Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فوج کے حکم پر وادی تیراہ کو خالی کرنے کے دعوے بےبنیاد ہیں، وزارت اطلاعات

عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کی وجہ سے مقامی افراد نقل مکانی کر رہے ہیں (فوٹو: ریسکیو 1122)
پاکستان کی وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کی وادی تیراہ کو مبینہ طور پر فوج کے احکامات پر ’خالی‘ کرنے کے دعووں کو  ’بے بنیاد‘ اور ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے اتوار کو ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ’حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ دعوے بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔‘
وزارت اطلاعات و نشریات  نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں اور اس دوران پُرامن شہریوں کی زندگی کے متاثر نہ ہونے کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔ ان کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے۔‘
بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’وادی تیراہ میں  مقامی آبادی شدت پسندوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور تیراہ میں امن و استحکام چاہتی ہے۔‘
’ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق مجوزہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئیں۔ اس میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور دیگر مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے اور عمل کیمپوں کے بغیر مکمل کیا جائے گا۔‘
یاد رہے کہ جمعے کو وادی میں مجوزہ آپریشن کی تیاری کے سلسلے میں تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے بڑی تعداد میں خاندان ضلع خیبر میں برفانی طوفان کے باعث پھنس گئے تھے، جن میں سے 1,500 سے زائد افراد کو ریسکیو 1122 کے مطابق محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

 

شیئر: