سعودی عرب پاکستان کے لیے ’نو گو ایریا‘ ہے، ڈپٹی وزیراعظم کا امریکہ ایران تنازع کے دوران بیان
سعودی عرب پاکستان کے لیے ’نو گو ایریا‘ ہے، ڈپٹی وزیراعظم کا امریکہ ایران تنازع کے دوران بیان
جمعرات 7 مئی 2026 13:29
پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسلام آباد نے امریکہ ایران تنازع میں شامل تمام فریقوں کو خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے لیے ایک ’نو گو ایریا‘ ہے، جو گذشتہ سال دستخط شدہ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت مملکت کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اسحاق ڈار کے یہ ریمارکس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں، جو ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان مہینوں کی محاذ آرائی کے بعد خلیجی ممالک کو شامل کرتے ہوئے ایک بڑے مشرق وسطیٰ تنازع کے خدشات کو جنم دے رہی ہے۔
انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ چھٹی بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے تنازع میں شامل فریقوں سے کہا کہ، ’براہ کرم، سعودی عرب ہمارے لیے نو-گو ایریا ہے۔ کوئی اس پر بری نظر بھی نہ ڈالے۔‘
پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں یک اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس نے دہائیوں پر محیط فوجی اور سلامتی کے تعاون کو باضابطہ شکل دی۔ اس معاہدے کے مطابق ایک ملک پر جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اسلام آباد و ریاض کے درمیان مشترکہ دفاعی انتظامات کو مزید مضبوط کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کا پابند ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستانی فوجی اہلکار، بشمول فضائیہ کا دستہ، پہلے ہی مملکت میں تعینات ہیں۔
پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات ہیں، جن میں فوجی تربیت، دستوں کی تعیناتی اور سلامتی کے تعاون کی دہائیوں پر محیط تاریخ شامل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے مقدس مقامات کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’دو مقدس مساجد کا تحفظ، دفاع اور سلامتی ہمارے لیے ہماری جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔‘
شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کی تعریف بھی کی (فوٹو: وزیراعظم آفس)
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے اس عزم کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں اپنے نہایت عزیز بھائی، سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ کیونکہ انہوں نے ان امن مذاکرات میں بھرپور کردار ادا کیا۔‘
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں خود کو علاقائی سفارت کاری میں ثالث کے طور پر پیش کیا ہے، اور اپریل میں اسلام آباد میں امریکہ ایران براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کی جو دہائیوں بعد دونوں فریقوں کے درمیان پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔