محمد عمران نے ابتدا میں کراچی کے شاپنگ مال ’گل پلازہ‘ میں لگنے والی آگ کو سنجیدہ نہیں لیا۔ جب آگ لگی تو انہیں لگا کہ یہ بھی پہلے کی طرح ایک معمولی چنگاری ہوگی جسے دکان دار مل کر فوراً بجھا لیں گے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کو محمد عمران نے بتایا کہ آگ لگنے کے چند ہی لمحوں بعد دھواں وینٹیلیشن ڈکٹس کے ذریعے پلازے میں پھیل گیا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد شاپنگ مال کی بجلی بند ہو گئی اور موبائل فون کی لائٹس بھی بے کار ہو گئیں۔ اندھیرا اس قدر تھا کہ لوگ اپنے ہاتھ تک بھی نہیں دیکھ پا رہے تھے۔
محمد عمران کو ذیابیطس لاحق ہے اور وہ دل کی ایک سرجری بھی کروا چکے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’چند قدم چلنے کے بعد ہی میں ہمت ہار چکا تھا، یہ قیامت جیسا منظر تھا، ساتھ کھڑا شخص تک بھی نظر نہیں آرہا تھا۔‘
مزید پڑھیں
یاد رہے کہ کراچی کے مشہور شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں قریباً دو روز تک یہ آگ بھڑکتی رہی اور 1200 دکانوں پر مشتمل یہ کثیرالمنزلہ تجارتی مرکز مکمل طور پر جل گیا۔ گل پلازہ میں بچوں کے کپڑے، کھلونے، کراکری اور گھریلو سامان وغیرہ کی دکانیں تھیں۔
کراچی پولیس کے افسر اسد علی رضا کے مطابق 17 جنوری کو ہونے والے اس حادثے میں ’کم سے کم 67 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 15 افراد تاحال لاپتا ہیں اور ان کے زندہ بچنے کا امکان بہت کم ہے۔‘ یہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران کراچی میں آتشزدگی کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔
محمد عمران سمیت درجنوں افراد نے ’روئٹرز‘ کو بتایا کہ ان کے بچاؤ میں سب سے بڑی رکاوٹ بند دروازے، ناقص وینٹیلیشن اور تنگ اور بھری ہوئی راہداریاں تھیں۔ جب وہ کسی طرح باہر نکلے تو انہوں نے گل پلازہ کو جلتے اور منہدم ہوتے دیکھا جبکہ ریسکیو کارروائیاں تاخیر اور محدود وسائل کا شکار رہیں۔
پولیس کے مطابق آگ غالباً ایک مصنوعی پھولوں کی دکان سے لگی اور امکان ہے کہ بچوں کے ماچس سے کھیلنے کے باعث حادثہ پیش آیا۔ پولیس نے بتایا کہ 16 میں سے 13 راستے بند تھے اور ان کا بند ہونا رات 10 بجے کے بعد معمول کی بات تھی۔
’روئٹرز‘ کی جانب سے دیکھے گئے سرکاری دستاویزات کے مطابق گل پلازہ کراچی کے تاریخی کاروباری مرکز کی ایک مرکزی سڑک پر سنہ 1980 کی دہائی کے اوائل میں تعمیر ہوا تھا۔ دستاویزات کے مطابق گل پلازہ میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی تھی۔ دو سال قبل ہونے والے آخری سروے میں حکام نے صورتحال کو ’انتہائی سنگین‘ قرار دیا تھا۔
گل پلازہ کی انتظامیہ نے تبصروں کے لیے کی گئی متعدد درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
’لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی‘
محمد عمران بتاتے ہیں کہ ’راستے بند ہونے کی وجہ سے لوگ شدید گھبراہٹ کا شکار تھے اور رو روہے تھے۔‘
’اندھیرے میں لوگوں نے بند دروازے توڑے اور باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، لوگوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر انسانی زنجیریں بنا رکھی تھیں تاکہ کوئی گم نہ ہو جائے۔‘

’جب نیچے جانے کا کوئی راستہ نہ ملا تو لوگ چھت کی طرف دوڑے جہاں خواتین اور بچوں سمیت 70 کے قریب افراد تقریباً ایک گھنٹے تک پھنسے رہے۔‘
وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’پھر ہوا کا رخ بدل گیا عمارت کے ڈیزائن کے باعث دھواں اوپر کی طرف اٹھ رہا تھا اور وہاں بھی کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، حتیٰ کہ ساتھ والی عمارتیں بھی اوجھل تھیں۔‘
پھر ہوا کا رخ بدل گیا اچانک دھواں چھٹ گیا اور ساتھ واقع رمپا پلازہ نظر آ گیا۔ نوجوان لڑکے پہلے وہاں پہنچے، ایک ٹوٹی ہوئی سیڑھی تلاش کی اور لوگوں کو ایک ایک کر کے دوسری عمارت میں منتقل کرنا شروع کیا۔
محمد عمران بتاتے ہیں کہ ’میں سب سے آخر میں نکلا، میں چاہتا تھا کہ پہلے سب محفوظ ہو جائیں۔ دوسری طرف ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینسز موجود تھیں۔‘
ہم نے گل پلازہ جلتا ہوا دیکھا
بچ جانے والے کئی افراد کا کہنا ہے کہ فائر بریگیڈ کا ردِعمل نہ صرف تاخیری تھا بلکہ ناکافی بھی ثابت ہوا۔ محمد عمران اور دیگر دکانداروں نے بتایا کہ وہ عمارت سے باہر نکل آئے تھے اور پہلی فائر بریگیڈ کے پہنچنے تک گل پلازہ کو شعلوں میں گھرتا ہوا دیکھتے رہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان سکھدیو اسر داس ہیمنانی نے بتایا کہ ’پہلی ایمرجنسی کال رات 10 بج کر 26 منٹ پر ایک کم عمر لڑکے نے کی، جس کے بعد دس منٹ کے اندر دو فائر گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور آگ کو گریڈ تھری قرار دیا گیا، جو شہری علاقوں میں آگ کی سب سے سنگین سطح ہوتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’رات 10 بج کر 45 منٹ تک شہر بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، جس کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں سے وسائل اور نفری طلب کی گئی۔‘
دکانداروں کا کہنا تھا کہ پہلی فائر گاڑی کا پانی جلد ہی ختم ہو گیا اور وہ دوبارہ بھرنے کے لیے واپس چلی گئی تاہم حکومتی ترجمان نے ان الزامات کو غلط قرار دیا۔

ان کے مطابق ’فائر فائٹرز نے آگ بجھانے کے لیے پانی، فوم، کیمیکلز اور ریت کا استعمال کیا، مگر عمارت میں 50 سے زائد گیس سلنڈر اور آتش گیر اشیا جیسے پرفیوم، جنریٹر کا ایندھن اور کار بیٹریاں موجود ہونے کے باعث آگ پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو گیا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’فروری تا مارچ مقدس ماہِ رمضان کے باعث بیشتر دکانیں سامان سے مکمل طور پر بھری ہوئی تھیں۔‘
ترجمان کے مطابق ’پہلی فائر گاڑی تاخیر کا شکار نہیں ہوئی، تاہم بعد میں آنے والی گاڑیوں کو سنیچر کی مصروف رات، شدید ٹریفک اور شاپنگ مال کے باہر جمع قریباً تین ہزار افراد کے ہجوم کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔‘
دوسری جانب فائر ڈیپارٹمنٹ نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
’اب وہ ہمارے درمیان نہیں‘
متاثرین کے مطابق لاپتہ افراد میں زیادہ تر دکانوں کے ملازمین اور تاجر شامل ہیں جو دوسروں کو باہر نکالنے میں مدد کر رہے تھے یا اپنے اہلِ خانہ کو تلاش کرنے کے لیے دوبارہ عمارت میں داخل ہو گئے تھے۔
گل پلازہ میں گزشتہ دو دہائیوں سے کھلونوں کی دکان پر کام کرنے والے عبدالغفار نے بتایا کہ ان کے ایک کزن بھی انہی لاپتہ افراد میں شامل ہیں، جو لوگوں کو محفوظ مقام تک پہنچانے میں مدد کے بعد لاپتہ ہو گئے۔












