Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں سندھ کے پانچ مزدور قتل: ’صبر نہیں آ رہا، لاشیں دی جائیں‘

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ہونے والے شدت پسندانہ حملوں کے دوران سندھ سے تعلق رکھنے والے پانچ کم عمر مزدوروں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، تاہم کئی دن گزرنے کے باوجود ان کی لاشیں اب تک ورثاء کے حوالے نہیں کی جاسکیں۔
حکام کے مطابق یہ لاشیں کلیئرنس آپریشن کے دوران ملی تھیں، جبکہ سینکڑوں کلو میٹر دور اہلِ خانہ  اپنے پیاروں کی میتوں کے منتظر ہیں۔
31 جنوری کو نوشکی میں بیک وقت ہونے والے حملوں کے بعد شہر میں تین دنوں تک جنگ جیسی صورتحال رہی۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے پولیس تھانوں، ایف سی ہیڈ کوارٹر، جیل، عدالتوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، کئی مقامات پر آگ لگائی گئی اور خودکش حملے بھی کیے گئے۔
ان واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں، سرکاری ملازمین اور عام شہریوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں کئی حملہ آور مارے گئے۔
نوشکی پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق شہر میں صورتحال اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکی۔ کوئٹہ، تفتان اور خاران کو ملانے والے راستے ایک ہفتے سے زائد عرصے سے بند ہیں، جس کے باعث زخمیوں اور لاشوں کی منتقلی میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں اور اشیائے خورد و نوش کی قلت بھی پیدا ہو گئی ہے۔
حکام کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے راستوں کی کلیئرنس کا عمل تاحال مکمل نہیں ہو سکا، اسی لیے آمدورفت معطل ہے۔ سکیورٹی فورسز کے بیشتر زخمیوں اور لاشوں کو بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کیا گیا۔
بلوچستان پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے جس دوران متعدد لاشیں ملی ہیں۔
ان کے مطابق نوشکی کے گورنمنٹ ڈگری کالج کی زیرِ تعمیر عمارت سے پانچ مزدوروں کی لاشیں برآمد ہوئیں جنہیں گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کیا گیا۔

فیض محمد کا کہنا تھا کہ کئی دن گزرنے کے باوجود ان کے بچوں کی لاشیں انہیں نہیں مل سکیں (فوٹو: سکرین گریب)

ان کا کہنا ہے کہ لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے اور یہ تمام افراد مزدور تھے جو زیرِ تعمیر عمارت پر کام کر رہے تھے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق لاشیں چار سے پانچ روز پرانی معلوم ہوتی ہیں۔
پولیس کے مطابق مقتولین میں سندھ کے ضلع خیرپور سے تعلق رکھنے والے ارشاد احمد اور گھوٹکی کے ایک ہی خاندان کے چار نوجوان شامل ہیں جن کی شناخت کامران احمد، شہزاد حسین، سجاد حسین اور غلام عباس کے نام سے ہوئی ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق شہزاد اور سجاد سگے بھائی تھے۔ غلام عباس ان کا چچا زاد جبکہ کامران خالہ زاد بھائی تھا۔ مقتولین کے والد فیض محمد نے بتایا کہ ان تمام نوجوانوں کی عمریں 15 سے 20 سال کے درمیان تھیں اور وہ کم عمری میں ہی گھر کا خرچ اٹھانے کے لیے مزدوری کرنے بلوچستان گئے تھے۔
فیض محمد کا کہنا تھا کہ کئی دن گزرنے کے باوجود ان کے بچوں کی لاشیں انہیں نہیں مل سکیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ کم از کم ان کے پیاروں کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں تک پہنچائی جائیں تاکہ وہ تدفین کر سکیں۔
 ان کے مطابق یہ نوجوان ایک ٹھیکیدار کے ساتھ کام کے لیے کوئٹہ گئے تھے جس کے مختلف مقامات پر کام ہورہے تھے۔ واقعے سے دو روز قبل وہ انہیں نوشکی لے گیا۔ وہاں ان کی رہائش گورنمنٹ ڈگری کالج کی عمارت میں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے بچوں کو کس نے اور کیوں قتل کیا۔

پولیس حکام کے مطابق نوشکی میں ہونے والے حملوں میں سی ٹی ڈی کے سات اہلکار اور پانچ عام شہری ہلاک ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

مقتولین کے رشتہ دار غازی احمد نے گھوٹکی سے ٹیلی فون پر اردو نیو زکو بتایا کہ 31 جنوری کو نوشکی میں دھماکوں کی خبر کے بعد شہزاد اور سجاد نے گھر فون کر کے خیریت سے ہونے کی اطلاع دی تھی، مگر اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
بعد ازاں کوئٹہ سے اطلاع ملی کہ یہ نوجوان ہلاک ہو چکے ہیں اور ان کی لاشیں ہسپتال میں رکھی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لاشیں پانچ سے چھ روز پرانی ہونے کے باوجود اب تک گھروں کو نہیں بھیجی گئیں۔
غازی احمد کے مطابق اہلِ خانہ کو بتایا جا رہا ہے کہ حالات خراب اور راستے بند ہیں، جبکہ خاندان کے لوگ خود کوئٹہ جانے کی پوزیشن میں بھی نہیں کیونکہ نہ وسائل ہیں اور نہ ہی سکیورٹی صورتحال اجازت دیتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کم از کم لاشوں کی ترسیل کا انتظام کرے۔
فیض محمد نے بتایا کہ وہ موٹر سائیکل پر سامان بیچ کر گھر چلاتے ہیں اور ان کے بیٹے مزدوری کے ذریعے گھر کا سہارا بنے ہوئے تھے۔ ان کے بقول ان کے پاس کوئی جائیداد نہیں اور ان کا سب سرمایہ بس یہی بچے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ گھر میں کسی کو صبر نہیں آرہا ہمیں جلد سے جلد اپنے پیاروں کی متییں پہنچائی جائیں۔
غازی احمد کے مطابق ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان پہلے کراچی میں شٹرنگ کا کام کرتے تھے، بعد ازاں ایک ٹھیکیدار کے ساتھ بلوچستان چلے گئے۔ گھر والوں نے حالات کے پیش نظر انہیں واپس آنے کا مشورہ بھی دیا تھا، مگر انہوں نے بات نہیں مانی۔ انہوں نے بتایا کہ غلام عباس اور سجاد کی شادی بڑی عید کے بعد طے تھی۔

غازی احمد نے کہا کہ لاشیں ان کے حوالے کی جائیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو باعزت طریقے سے دفنا سکیں (فوٹو: سکرین گریب)

ان کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے پیاروں کی جانیں تو نہیں بچا سکی، لیکن اب اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ کم از کم لاشیں ان کے حوالے کی جائیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو باعزت طریقے سے دفنا سکیں۔
پولیس حکام کے مطابق نوشکی میں ہونے والے حملوں میں سی ٹی ڈی کے سات اہلکار اور پانچ عام شہری ہلاک ہوئے، جبکہ ایف سی کیمپ پر دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں ایف سی کے ملازم خطیب مفتی امشد علی خان، ان کی اہلیہ اور تین بچے جان سے گئے۔ اسی واقعے میں ایک جونیئر کلرک حیات خان اور ان کے دو بچے بھی ہلاک ہوئے۔
پولیس کے مطابق مجموعی طور پر نوشکی میں اب تک کم از کم 25 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ متعدد سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی ہیں جن کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائیوں اور آپریشن کے دوران صرف نوشکی میں کم از کم 30 حملہ آور بھی مارے جا چکے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے بلوچستان بھر میں 216 شدت پسندوں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔

 

شیئر: