Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فلسطینی بحران کس کھڈ میں گرنے جارہا ہے

ماجد الشیخ ۔ الحیاة
فلسطین کی قومی صورتحال دن بدن تیزی کیساتھ انارکی کے راستے پر چل پڑی ہے۔کوئی ایسا ہوشمند فلسطینی رہنما منظر عام پر نہیں آرہا جو انحطاط کی طرف جانے والے فلسطینی کاررواں کے پہیے کوبریک لگا سکے۔ فلسطینی سیاسی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔جغرافیائی اور سیاسی علیحدگی کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ بعض فلسطینی فریق اپنے حریف فلسطینی کے مقابلے میں دشمن کی آﺅ بھگت میں لگے ہوئے ہیں۔ اسرائیل مقبوضہ علاقوں پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کیلئے دن رات کوشاں ہے۔ 
فی الوقت فلسطینیو ںمیں اقتدار کی رسہ کشی نکتہ عروج کو پہنچی ہوئی ہے۔دونوں ایک دوسرے کو جھکانے اور ایک دوسرے کی ہڈیاں توڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی بین الاقوامی مدد سے یہ چکر چلائے ہوئے ہے۔ فلسطینیوں کے یہاں فی الوقت مشترکہ قیادت کا فقدان ہے۔ ہر ایک ناقص نمائندگی کی کمزوری میں مبتلا ہے۔ اب فیصلے فلسطینیوں کے اپنے نہیں رہے۔ اسرائیلی اورعلاقائی طاقتیں فلسطینی قائدین سے اپنے اپنے دائرہ اثر میں اپنی اپنی منوا رہے ہیں۔فلسطین میں جو کچھ ہورہا ہے وہ گزشتہ 70 برس میں کبھی نہیں ہوا۔
دونو ںفریق بلکہ فلسطینیوں کے تمام فریق درپیش صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ ذمہ داری کا تناسب مختلف ہے۔ اب تک مصالحت کیلئے جتنے مکالمے ہوئے سب کے سب نہ صرف یہ کہ ناکام ہوگئے بلکہ تفرقہ کے عمل کو مزید گہرا کر گئے۔ غزہ پٹی اور غرب اردن کے درمیان سیاسی، جغرافیائی علیحدگی کا ماحول پختہ سے پختہ تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ غزہ پٹی کے خلاف یکطرفہ تادیبی اقدامات کے مزید تباہ کن نتائج برآمد ہونگے۔ فلسطینی اتھارٹی کا غزہ پٹی کے عوام سے دستبردار ہوجانا اور انہیں حماس کی گود میں ڈال دینا کسی طوردرست فیصلہ نہیں تھا۔ یہ مان کر کہ غزہ پٹی کے تمام باشندے حماس سے منسوب ہیں سراسر غلط ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے غزہ پٹی کے باشندو ںسے جس لاتعلقی کا اظہار کیا تھا اُس سے یہ بات پکی ہوگئی کہ فلسطینی اتھارٹی کا وژن خام خیالی پر مبنی تھا۔ آج بھی صورتحال یہی ہے۔ دوسری جانب حماس اورانکی پشت پر موجود اخوانی اور دیگر گروپ اقتدار سے چپکے رہنے اور غزہ پٹی پر حماس کے غلبے کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں پرجوش ہیں ۔انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ اس قسم کے رویئے سے حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان تباہ کن علیحدگی ہوسکتی ہے۔ یہ فلسطینی بحران کے انحطاط کی انتہا ہوگی۔
فلسطینی جدوجہد کی ایک بنیادی ضرورت یہ ہے کہ تمام فریق فلسطینی سیاسی نظام کے منظر نامے پر نظرثانی کریں۔ اصلاحات کا اہتمام کریں۔ سیاسی نظام کو جدید تر و ہمہ جہتی بنائیں۔ تمام فلسطینی طاقتوں کی نمائندگی کا اہتمام کریں۔
ان دنوں فلسطین میں جو کچھ ہورہا ہے وہ تباہی کا مرحلہ ہے۔ یہ از خود اپنے آپ کو تباہ کرنے کے مماثل ہے۔ فلسطینی قومی تحریک نے انقلاب اور انتفاضہ کے دور میں جو کچھ کمایا وہ سب تباہ ہوجائیگا۔ اسکا فائدہ صرف قابض حکام اور مسئلہ فلسطین کے مخالفین کو ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: