ریاض میں تنزانیہ کی جڑی ہوئی بچیوں کا آپریشن کا پہلا مرحلہ شروع
سعودی کونجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کی طبی ٹیموں نے جمعرات کو 18 ماہ کی تنزانیہ کی جڑی ہوئی بچیوں نینسی اور نائس کو علیحدہ کرنے کے پیچیدہ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ سرجری ریاض میں واقع کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں کی جا رہی ہے۔
سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی میڈیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ بچیوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا ہے۔ یہ دونوں بچیاں سینے کے نچلے حصے، پیٹ اور کولہے کے حصے میں جڑی ہوئی ہیں۔ جب وہ جنوری کے آخر میں سعودی عرب پہنچیں تو ان کا مکمل طبی جائزہ لیا گیا۔
35 کنسلٹنٹس، ماہر ڈاکٹروں اور معاون عملے پر مشتمل ٹیم یہ علیحدگی کا عمل 10 مراحل میں انجام دے گی جس میں تقریباً 16 گھنٹے لگنے کی توقع ہے۔
الربیعہ نے کہا کہ یہ عمل نہایت نازک ہے، لیکن اس کی کامیابی کی شرح 60 فیصد ہے۔
نینسی اور نائس تنزانیہ کی تیسری جڑواں بچیاں ہیں جنہیں سعودی کونجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کے تحت علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام 1990 میں شروع ہوا تھا، اور اب تک مجموعی طور پر 71 جڑواں بچوں کے آپریشن کیے جا چکے ہیں۔

اب تک ٹیم نے پانچ براعظموں کے 28 ممالک سے آنے والے مجموعی طور پر 157 کیسز کا جائزہ لیا ہے۔
فلپائنی جڑواں بچیاں کلیا اور موریس این کو گزشتہ ماہ ایک کامیاب سرجری کے ذریعے علیحدہ کر دیا گیا جو 18 گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔