ہندوستان کا سب سے مالدار گاؤں جہاں کانظارہ دیکھ کرہوجائیںگے ششدر

احمد آباد۔۔۔۔گاؤں کا ذکر آتے ہی گردوغباراورمٹی ،پتھروں سے بھرے راستے ،ٹیڑھی میڑھی پکڈنڈیاں،باغات، کنویں، تالاب ، گھوڑا گاڑی ، کچے پکے مکانات اور تاحد نظر لہلہاتے کھیتوں کا منظر ذہن و دماغ میں گردش کرنے لگتے ہیں۔ لیکن کوئی گاؤں ایسا بھی ہو جہاں کچے مکانات کی جگہ اونچی اور عالیشان عمارتیں اور صاف ستھرے راستے اور سڑکیں جن پر دوڑتی ہوئی مرسڈیز اور بی ایم ڈبلیوکاریں ، گاؤں کے چوراہوں پر میکڈونلڈ اور فاسٹ فوڈ ریستوران نظر آئیں تو آپ کیاکہیں گے۔ایسا ہی گجرات کے آڑند ضلع کا دھرمج گاؤں ہے جہاں کے لوگ شاہانہ ٹھاٹھ باٹ کے ساتھ نظر آتے ہیں۔گاؤں کے لوگ دیہی اور شہری طرز زندگی اختیار کئے ہوئے ہیں۔دھرمج گاؤں کو این آر آئی کا گاؤں کہا جاتا ہے۔ یہاں کے ہر گھر کا ایک شخص بیرون ملک برسرروزگار ہے ۔ تقریباً ہر خاندان کا ایک بھائی گاؤں میں رہ کر کھیتی باڑی کرتا ہے تو دوسرا پردیس میں ملازمت کرتا ہے۔ہندوستان کا یہ پہلاگاؤں ہوگا جس کی تاریخ اور محل وقوع کے بارے میں متعدد مضامین شائع کئے جاچکے ہیں۔اس گاؤں کی ویب سائٹ بھی ہے اوریہاں کے لوگوں کامخصو ص نغمہ بھی ہے۔ گاؤں والوں کے مطابق کم از کم1500خاندان برطانیہ میں 200خاندان کینیڈا میں اور امریکہ میں 300سے زائد خاندان مقیم ہیں۔ گاؤں والوں کا حساب کتاب اور تاریخ محفوظ  رکھنے کیلئے ڈائریکٹری بھی تیار کی گئی ہے جس میں کو ن ، کب اور کہاں دنیا کے کس علاقے میں جاکر آبادہوا۔ گاؤں میں دولت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں ایک درجن سے زائد اسکول اور بینک قائم ہیں جہاں ایک ہزار کروڑ سے زائد رقم جمع ہے۔گاؤں میں میکڈونلڈ، پزا، برگر، پارلر اور عالمی سطح کے ریستوران کے علاوہ آیورویدک اسپتال سے لیکرجدید سہولتوں سے آراستہ اسپتال بھی ہیں۔تقریباً12ہزار افرادپر مشتمل اس گاؤں میں حکومت کی جانب سے چلائے جانیوالے سرکاری اسکول کے علاوہ مشہور اقامتی اسکول بھی ہیں۔یہاں پرانے طرز تعمیر کے مکانات کے علاوہ جدید طرز کی عالیشان عمارتیں ، سوئمنگ پول وغیرہ بھی ہیں۔ یہاں زیادہ تر پاٹیدار برادری کے لوگ آباد ہیں۔ان کے علاوہ بنیا، برہمن، اور دلت طبقے کے لوگ بھی ہیں۔دھرمج گاؤں کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ حکومت کی مدد کے بغیر ترقی کے بام عروج پر پہنچا۔ یہاں کی سڑکیں اور چوراہے بین الاقوامی سطح کے شہروں کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔اس گاؤں کے لوگ ترقی اور خوشحالی کیلئے دل کھول کر بیرون ملک سے رقوم ارسال کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:- - - - -25سال کے بوڑھوں والا گاؤں!

شیئر: