شام کا ایس ڈی ایف کے ساتھ جنگ بندی میں 15 روز کی توسیع کا اعلان
شام کا ایس ڈی ایف کے ساتھ جنگ بندی میں 15 روز کی توسیع کا اعلان
اتوار 25 جنوری 2026 8:52
معاہدے میں توسیع کا اعلان سنیچر کو اس کی مدت ختم ہونے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ (فوٹو: نارتھ پریس ایجنسی)
شام کی وزات دفاع نے کُرد قیادت میں متحرک سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ جنگ بندی میں 15 روز کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ اعلان سنیچر کو جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔
وزارت دفاع کی جانب جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ توسیع امریکی فورسز کی جانب سے شمال مشرقی شام کی جیلوں میں قید داعش کے عسکریت پسندوں کی عراق کے حراستی مراکز میں منتقلی کی حمایت میں کی گئی ہے۔
دوسری جانب ایس ڈی ایف نے بھی جنگ بندی میں توسیع کی تصدیق کی ہے۔
گروپ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم معاہدے کے حوالے سے اپنے عزم اور احترام کی تصدیق کرتے ہیں جو کہ کشیدگی میں کمی، شہریوں کے تحفظ کے علاوہ وہ حالات بنانے میں معاون ہے جو استحکام کے لیے ضروری ہے۔‘
پچھلے تین ہفتوں کے دوران حکومتی فوج اور ایس ڈی ایف کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں ایس ڈی ایف نے اپنے زیر کنٹرول کافی علاقہ کھویا۔
اس سے قبل کرد قیادت میں کام کرنے والے گروپ نے بین الاقوامی برادری سے سے مطالبہ کیا تھا کہ صورت حال کو کشیدگی کی طرف جانے سے روکا جائے۔
شام کی عبوری حکومت نے پچھلے مہینے ایس ڈی ایف کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت گروپ اپنے زیرکنٹرول علاقوں کو حکومت کے حوالے کرے گا اور اپنے جنگجوؤں کو سرکاری فوج میں ضم کرے گا۔
تاہم جنوری کے اوائل میں انضمام کے حوالے سے ہونے والا مذاکرات کا دور ناکام ہوا جس کے نتیجے فریقین کے درمیان پھر سے لڑائی شروع ہوئی۔
معاہدے کے نئے ورژن پر پچھلے ہفتے کے اواخر میں دستخط ہوئے تھے اور منگل کو چار روز کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، نئی ڈیل میں یہ ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ ایس ڈی ایف کے ارکان کو پولیس یا فوج میں ضم ہونا پڑے گا۔
ایس ڈی ایف کی جانب سے سنیچر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ سرکاری فوج اور ساز و سامان کی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے جو واضح طور پر کشیدگی میں اضافے اور خطے کو نئے تصادم کی طرف دھکیلنے کی نشاندہی کرتی ہے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایس ڈی ایف جنگ بندی کی پابندی جاری رکھے گا۔
منگل کے روز کرد فورسز کی جانب سے حکومت کے لیے کچھ علاقہ چھوڑے جانے کے بعد دمشق اور ایس ڈی ایف نے چار روز کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔
تین ہفتے کے دوران شدید جھڑپوں کے بعد چار روزہ جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا (فوٹو: روئٹرز)
دمشق میں موجود ایک سورس نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ’جنگ بندی کے معاہدے کو زیادہ سے زیادہ ایک مہینے تک بڑھایا جائے گا۔‘
شام کے ایوان صدر نے 20 جنوری کو اعلان کیا تھا کہ وہ صوبہ حسکہ سے متعلق کئی معاملات پر ایس ڈی ایف کے ساتھ مفاہمتی نکات تک پہنچ گیا ہے۔
اس کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ ایس ڈی ایف کو مشاورت کے لیے چار روز دینے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ اس کے دوران علاقوں کے انضمام کے حوالے سے تفصیلی منصوبہ تیار کیا جا سکے۔
اس کے بعد شام کی وزارت دفاع نے بھی چار روز کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران سنیچر کو داعش سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں قیدیوں کو شام سے عراق منتقل کیا جاتا رہا اور یہ امریکہ کے اس اعلان کے بعد دوسری کھیپ تھی جو دہشت گردوں کی منتقلی سے متعلق ہے۔
عراق کے ایک سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ ’قیدیوں کی منتقلی کا آپریشن جاری ہے اور امریکی فورسز زیر حراست افراد کو زمینی اور ہوائی راستوں کے ذریعے منتقل کر رہی ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج ایک ہزار تک داعش کے قیدیوں کو لایا جانا متوقع ہے۔‘
اسی طرح ایک اور سکیورٹی سورس کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ منتقلی کا کام جاری ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ زیر حراست افراد جن میں عراقی اور یورپی باشندے بھی شامل ہیں، کو عراق کی تین جیلوں میں رکھا جائے گا۔