سہراب گوٹھ ،کٹی پہاڑی ،ہزارہ کالونی ،ڈی ایچ اے کے ساتھ لگی ہوئی کچی بستیاں کسی کو نظر نہیں آر ہیں ۔لاہور،ملتان، اسلام آباد ،راولپنڈی ،فیصل آباد کے بازار جو انکروچمنٹ سے پیدل چلنے والوں کے لئے بھی دشوار ہوچکے ہیں ان کی اصلاح کے لئے کوئی پروگرام نہیں ہے۔پھر کراچی کا دورہ کرکے کہا جارہا ہے کہ کراچی والوں کے لئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے ۔یہ کراچی بھی عجب شہر ہے 2 صدور آئے اور چلے گئے مگر کسی کو بھی کراچی کی ترقی اور نوکریوں کا خیال نہیں آتا۔ 5 سال گزار کر بھی کچھ نہ کرسکے ۔سندھ حکومت کراچی والوں کیلئے تو کچھ نہ کرسکی مگر موجودہ صدر تو کراچی کی کم از کم سڑکیں ٹھیک کرادیںاور پینے کا پانی ہی دلوادیں ۔نوازشریف نے لاہور کو پیرس بنادیا۔ آج لاہور والے اُن کیلئے لڑنے مرنے کے لئے بھی تیار رہتے ہیں ،مسلم لیگ ن کے صدر ممنون حسین نے بھی کراچی کے لئے 5 سال میں کچھ نہیں کیا۔ آج وہ خاموشی سے زندگی گزاررہے ہیں۔آپ کم از کم پی ٹی آئی کے صدر کے حیثیت سے کچھ تو کراچی والوں کا خیال کریں جن کے ووٹوں سے آپ صدر منتخب ہوئے ہیں ۔کل آپ نے بھی ماضی کا حصہ بن جانا ہے۔ کچھ تو کراچی کے زخموں پر مرہم رکھیں ۔دوتہائی بجٹ کا ٹیکس دینے والا شہر آج کھنڈر بن چکا ہے۔ کیا دوبارہ ووٹ نہیں لینا؟کراچی والوں نے پہلی مرتبہ 40سال کے بعد مہاجر فیکٹر سے ہٹ کر پی ٹی آئی پر اعتماد کرکے ووٹ دیئے ۔نصف درجن وزراءکے باوجود کراچی کا کوٹہ سسٹم بھی ختم نہیں کراسکے۔اس ملک میں سب کچھ وہی ہورہاہے جو 70سال سے ہوتا چلاآرہا ہے کچھ بھی تو تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔ 
 

شیئر:



متعلقہ خبریں