شہزاد اکبر اور عادل راجہ پر حملے کی سازش کا الزام، برطانوی عدالت میں تین ملزمان پیش
استغاثہ کے مطابق شہزاد اکبر پر کیمبریج میں ان کے گھر میں ایک نقاب پوش شخص کی جانب سے چہرے پر کئی وار کیے گئے (فوٹو: اے پی پی)
تحریک انصاف حکومت کے سابق مشیر شہزاد اکبر پر حملہ کرنے کی سازش میں شامل ہونے کے الزام میں سنیچر کو برطانیہ کی عدالت میں تین ملزمان پیش ہوئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق استغاثہ کے وارن سٹینیئر نے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ کو بتایا کہ یہ تینوں برطانوی شہری ایک ’منظم اور منصوبہ بندی‘ سئ کیے گئے حملے کا حصہ تھے، جس کے تحت انہوں نے 24 دسمبر کو تقریباً ایک ہی وقت میں شہزاد اکبر اور عادل راجہ کے گھروں پر جا کر ان پر حملہ کرنا تھا۔
استغاثہ کے مطابق شہزاد اکبر پر کیمبریج میں ان کے گھر میں ایک نقاب پوش شخص کی جانب سے چہرے پر کئی وار کیے گئے جس نے ان کا نام لے کر ان کے بارے میں پوچھا تھا۔
اسی دوران دو مرد لندن کے شمال مغرب میں چیشرم میں رہائش پذیر سابق فوجی افسر سے یوٹیوبر بننے والے عادل راجہ کے گھر گئے اور اندر گھسنے کی کوشش کی جو گھر میں موجود نہیں تھے۔
ایک ہفتے بعد، دو افراد، جن میں سے ایک کے پاس مبینہ طور پر اسلحہ تھا، شہزاد اکبر کے پتے پر کھڑکی توڑ کر اندر جلتا ہوا کپڑا پھینکنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ تاہم اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس نے کہا کہ واقعات کی ’انتہائی مخصوص نوعیت‘ کے سبب تفتیش کاؤنٹر ٹیررازم افسران کی نگرانی میں کی جا رہی ہے۔
40 سالہ کارل بلیک برڈ پر حملے اور نقصان پہنچانے کی دو سازشوں کے الزامات ہیں، جبکہ 39 سالہ کرس مکاولے کو اسی نوعیت کے ایک الزام کا سامنا ہے۔ 21 سالہ دونیتو برامر پر اسلحہ رکھنے اور آتش زنی کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تینوں مردوں نے کوئی مؤقف ظاہر نہیں کیا اور انہیں 13 فروری کو لندن کی اولڈ بیلی کورٹ میں اگلی پیشی تک حراست میں رکھا گیا ہے۔
مزید تین افراد کو بھی تفتیش کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم انہیں یا تو رہا کر دیا گیا یا ابھی تک ان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔
