Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سانحہ ساہیوال: تحقیقات کا وقت کم ملا‘ رپورٹ حتمی نہیں‘ سربراہ جے آئی ٹی

ساہیوال: شادی میں جانے والے خاندان پر سی ٹی ڈی اہل کاروں کی فائرنگ کے واقعہ پر بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ آج پیش کی جانے والی رپورٹ کو حتمی نہیں کہا جا سکتا۔ قبل ازیں اعجاز شاہ کی سربراہی میں جے آئی تی کی ٹیم نے ساہیوال میں جائے وقوع کا دورہ کیا اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ پہلے پولیس کی جانب سے آلٹو کار پر فائرنگ کی گئی، اس کے بعد بچوں کو گاڑی سے نکالا گیا، بعد ازاں مزید اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ پھر پولیس کی گاڑی موقع سے فرار ہوگئی، جس کے بعد ایک اور ایلیٹ کی گاڑی نے آکر لاشوں کو آلٹو کار سے نکالا اور پولیس کی گاڑی میں ڈال کر لاشیں لے گئے۔ ایڈیشنل آئی جی نے عینی شاہدین سے سوال کیا کہ پہلا فائر کس گاڑی سے کیا گیا تھا؟، جس پر عینی شاہدین نے جواب دیا کہ پہلا فائر پولیس ہی کی گاڑی سے کیا گیا تھا جبکہ مرنے والوں کی گاڑی سے کوئی فائرنگ نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی اسلحہ یا بارود برآمد ہوا۔ بعد ازاں ایڈیشنل آئی جی اعجاز شاہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑا سانحہ ہے جس کی تحقیقات کے لیے ہمیں کم وقت دیا گیا ہے۔ اتنے بڑے واقعے کی 3 روز میں رپورٹ نہیں دی جاسکتی، تاہم ابتدائی تحقیقات میں عینی شاہدین کے بیان قلمبند کیے اور جائے وقوع کا جائزہ لیا ہے، تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ تکنیکی بنیادوں پر کام جاری ہے۔ کوشش ہے کہ آج رپورٹ مرتب کرلیں، تاہم اسے ہم حتمی نہیں کہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی کے 6 لوگ زیر حراست ہیں جن سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
 
 

شیئر: