ڈاکٹر کے ساتھ مارپیٹ پر صفدر گنج اسپتال میں ہڑتال

نئی دہلی۔۔۔صفدر گنج اسپتال میں ڈاکٹرکے ساتھ مارپیٹ کے واقعہ میں ملوث اسپتال کے ڈیوٹی افسر وپولیس اہلکار ونود اورحولدار ویریندر کو معطل کردیا گیا۔زخمی ڈاکٹر رویندر ٹھاکر کی شکایت پر صفدر گنج انکلیو تھانے میں رپورٹ درج کرائی گئی ۔پولیس نے جائے وقوعہ پر نصب سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانے کی کوشش شروع کردی۔جنوبی ضلع پولیس افسروں کے مطابق گھیٹورنی کے رہنے والے اکشے اپنے دوست کے ساتھ پیٹ میں درد اور ہائیڈروسیل کے علاج کیلئے صفدر گنج اسپتال پہنچا ۔الزام ہے کہ اس نے ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر رویندر ناتھ ٹھاکر کے ساتھ بدزبانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مار پیٹ کی جس سے ڈاکٹر کی ناک سے خون نکلنے لگا اور ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ واقعہ کے بعد ڈاکٹروں نے اسپتال کے شعبہ ایمرجنسی میں کام بند کردیا۔ڈاکٹروں کی شکایت پر اکشے اور اس کے دوست کیخلاف کیس درج کرلیا گیا۔پولیس نے بتایا کہ سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل کی جانے والی فوٹیج کے معائنے کے بعد ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئے گی۔ پو لیس نے ڈاکٹروں سے ہڑتال واپس لینے پر اصرارکیا تاہم ڈاکٹروں ، ملازمین اور کارکنوں نے پیر کو ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر پرکاش ٹھاکر نے کہا کہ ایمرجنسی وارڈ میں روزانہ 1500 مریضوں اور ان کے رشتے داروںسمیت 5، 6ہزار افراد کی آمدورفت ہوتی ہے۔اژدہام کو قابومیں رکھنے سیکیورٹی گارڈ تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے 500بستروں والے اس ایمرجنسی سینٹر میں وزارت کی جانب سے منظور شدہ350گارڈز تعینات ہیں ۔واضح ہو کہ صفدر گنج اسپتال میں ملک کا سب سے بڑا ایمرجنسی شعبہ قائم ہے جہاں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث مریضوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔امید ہے کہ وزارت کے افسران سے ڈاکٹروں اور اسپتال انتظامیہ کے مابین میٹنگ میں معاملات حل کرلئے جائیں گے۔
مزید پڑھیں:- - - - - -کانگریس یوپی کی تمام نشستوں پر الیکشن لڑے گی، غلام نبی آزاد

شیئر: